ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی

اپ ڈیٹ 03 جون 2022
مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام 899 پوائنٹس (2.13 فیصد) کمی کے ساتھ 41 ہزار 339 پوائنٹس پر ہوا — فائل فوٹو: اے ایف پی
مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام 899 پوائنٹس (2.13 فیصد) کمی کے ساتھ 41 ہزار 339 پوائنٹس پر ہوا — فائل فوٹو: اے ایف پی

حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز سے جاری فروخت کی رفتار برقرار رہی اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 900 پوائنٹس سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی۔

سہ پہر 4 بجے کے ایس ای 100 انڈیکس گزشتہ روز کے 42 ہزار 238 پوائنٹس کے مقابلے میں 926 پوائنٹس گر کر 41 ہزار 312 پوائنٹس (2.19 فیصد کمی) پر آگیا۔

مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام 899 پوائنٹس (2.13 فیصد) کمی کے ساتھ 41 ہزار 339 پوائنٹس پر ہوا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں آج مندی کا رجحان حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کے فیصلے اور پاور ریگولیٹر کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں تقریباً 8 روپے فی یونٹ اضافے کے اعلان کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے ایک پریس کانفرنس میں کیا تاکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دی جاسکے۔

ایندھن کی قیمتوں اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ ان بنیادی شرائط میں سے ایک ہے جسے حکومت کو اپریل سے تعطل کا شکار 6 ارب ڈالر کا آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے لیے پورا کرنے کی ضرورت ہے۔

پی ٹی آئی حکومت نے 28 فروری سے 30 جون تک 4 ماہ کے لیے پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں منجمد کردی تھیں۔

تاہم اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتیں آئی ایم ایف پروگرام کو 'پٹری سے اتارنے' پر سابق حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتی رہیں لیکن اس کے باوجود 26 مئی تک سبسڈی واپس نہیں لی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس میں 660 پوائنٹس کی کمی

بعد ازاں 26 مئی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا اور گزشتہ رات قیمتیں مزید 30 روپے بڑھا دی گئیں۔

مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مہنگائی میں اضافہ اور عوام کی مشکلات بڑھائے گا لیکن ہم گزشتہ حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک کو دیوالیہ نہیں ہونے دے سکتے۔

انٹرمارکیٹ سیکیورٹیز کے سربراہ رضا جعفری نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں راتوں رات ہونے والا اضافہ جہاں ضروری آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے قریب لے آیا ہے وہیں نچلی سطح پر اس سے تکلیف اور طلب میں کمی ہوگی۔

انہوں نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ موجودہ سرمایہ کار اس دائرے سے باہر نکل رہے ہیں جبکہ نئے سرمایہ کار اب بھی پیچھے ہٹ رہے ہیں، چنانچہ اسٹاک کم حجم پر گر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی تناؤ میں کمی کی امید کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں 500 پوائنٹس کی تیزی

دریں اثنا آبا علی حبیب سیکیورٹیز کے سربراہ ریسرچ سلمان نقوی نے متعدد دیگر عوامل کی نشاندہی کی جنہوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کے رجحان میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی اور اقتصادی محاذوں پر غیر یقینی صورتحال، موڈیز کی جانب سے ریٹنگ کو مستحکم سے منفی کرنے، آسمان کو چھوتی مہنگائی، ٹریژری بلز پر شرح سود میں اضافہ اور آئی ایم ایف میں تاخیر کی وجہ سے مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔

میٹیس گلوبل کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں تجارتی خسارہ بڑھنا بھی سرمایہ کاروں کے کم اعتماد کی ایک وجہ ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں