وزیراعظم عمران خان، فوج اور آئی ایس آئی کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں، بلاول

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2021
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کراچی میں جلسے سے خطاب کررہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کراچی میں جلسے سے خطاب کررہے ہیں— فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان، فوج اور آئی ایس آئی سمیت ملک کے تمام اداروں کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں اور خان صاحب کا نیا پاکستان تبدیلی نہیں تباہی ہے۔

کراچی کے جناح گراونڈ میں سانحہ کار ساز کے شہدا کی برسی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے واقعے کے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ کیا دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی بے نظیر بھٹو کی کوئی مثال ملتی ہے، کیا دنیا کی تاریخ میں کوئی اتنی بہادر بیٹی پیدا ہوئی ہے، جس کو کہا جائے کہ ایک آمر آپ کو قتل کرنا چاہ رہا ہے، دہشت گرد آپ کو قتل کرنا چاہ رہے ہیں، آپ آمر مشرف اور دہشت گردوں کے خلاف لڑنے، الیکشن میں حصہ لینے اور آمریت سے نجات دلانے کے لیے پاکستان نہ آئیں اور باہر سے بھی الیکشن مہم چلا سکتی ہیں اور دبئی میں بیٹھ کر وزیراعظم بن سکتی ہیں۔

بلاول نے کہا کہ لیکن بے نظیر بھٹو نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے عوام اور وطن کے لیے واپس آنا ہے۔

مزید پڑھیں: بلاول بھٹو عوام کو اس بھیانک دور سے نجات دلائیں گے، وزیر اعلیٰ سندھ

انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نہ دہشت گردوں اور پرویز مشرف سے ڈری اور نہ پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک بھی جیالا ڈرا، دنیا میں آپ کو پیپلز پارٹی کے جیالوں جیسے سیاسی کارکن کی مثال نہیں ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 18 اکتوبر کو دنیا کو پتا چلا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے بم دھماکے سے بھی نہیں ڈرتے بلکہ جب دھماکے ہوتے ہیں تو ہمارے کارکن اپنی قیادت کی طرف بھاگتے ہیں اور دھماکے سے نہیں بھاگتے۔

بلاول نے کہا کہ قائد عوام اور بے نظیر بھٹو نے ہمیں معیشت چلانے کے لیے غریب دوست پالیسیاں سکھائی تھیں، شہید بے نظیر بھٹو اس ملک کے نوجوانوں کو روزگار دلانے کی امید دلا رہی تھیں اور ملک کے سفید پوش طبقے کو یہ امید دلا رہی تھیں کہ انہیں ان کی محنت کا صلہ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا بنیادی فلسفہ ہے کہ ہم اس ملک کے عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دلوانا چاہتے ہیں اور قائد عوام اور بے نظیر بھٹو نے یہ وعدہ پورا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اگلا وزیراعظم جیالا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے کہا کہ اگر پہلے مہنگائی تھی تو آج بھی مہنگائی ہے، تب غربت اور بے روزگاری تھی تو آج تاریخی غربت اور بے روزگاری ہے، اگر کل آمریت تھی تو آج یہ کٹھ پتلی نظام میں آمریت ہی ہے، ہمیں تب بھی پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے اور آج بھی پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو اپنا وعدہ پورا کرتی ہے، وہ واحد جماعت ہے جو عوام دوست معیشت، منصوبہ بندی اور سیاست پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خان صاحب نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا، 50 لاکھ گھروں کا وعدہ کیا تھا، اس شہر کراچی سے نجانے کتنے وعدے کیے تھے لیکن ہر وعدہ جھوٹا اور دھوکا نکلا، ہر بات پر یوٹرن لیا گیا، آج کراچی کے عوام عمران خان سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ ایک کروڑ نوکریاں کہاں گئیں، 50 لاکھ گھر کہاں گئے، آپ قبضے کے نام پر غریب سے چھت چھین رہے ہیں اور جن کے پاس روزگار تھا ان سے آپ روزگار چھینا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وزیراعظم چور ہے، جتنی مہنگائی اس وقت اتنی پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں رہی تو عمران خان کے بقول جتنا بڑا چور اس وقت ہمارا کٹھ پتلی وزیراعظم ہے اتنا بڑا پاکستان کی تاریخ میں کوئی وزیراعظم چور نہیں رہا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف اور عمران خان نے ہمارا منشور کاپی کیا، بلاول بھٹو زرداری

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بجلی، گیس، پیٹرول بے انتہا مہنگا ہے، یہ ہے خان صاحب کا نیا پاکستان، یہ عمران خان کی تبدیلی نہیں تباہی ہے، خان صاحب نے ہماری معیشت کی تباہی کا بندوبست کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی-آئی ایم ایف ڈیل کے خلاف پیپلز پارٹی کے جیالے پہلے دن سے احتجاج کررہے ہیں اور جس رفتار سے غربت، مہنگائی اور بے روزگاری آپ کی پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کی وجہ سے دن بدن بڑھتی جا رہی ہے جس سے زندگی جینا مشکل ہو گئی ہے۔

بلاول نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کا نعرہ نہیں بلکہ تاریخ ہے کہ جب ہم حکومت میں آتے ہیں تو ہم اس ملک کے نوجوانوں کو روزگار دلواتے ہیں، ہم یہ وعدہ نہیں کر سکتے کہ سارے معاشی حالات ایک دن میں صحیح ہوں گے لیکن یہ وعدہ ضرور کر سکتے ہیں کہ جب پیپلز پارٹی کی حکومت ہو گی تو عوام دوست حکومت ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے عوام مہنگائی میں ڈوب رہے ہیں تو ہم اپنے عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے، ہم سے روزگار چھینیں گے نہیں بلکہ عوام کو روزگار دلوائیں گے، ہم چھت نہیں گرائیں گے بلکہ مکان بنائیں گے، ہم غریب کو نہیں غربت کو مٹائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی کے واقعات پر چین کے تحفظات دور کیے جائیں، بلاول بھٹو زرداری

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اب اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے ہیں، ہم کسی اور کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اس ملک کی قیادت کا فیصلہ کرے، وہ اس ملک کے وزیراعظم کا فیصلہ کرے کیونکہ اگر فیصلہ ہونا ہے تو وہ اس ملک کے عوام نے کرنا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ سب کو نظر آرہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت آ رہی ہے، میرا اس ملک کے عوام سے وعدہ ہے کہ پہلے دن سے ہم تنخواہ اور پنشنز میں اضافہ کریں گے، پہلے دن سے اس ملک کے نوجوان کو روزگار دلوانا شروع کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کے عوام کے لیے صرف پیپلز پارٹی کے جیالے ہی آواز اٹھاتے رہے ہیں اور جب تک ہم اس عمران خان کو نہیں بھگاتے ہیں، ہمارا اس حکومت کے خلاف احتجاج جاری رہے گا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں بھی عمران نے ہاتھ ڈالا ہے وہاں تبدیلی نہیں تباہی مچائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب اس ملک کے ہر ادارے کو اپنی ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں، پہلے پارلیمان، قومی اسمبلی اور سینیٹ پر حملہ کیا، اس کے بعد عدلیہ پر حملہ کیا، عدلیہ کو ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش میں کبھی کسی جج کے خلاف ریفرنس بھیج دیا تو کبھی کسی دوسرے جج کو تنگ کرنا شروع کردیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پنجاب پولیس اور بیورو کریسی کو اپنی ٹائیگر فورس بنانے کے لیے پچھلے تین سال میں جتنی دفعہ پنجاب کے آئی جی اور چیف سیکریٹری تبدیل ہو چکے ہیں، اتنے پنجاب کی تاریخ میں نہیں ہوئے ہیں، کوئی بھی ادارہ نہیں بچا۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کا کردار ادا کریں یا اعلان کریں حکومت کے سہولت کار ہیں، بلاول

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش آج بھی چل رہی ہے، کبھی میڈیا کے خلاف کوئی سازش تو کوئی آرڈیننس، کبھی کسی کو دھمکی تو کسی کو بے روزگار کردیا جاتا ہے، سوشل میڈیا کو ٹائیگر فورس بنانے اور وہاں بھی پابندیاں لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عمران خان تو ہماری فوج اور آئی ایس آئی کو بھی ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں، ہم سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی خان صاحب کو اجازت نہیں دیں گے کہ ہماری جمہوریت، سیاست، معیشت کی تباہی چل رہی ہو اور آپ سے کوئی پوچھنے والا نہ ہو، پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے آپ کو معاف نہیں کریں گے اور ایسا قدم اٹھانے نہیں دیں گے جس سے اس ملک کا نقصان ہو۔

انہوں نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 30 نومبر کو یوم تاسیس کے موقع پر خیبر پختونخوا میں جلسہ کریں گے اور اپنی وفاقی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے حکومت پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ خان صاحب کے وزیر پنڈورا پیپرز میں نکلے، دوسرے لوگ پاناما پیپرز میں نکلے لیکن پیپلز پارٹی کے لوگ کسی میں نہ نکلے لیکن ہم جیل میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی جاسوس کو این آر او دینے والے بھٹو کو غدار کہہ رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

ان کا کہنا تھا کہ دوسرے لوگوں کو سزا ہوئی لیکن ہمارے لوگ سزا نہ ہونے کے باوجود جیل میں ہوں، آپ کا دوغلا نظام نہیں چل سکتا، ہم اپنے لوگوں کو بھی آزاد کرائیں گے اور آپ کو بھی بھگائیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں قائد اعظم سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ جناح کا پاکستان، وفاقی پاکستان، وہ قائد عوام کا دیا ہوا اسلامی جمہوری نظام ہم بنائیں گے، عوام دوست حکومت ہم بنائیں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں