تاجربرادری کا ملک میں سری لنکا جیسے 'معاشی بحران' کے خدشات کا اظہار

اپ ڈیٹ 21 جولائ 2022
<p>اہم کاروباری شخصیات  نے وطن عزیز میں  سری لنکا جیسے معاشی بحران کے بڑھتے ہوئے خطرات و خدشات کا اظہار کیا—فائل فوٹو:اے پی پی</p>

اہم کاروباری شخصیات نے وطن عزیز میں سری لنکا جیسے معاشی بحران کے بڑھتے ہوئے خطرات و خدشات کا اظہار کیا—فائل فوٹو:اے پی پی

اہم کاروباری شخصیات ملک میں سری لنکا جیسے معاشی بحران کے بڑھتے ہوئے خطرات و خدشات کا تجزیہ کرنے کے لیے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) میں جمع ہوئیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف پی سی سی آئی کے صدر عرفان اقبال شیخ کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں گراوٹ اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئی ہے جب کہ پیٹرولیم درآمدات کے لیے لیٹر آف کریڈٹا (ایل سیز) انٹر بینک ریٹ سے کہیں زیادہ ریٹ پر کھولی جا رہی ہیں۔

انہوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نقل و حمل اور بجلی کی پیداوار کے لیے ایندھن کی قلت کی صورت میں امن و امان کی سنگین صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا تاجروں سے معاہدہ، شناختی کارڈ کی شرط 3 ماہ کے لیے موخر

انہوں نے خبردار کیا کہ ہم سری لنکا جیسی صورتحال سے زیادہ دور نہیں ہیں اور اس خوفناک منظر نامے سے بچنے کے لیے ہمیں اہم بنیادی فیصلوں کی ضرورت ہے۔

ایف پی سی سی آئی کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق معروف کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بہت سی چیزوں میں بہتری دکھائی دی مثلاً عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات، خوردنی تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی، دیگر بہت سی اشیا کی فراہمی میں بہتری آئی، اس سب کے باوجود حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی۔

سربراہ ایف پی سی سی آئی نے زور دے کر کہاکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) آزادانہ شرح مبادلہ کو اس طرح سے جاری نہیں رکھ سکتا، اسے قیاس آرائیوں اور غیر یقینی صورتحال کو کم کرنے کے لیے ریگولیٹری ٹولز کو لاگو کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: آرمی چیف اور تاجروں کے درمیان ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے پاس زرمبادلہ کے اتنے ذخائر بھی موجود نہیں ہیں کہ وہ 2 ماہ کی درآمدات کی ادائیگیاں ہی کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی کی سنگین صورتحال کے باوجود حکومت گورنر اسٹیٹ بینک کا تقرر کرنے میں ناکام ہے جس سے حالات سے نمٹنے میں حکومت کی غیر سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔

کراچی ہول سیلرز گروسرز گروپ (کے ڈبلیو جی اے) کے سربراہ انیس مجید نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے روپے کی مسلسل گراوٹ کی وجہ سے درآمد شدہ دالوں کی قیمت میں گزشتہ 10 روز کے دوران 7 سے 8 روپے فی کلو اضافہ ہوچکا اور مستقبل کی شرح تبادلہ کے غیر یقینی ریٹ کی وجہ سے اب تک اس کا اثر ہول سیل ریٹ پر منتلق نہیں کیا گیا۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر سلمان اسلم نے کہا کہ گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لیے اقدامات نہ کرنے پر کاروباری برادری کو شدید تحفظات و خدشات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اقتصادی کونسل: صوبے بازار رات ساڑھے 8 بجے بند کرنے پر متفق

انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی مصنوعی طور ہو رہی ہے جس سے معیشت کو شدید نقصان ہو رہا ہے، اسٹاک مارکیٹ کریش ہونے اور فچ ریٹنگ ایجنسی کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ منفی کیے جانے سے سرمایہ کار اعتماد کھوچکے ہیں۔

سلمان اسلم نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اسی طرح سے گرتا رہا تو مزید مہنگائی کا طوفان آئے گا۔

نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (این کے اے ٹی آئی) کے صدر فیصل معیز خان نے اسٹیٹ بینک پر روپے کی قدر کو مستحکم کرنے اور ڈالر کے ریٹ میں مسلسل اضافے کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔

مزید پڑھیں: ایندھن و بجلی کی بچت کیلئے ہفتے میں ساڑھے چار دن کام کیا جائے، خواجہ آصف

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو ریگولیٹر کا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے پیش نظر درآمد شدہ خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت کے بعد پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گی جب کہ برآمدی معاہدوں کی بروقت تکمیل کرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں