ریکوڈک گولڈ پروجیکٹ پر 14 اگست سے کام شروع کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 19 جولائ 2022
<p>وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ریکوڈک منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے سربراہ نے مارک برسٹو نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں—فوٹو: ڈان نیوز</p>

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ریکوڈک منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی کے سربراہ نے مارک برسٹو نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں—فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو اور بیرک گولڈ کارپوریشن نے 14 اگست سے ریکوڈک گولڈ پروجیکٹ پر کام شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان اور ریکوڈک منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی بیرک گولڈ کارپوریشن کے سربراہ مارک برسٹو نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ریکوڈک گولڈ منصوبے پر پیداوار 2027 تک متوقع ہے، کمپنی 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کری کرے گی جبکہ ریکوڈک ایڈوانس رائلٹی کی مد میں حکومت بلوچستان کو پہلے سال کے اختتام تک 50 لاکھ ڈالر ملیں گے۔

بیرک گولڈ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹیو مارک برسٹو نے کہا کہ ریکوڈک بلوچستان میں سب سے بڑی غیرملکی سرمایہ کاری کی بدولت پا ئیدارخوشحالی کاباعث بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بیرک گولڈ کارپوریشن ریکوڈک ڈیل کیلئے قانونی تحفظ کی خواہاں

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اور بیرک کمپنی کے درمیان حتمی معاہدوں پر کام جاری ہے، شراکت داری کے تحت 50 فیصد حصہ بیرک کمپنی کا ہوگا جبکہ حکومت پاکستان اور بلوچستان کے پاس 25،25 فیصد حصے ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان حکومت کو بغیر کسی سرمایہ کاری کے رائلٹی اور ڈیویڈنڈ بھی حاصل ہوں گے، بلوچستان اور اس کے عوام کو ان کے جائز حقوق ملیں گے، بیرک کمپنی قانونی اقدامات کے بعد فیزیبیلٹی سٹڈی کو اپ ڈیٹ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ریکوڈک ذخائر سے تانبے اور سونے کی پہلی پیداوار سال 2027 تک متوقع ہوگی۔

'کمپنی سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی'

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی دومرحلوں میں سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی ، پہلے مرحلے میں چار ارب ڈالر جبکہ دوسرے مرحلے میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔

سی ای او نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پلانٹ تقریباً 40 ملین ٹن سالانہ کے حساب سے دھات کی پراسیسنگ کرے گا جسے پانچ سال کے عرصے میں دو گنا کیا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں: بیرک کا پاکستان کے ساتھ تنازع ختم کرتے ہوئے ریکوڈک پروجیکٹ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ ریکو ڈک کان کی عمر کم سے کم 40 سال ہوگی، منصوبہ ساڑھے سات ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر سکے گا جن میں چار ہزار کے قریب طویل مدتی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی، بلوچستان میں صحت، تعلیم، فوڈ سیکیورٹی کی بہتری سمیت متعدد ترقیاتی پروگراموں کا بھی آغاز کیا جائے گا۔

بیرک گولڈ کارپویشن کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو کا کہنا تھا کہ ریکوڈ ک گولڈ پراجیکٹ کمپنی بلوچستان حکومت اورسرکاری انٹر پرائیزز کے مابین ایک پارٹنرشپ ہے، جوآنے والی نسلوں کے لیے پائیدار خوشحالی کاباعث بنے گی۔

مارک برسٹو کا کہنا تھا کہ کمپنی اور حکومت پاکستان نے اس امر کو یقینی بنانے کیلئے کام کیا ہے کہ بلوچستان کو ریکوڈک سے حاصل ہونے والے فوائد کا خاطر خواہ حصہ ملے۔

انہوں نے بتایا کہ ریکوڈک میں بلوچستان کی شیئر ہولڈنگ کی فنڈنگ مکمل طور پر اس کے پارٹنرز و وفاقی حکومت کی جانب سے کی جائے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کو کان کی تعمیر و آپریشنز کی مد میں بنا کسی مالیاتی حصہ داری کے اپنے 25 فیصد ملکیت کے مطابق ڈویڈنڈز ، رائلٹی اور دیگر فوائد حاصل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ریکو ڈک معاہدے میں بلوچستان حکومت کو 50 فیصد منافع ملنا چاہیے، رہنما بی این پی

انہوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ بھی اہم ہے کہ بلوچستان اور اس کے عوام کو شروع دن سے یہ فوائد نظرآئیں، ریکوڈک کان کے تعمیری مرحلے کے آغاز سے قبل جب قانونی عمل میں اپنی تکمیل کے آخری مرحلے میں ہوگا، ہم اس وقت ہی علاقے بھر میں صحت و تعلیم فوڈ سیکیورٹی و ووکیشنل ٹریننگ کی بہتری و پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر مشتمل متعدد سماجی ترقیاتی پروگرام شروع کردیں گے، تعمیری مرحلہ پر سماجی بہبود کے پروگراموں کا تاحال تخمینہ تقریباََ 7 کروڑ ڈالر ہے۔

بلوچستان کو پہلے سال رائلٹی کی مد میں 50 لاکھ ڈالر ادا کریں گے

مارک برسٹو کا مزید کہنا تھا کہ ریکوڈک ایڈوانس رائلٹی کی مد میں حکومت بلوچستان کو پہلے سال کے اختتام تک 50 لاکھ ڈالر، دوسرے سال کے اختتام تک 75 لاکھ ڈالر تک جبکہ کمرشل پیدوار کے آغاز تک اگلے ہر سال ایک کروڑ ڈالر سالانہ تک ادا کرے گا، جس سے ایڈوانس ادائیگیوں کا مجموعی حجم زیادہ سے زیادہ 5 کروڑ ڈالر ہوجائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ فزیبلٹی سٹڈی کی نظرثانی کے نتائج کی بنیاد پر ریکوڈک کی کان کی منصوبہ بندی روایتی اوپن پٹ و ملنگ آپریشن پر کی جائے گی جس سے ریکوڈک سے اعلیٰ معیار کے سونے و تانبے کا کنسٹریٹ حاصل ہوگا۔

مزید پڑھیں: ریکوڈک میں سونے اور تانبے کی مقدار کے تعین کیلئے سعودی کمپنی مدد کرے گی

ان کا کہنا تھا کہ اس کی تعمیر دو مرحلوں میں کی جائے گی، پہلے مرحلے میں پلانٹ اندازا 40 ملین ٹن سالانہ کے حساب سے دھات کی پراسیسنگ کرے گا جسے پانچ سال کے عرصہ میں دوگنا کیا جاسکے گا۔

منصوبہ 7 ہزار 500 سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرے گا، مارک برسٹو

انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کے تعمیر کے مرحلے کے عروج پر امید کی جارہی ہے کہ یہ منصوبہ 7 ہزار 500 سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرے گا، پیداوار کے مراحل میں یہ منصوبہ 4 ہزار کے قریب طویل مدتی ملازمتیں پیداکرےگا۔

انہوں نے بتایا کہ بیرک کی مقامی سپلائرز کی سروسز کے حصول اور مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی کی ترجیح کی پالیسی علاقائی معیشت پر بہتر اثرات مرتب کرے گی۔

شہباز شریف نے مطالبات کو من و عن تسلیم کرکے بلوچستان کے حقوق کا تحفظ کیا, وزیراعلیٰ

پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ریکوڈک منصوبے سے متعلق ہماری تجاویز سے اتفاق کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے تمام مطالبات کو من و عن تسلیم کرکے بلوچستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ریکوڈک منصوبہ: پاکستان 5 ارب 97 کروڑ ڈالر کی قانونی چارہ جوئی پر مذاکرات میں مصروف

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لیے فضا سازگار ہے اور حکومت کے ساتھ ساتھ عوام بھی اپنے مہمانوں کے تحفظ کے لیے پیش پیش ہے، ریکوڈک سمیت تمام غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل سیکورٹی فراہم کریں گے۔

'صوبائی حکومت نے اتفاق رائے کے بعد فیصلہ کیا'

انہوں نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے سے متعلق کوئی بات خفیہ نہیں رکھی گئی اراکین صوبائی اسمبلی کو 9 گھنٹے ان کیمرہ بریفنگ دی گئی، سردار اختر جان مینگل، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور محمود خان اچکزئی سمیت تمام سیاسی قیادت سے ملاقات کرکے انہیں ریکوڈک منصوبے سے متعلق آگاہی دی، اس ضمن میں صوبائی حکومت نے اتفاق رائے کے بعد ہی فیصلہ کیا ہے۔

ریکوڈک معاہدہ بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے، وزیر اعلیٰ

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ آج تاریخی دن ہے جب ہم ریکوڈک منصوبے سے متعلق اہم پیش رفت کرنے جاررہے ہیں، بلوچستان کے لوگ بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں، یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار بلوچستان کا رخ کرہے ہیں ریکوڈک معاہدہ بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

مزید پڑھیں: ریکوڈک پر لگنے والے جرمانے کا ذمہ دار کون؟

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر آمدن کا کا 25 فیصد حصہ بلوچستان کو ملے گا منصوبے کا تخمینہ 7 کروڑ ڈالر ہے، ایڈوانس رائلٹی میں پہلے سال بلوچستان کو 50 لاکھ ڈالر، دوسرے سال 75 لاکھ اور کمرشل پیداور کے آغاز پر ہر سال ایک کروڑ ڈالر ملیں گے، جس صوبے میں ترقی کے نئےدور کاآغاز ہوگا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں