روسی وزیرخارجہ کو 2 بین الاقوامی اجلاسوں میں واک آؤٹ کا سامنا

اپ ڈیٹ 02 مارچ 2022
سرگئی لاروف کا پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام چلنا شروع ہوا تو سفارت کار کمرے سے باہر نکل گئے — فوٹو:اے پی
سرگئی لاروف کا پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام چلنا شروع ہوا تو سفارت کار کمرے سے باہر نکل گئے — فوٹو:اے پی

اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے اجلاس سے روسی وزیر خارجہ نے خطاب کیا تو متعدد مندوبین اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

ڈان اخبار میں خبر رساں ایجنسیوں کی شائع رپورٹ کے مطابق یوکرین پر روس کے حملے کے بعد روس کے بائیکاٹ اور پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، مغربی ممالک کی جانب سے فضائی حدود کی بندش اور منجمد اثاثوں سمیت صدر ولادیمیر پیوٹن، ان کے رشتہ داروں اور قریبی حلقوں کے خلاف اور روسی معیشت پر مزید سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا جاچکا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے پینل کے اجلاس کے دوران جب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام چلنا شروع ہوا تو سفارت کار کمرے سے باہر نکل گئے۔

واک آؤٹ کی قیادت کرنے والی یوکرین کی سفیر ییہنیا فلپینکو نے چیمبر کے باہر ایک بڑے یوکرینی جھنڈے کے گرد جمع ہونے والے ہجوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان یوکرینی باشندوں کی حمایت کے اس شاندار مظاہرے کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ جو اپنی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی سفرا کا پاکستان سے یو این جی اے کے اجلاس میں روس کی مذمت کرنے پر اصرار

فرانسیسی مندوب جیروم بونافونٹ نے کہا کہ کوئی بھی حملہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شہریوں کے نقصان کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ انسانی حقوق کی کونسل اس واک آؤٹ سے ظاہر کرے کہ وہ یوکرین اور اس کے عوام کے ساتھ متحد کھڑی ہے۔

اس واک آؤٹ سے محض ایک گھنٹہ قبل سفارت کاروں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے یورپی ہیڈکوارٹرز میں ایک قریبی کمرہ اس وقت خالی کر دیا تھا جب سرگئی لاروف کی ویڈیو تقریر تخفیف اسلحہ کی کانفرنس میں نشر کی گئی۔

یہ ادارہ 1979 میں سرد جنگ کے ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کی کوشش کے لیے بنایا گیا تھا۔

چیف کنڈکٹر برطرف

گزشتہ روز جرمنی کے سرکردہ آرکسٹرا میں سے ایک نے روسی استاد اور کریملن کے وفادار ویلری گرگیف کو اپنے چیف کنڈکٹر کے طور پر برطرف کردیا جب وہ روسی حملے کی مذمت نہ کرسکے۔

میونخ کے میئر دائتر ریتر نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی ہدایت کے مطابق میونخ فلہارمونک آرکسٹرا کے مزید کنسرٹس اب نہیں ہوں گے۔

مزید پڑھیں: یوکرین پر حملے کے بعد ہولی وڈ فلموں کو روس میں ریلیز نہ کرنے کا اعلان

یہ برطرفی 68 سالہ بزرگ ویلری گرگیف کے لیے تازہ ترین دھچکا ہے جنہیں دنیا کے عظیم ترین کنڈکٹرز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

ہر سال اوسطاً 275 کنسرٹس کرنے والے مشہور محنتی ویلری گرگیف گزشتہ ہفتے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے یورپ بھر کے فنون لطیفہ کے اداروں کی جانب سے دباؤ میں آگئے ہیں اور انہیں پہلے ہی متعدد نامور کنسرٹس سے باہر کیا جاچکا ہے۔

پیوٹن کے دوست بھی حملے کے خلاف بول اٹھے

صدر ولادیمیر پیوٹن کے دوست و فرانسیسی اداکار جیرارڈ ڈیپارڈیو یوکرین پر حملے کے خلاف سامنے آئے اور مذاکرات پر زور دیا۔

73 سالہ فلم اسٹار نے ایک فون کال میں کہا کہ روس اور یوکرین ہمیشہ سے برادر ملک رہے ہیں، میں اس برادرانہ جنگ کے خلاف ہوں، میں کہتا ہوں کہ ہتھیار روکیں اور مذاکرات کریں۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین کے معاملے پر امریکا، اتحادیوں کی روس پر پابندیاں

2013 میں جیرارڈ ڈیپارڈیو نے اپنے ملک میں امیروں پر مجوزہ ٹیکس میں اضافے کے خلاف احتجاجاً فرانس چھوڑتے ہوئے روسی شہریت لے کر ایک بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کیا تھا۔

ولادیمیر پیوٹن نے انہیں نئی شہریت پیش کرنے کے لیے ایک عشائیہ کی دعوت دی تھی جس کے بعد جیرارڈ ڈیپارڈیو نے روسی صدر کی بھرپور تعریف کی۔

روسی ملکیت کی کشتیاں محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں روانہ

حکام نے بتایا کہ امریکا کی جانب سے پابندیوں کی فہرست میں شامل ایک روسی ارب پتی کی لگژری بادبانی کشتی (یاٹ) مالدیپ پہنچ گئی۔

حکام نے بتایا کہ روسی ملکیت کی مزید کشتیاں مبینہ طور پر ممکنہ اثاثوں پر قبضے سے محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں بحر ہند کے جزیرہ نما کی جانب روانہ ہوگئیں۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کا روس کے 5 بینکوں اور 3 امیر ترین افراد پر پابندیاں لگانے کا اعلان

روس پر متعدد بین الاقوامی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس سے اس کے ارب پتی افراد کی کشتیاں ضبط کیے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، ان میں سے کئی افراد صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی ہیں۔

سرکاری مالدیپ پورٹس لمیٹڈ نے اس بات کی تصدیق کی کہ انٹر نیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن رجسٹریشن 9312535 کے حامل پلیژر کرافٹ کلیو دارالحکومت مالے کے قریب لنگر انداز ہوگئی ہے۔

سی این بی سی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 2 دیگر بحری جہاز مالدیپ جا رہے ہیں جن کا امریکا کے ساتھ حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں