ڈاکٹر عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کے لیے 6 رکنی ٹیم تشکیل

اپ ڈیٹ 21 جون 2022
مقامی عدالت نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کا حکم دیا تھا—فائل فوٹو: انسٹاگرام
مقامی عدالت نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کا حکم دیا تھا—فائل فوٹو: انسٹاگرام

معروف ٹی وی اینکر اور سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی موت کی وجہ جاننے کے لیے عدالتی حکم کے مطابق قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سعید کی سربراہی میں 6 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔

پولیس سرجن کے دفتر سے جاری حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹیم جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی موجودگی میں جمعرات 23 جون کو صبح 9 بجے پولیس سرجن کے دفتر سے عبداللہ شاہ غازی مزار کے احاطے میں قبرکشائی کے لیے روانہ ہوگی۔

حکم نامے میں بتایا گیا کہ پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سعید اس ٹیم کی سربراہی کریں گی، اس کے علاوہ ٹیم میں بطور سینئر ممبر ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر شاہد نظام، فرانزک ایکسپرٹ پروفیسر ڈاکٹر پرویز مخدوم اور ڈاکٹر ہری رام لوہانا کے ساتھ ساتھ بطور ممبر ڈاکٹر گلزار علی سولنگی اور ڈاکٹر محمد اریب شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت کا عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کا حکم

خیال رہے کہ 18 جون کو کراچی کی مقامی عدالت نے معروف ٹی وی اینکر اور سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کا حکم دیا تھا۔

عدالت میں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے درخواست ایک روز قبل دائر کی گئی تھی اور جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی وزیر حسین میمن نے سماعت کی تھی۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل سجاد علی دشتی نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ورثا پوسٹ مارٹم کرانا نہیں چاہتے، ورثا کہتے ہیں کہ پوسٹ مارٹم کرانے سے ان کے والد صاحب کی روح کو تکلیف پہنچے گی اور ہمیں کسی پر شک بھی نہیں ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جس کے بعد مختصر حکم نامے میں عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: شوبز شخصیات کا عامر لیاقت کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم نہ کرنے کا مطالبہ

دریں اثنا عدالت نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے حوالے سے تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا تھا۔

حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ ورثا کا مؤقف ہے کہ عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم سے ان کی قبر کی بے حرمتی ہوگی، کوئی شک نہیں ہے کہ ورثا عامر لیاقت کی قبر کے وارث ہیں لیکن جب موت مشکوک ہو اور جرم کا بھی خدشہ ہو تو نظامِ انصاف کو حرکت میں آنا چاہیے۔

واضح رہے کہ متعدد شوبز شخصیات، مداحوں اور مرحوم عامر لیاقت حسین کی سابق اور پہلی اہلیہ ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے مطالبہ کیا تھا کہ عدالت مرحوم اینکر کی قبر کشائی کرکے ان کے پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم واپس لے۔

عدالتی فیصلے کے بعد عامر لیاقت کی سابق اور پہلی اہلیہ ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے اپنی پوسٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ ان کے سابق شوہر کی قبر کشائی نہ کی جائے، انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’شریعت مطہرہ بھی اس قبیح عمل، مردے کی چیر پھاڑ اور قبر کشائی کی اجازت نہیں دیتی، اللہ سب دیکھ رہا ہے، اس لیے ان کی روح کو تکلیف نہ دی جائے‘۔

یہ بھی پڑھیں:عامر لیاقت کے انتقال پر شوبز شخصیات کا اظہار افسوس

ان کی پوسٹ کے بعد اگرچہ عام مداحوں نے بھی عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم نہ کروانے کا مطالبہ کیا تھا اور وہی شوبز شخصیات نے بھی ان کی قبر کشائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سینیئر اداکارہ بشریٰ اقبال نے بھی عامر لیاقت کی قبر کشائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، انہوں نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ 'خدارا اب انہیں بخش دیں، انہیں تکلیف نہ دیں، ان کے بچوں اور اہل خانہ پر رحم کریں، ان کی قبر کو نہ کھولیں‘۔

میزبان وسیم بادامی نے بھی عدالتی فیصلے پر حیرانی کا اظہار کیا تھا کہ عدالت نے ایک نامعلوم شخص کی درخواست پر عامر لیاقت کی قبر کشائی کا حکم دیا۔

اداکارہ اشنا شاہ نے بھی عامر لیاقت کی قبر کشائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور لکھا کہ ان کے بچوں کو مزید تکلیف دینے سے گریز کیا جائے۔

واضح رہے کہ 9 جون کو رکن قومی اسمبلی اور معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 50 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے تھے.

مزید پڑھیں: رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے

ڈی آئی جی شرقی مقدس حیدر نے عامر لیاقت کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ رکن قومی اسمبلی کی طبیعت رات کو بگڑ گئی تھی اور حالت زیادہ خراب ہونے پر صبح انہیں آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

بعد ازاں ان کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کے ورثا نے پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کیا اور ہسپتال انتظامیہ نے تمام میڈیکو لیگل لوازمات پوری کرنے کے بعد عامر لیاقت کے جسد خاکی ورثا کے حوالے کردیا تھا۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں