سیالکوٹ واقعے نے مسلمانوں کی منفی تصویر دکھا کر ملک کو بدنام کیا ہے، مفتی تقی عثمانی

اپ ڈیٹ 04 دسمبر 2021
علمائے کرام کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے دنیا میں پاکستان کے منفی تاثر نے جنم لیا ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
علمائے کرام کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے دنیا میں پاکستان کے منفی تاثر نے جنم لیا ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے فیکٹری کے ملازمین کے بہیمانہ تشدد سے سری لنکن منیجر کی ہلاکت کے واقعے کو وحشیانہ اور حرام طریقہ کار قرار دیا ہے۔

گزشتہ روز سیالکوٹ کی فیکٹری کے ملازمین کی جانب سے تشدد کے نتیجے میں منیجر کی ہلاکت پر مفتی تقی عثمانی نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا کہ ’توہين رسالت انتہائی سنگین جرم ہے لیکن اس کے ارتکاب کا ثبوت ضروری ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کسی پر یہ سنگین الزام لگا کر خود ہی اسے وحشیانہ اور حرام طریقے سے سزا دینے کا کوئی جواز نہیں، سیالکوٹ کے واقعے نے مسلمانوں کی بھونڈی تصویر دکھا کر ملک و ملت کو بدنام کیا ہے‘۔

دوسری جانب رویت ہلال کمیٹی کے سابق سربراہ مفتی منیب الرحمٰن نے بھی واقعے کو ناخوشگوار قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ملک میں قانونی نظام موجود ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا جواز نہیں۔

مزید پڑھیں: سری لنکن منیجر کی بہیمانہ تشدد سے ہلاکت، ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس کے رات بھر چھاپے

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے دنیا میں پاکستان کے منفی تاثر نے جنم لیا ہے، ویسے ہی کئی برسوں سے پاکستان پر ’ایف اے ٹی ایف‘ کی تلوار لٹک رہی ہے۔

ادھر مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سیالکوٹ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کرنے والا گروہ اور مذہبی جنونیت ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ دین اسلام اور وطن عزیز کے تشخص کو داغدار کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، جرم و سزا کا تعین ریاست کی ذمہ داری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست بھی بلاتحقیق کسی کو سزا نہیں دے سکتی، ملزمان نے سنگین جرم کا ارتکاب کیا اگر ایسے واقعات کو طاقت کے ساتھ روکا نہ گیا تو ہم دنیا کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

پس منظر

واضح رہے کہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے سری لنکا سے تعلق رکھنے والے مقامی فیکٹری کے منیجر پر توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے بہیمانہ تشدد کرکے قتل کیا اور ان کی لاش نذرِ آتش کردی تھی۔

سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) عمر سعید ملک نے کہا کہ مقتول کی شناخت پریانتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: سیالکوٹ واقعے پر اہم شخصیات کا اظہار افسوس

سیالکوٹ پولیس کے سربراہ ارمغان گوندل نے غیرملکی خبر ایجنسی ’اے پی‘ کو بتایا کہ فیکٹری کے ملازمین نے مقتول پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے پوسٹر کی بے حرمتی کی جس پر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا نام درج تھا۔

سیالکوٹ میں واقعے کے چند گھنٹے بعد وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی حسان اور آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی امور حافظ طاہر محمود اشرفی نے علما کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ اس وحشت پر پاکستانی قوم، پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علما، مشائخ اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کی طرف سے مذمت کرتا ہوں۔

بعد ازاں پنجاب پولیس نے ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ‘سیالکوٹ واقعے میں پولیس نے تشدد کرنے اور اشتعال انگیزی میں ملوث ملزمان میں سے ایک مرکزی ملزم فرحان ادریس کو گرفتار کر لیا ہے’۔

پولیس نے کہا کہ ‘100 سے زائد افراد کو حراست میں لےلیا گیا ہے، آئی جی پنجاب سارے معاملہ کی خود نگرانی کر رہے ہیں، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں’۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی طاہر اشرفی نے کہا کہ رات گئے چھاپے مار کر مزید ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کا قتل، پاکستان کیلئے شرم ناک دن ہے، وزیراعظم

دوسری جانب سری لنکا کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ انہیں پاکستانی حکام سے توقع ہے کہ وہ تفتیش اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے مطلوبہ کارروائی کریں گے۔

سری لنکا کے میڈیا کے ادارے نیوز فرسٹ نے وزارت خارجہ کے ترجمان سوگیشوارا گونارتنا کے حوالے سے کہا کہ اسلام آباد میں سری لنکا کے ہائی کمیشن واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کے لیے پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹ میں لکھا کہ ‘سیالکوٹ میں فیکٹری پر وحشت ناک حملہ اور سری لنکن منیجر کو زندہ جلانا پاکستان کے لیے ایک شرم ناک دن ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں تفتیش کی نگرانی کر رہا ہوں اور تمام ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی’۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سیالکوٹ میں ہجوم کی جانب سے بےگناہ قتل قابل مذمت اور شرم ناک ہے، اس طرح کا ماورائے قانون قتل کسی قیمت معاف نہیں کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: سیالکوٹ: توہین مذہب کے الزام پر ہجوم کا سری لنکن شہری پر بہیمانہ تشدد، قتل کے بعد آگ لگادی

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے اس وحشت ناک واقعے کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کردی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے ’انتہائی افسوس ناک واقعہ‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘آئی جی پنجاب کو واقعے کی تفتیش کی ہدایت کی ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، یقین دلاتا ہوں کہ واقعے میں جو بھی اس غیرانسانی واقعے میں ملوث ہیں وہ نہیں بچیں گے’۔

تبصرے (1) بند ہیں

Hyder Dec 04, 2021 08:45pm
Good kabhi awam ki sahi tarbyeat ki Hoti to yah na hota.