بھارت کی جانب سے 14 اگست کو 'تقسیم کی ہولناک یادوں' کے طور پر منانے کی شدید مذمت

اپ ڈیٹ 10 اگست 2022
دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں بھارت کو آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں کا احترام کرنے کا مشورہ دیا — فائل فوٹو: اے پی پی
دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں بھارت کو آزادی کے لیے قربانیاں دینے والوں کا احترام کرنے کا مشورہ دیا — فائل فوٹو: اے پی پی

پاکستان نے بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے پاکستان کے یوم اۤزادی 14اگست کو ’تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد کا دن‘ کے طور پر منانے کے شرانگیز اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ کی رپورٹ کے مطابق 14 اگست کو یادگاری دن کے طور پر منانے کا فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 'ہمارے لوگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کی یاد تازہ کرنے کے لیے کیا ہے۔‘

اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سال یہ تقریب 75 پناہ گزین کالونیوں کے حوالے سے خاموش مارچ کے ساتھ منائی جائے گی، جبکہ یونیورسٹیوں اور کالجوں سمیت 5 ہزار سے زائد مقامات پر اسٹال بھی لگائے جائیں گے۔

بھارتی حکومت کے اس فیصلے پر پاکستان کی جانب سے مذمت کرتے ہوئے دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے ترمیمی ایجنڈے کے تحت بی جے پی-آر ایس ایس کی قیادت میں چلنے والی حکومت نے پھر سے منافقانہ اور یکطرفہ طور پر 1947 میں آزادی کے بعد رونما ہونے والے الم ناک واقعات اور بڑے پیمانے پر ہجرت کو دعوت دینے کی کوشش ہے۔

مزید پڑھیں: ’برکس‘ میں شامل ایک رکن نے پاکستان کو اجلاس میں شرکت سے روکا، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ عمل افسوس ناک ہے کہ بی جے پی حکومت اپنے تقسیم کرنے والے سیاسی ایجنڈے کے حصے کے طور پر تاریخ کی گمراہ کن تشریح کے ذریعے عوام کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر بھارتی رہنماؤں کو حقیقی طور پر اذیت، تکلیف اور درد کی پرواہ ہے تو انہیں بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حالات زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: دفتر خارجہ نے بھارت،امریکا مشترکہ بیان میں پاکستان سے متعلق 'بے بنیاد حوالہ' مسترد کردیا

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پچھلی سات دہائیاں اس بات کے ثبوتوں سے بھری ہوئی ہیں کہ بھارت کی رواداری (سیکیولرازم) کی حمایت ایک دھوکا تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج کا بھارت ایک غیر اعلانیہ ’ہندو راشٹرا‘ بن چکا ہے جس میں دیگر مذہبی اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے جنہیں امتیازی سلوک، ظلم و ستم اور سیاسی و سماجی طور پر مسائل کا سامنا ہے۔

بیان میں بھارتی حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ آزادی سے متعلق واقعات پر سیاست کرنے سے باز آئے اور اس کے بجائے ان تمام لوگوں کی یادوں کا احترام کرے جنہوں نے سب کے بہتر مستقبل کے لیے قربانیاں دیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں