عالمی ادارہ صحت کا سیلاب زدہ علاقوں میں صورتحال مزید بگڑنے کا انتباہ

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2022
ترجمان ڈبلیو ایچ او نے کہا ڈائریا، ٹائیفائیڈ، خسرہ، ملیریا کے کیسز کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات ہیں — فائل فوٹو: آن لائن/پی پی آئی
ترجمان ڈبلیو ایچ او نے کہا ڈائریا، ٹائیفائیڈ، خسرہ، ملیریا کے کیسز کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات ہیں — فائل فوٹو: آن لائن/پی پی آئی

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکت خیز سیلاب سے تباہ حال پاکستان میں انسانی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے جب کہ جاپان نے 70 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد دینے کا وعدہ کیا۔

قطر نے امدادی سامان کی فراہمی کے لیے فضائی آپریشن کا آغاز اور اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے دبئی سے بڑا ایئر لفٹ آپریشن شروع کردیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی مون سون کی غیر معمولی بدترین بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب سے پاکستان میں سوا 3 کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ایک ہزار 460 سے زیادہ مراکز صحت کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے 432 مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں، سب سے زیادہ مراکز صحت سندھ میں تباہ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں قدرتی آفات پر مرکوز معاشی حکمت عملی مؤثر بنانے کی فوری ضرورت

ڈبلیو ایچ او اور اس کے شراکت داروں کی جانب سے 4 ہزار 500 سے زیادہ میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں جب کہ ڈائریا، ملیریا، ڈینگی، ہیپاٹائٹس اور چکن گونیا کے دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ ریپڈ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ترجمان طارق جساریوک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کووڈ 19، ایچ آئی وی اور پولیو کے ساتھ ساتھ اس طرح کی بیماریاں پہلے ہی پھیل رہی تھیں جب کہ سیلاب کے بعد صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈائریا، ٹائیفائیڈ، خسرہ اور ملیریا کے کیسز کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، یہ بیماریوں ان علاقوں میں زیادہ پھیل رہی ہیں جو سیلاب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کے مزید خراب ہونے کے خدشات ہیں جب کہ سیلاب سے شدید متاثر ہونے والے علاقوں تک پہنچنا بھی تاحال انتہائی دشوار ہے۔

مزید پڑھیں: دن رات لیکچرز دینے والے ان مسائل کا حل نکالیں جو سیلاب کی وجہ بنے، وزیر اعظم

دوسری جانب جاپانی وزیر خارجہ نے ٹوکیو میں ہنگامی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے انفرا اسٹرکچر کو نقصان کے علاوہ ایک ہزار سے زائد لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

اس کے علاوہ، یو این ایچ سی آر دبئی سے بڑا ایئر لفٹ آپریشن کر کے پاکستان میں امدادی سامان پہنچا رہا ہے، اس امداد کا مقصد لاڑکانہ اور سکھر کے متاثرہ علاقوں پر توجہ مرکوز کرنا ہے، اس ایئر لفٹ آپریشن کے تحت طے شدہ 9 پروازوں میں سے ابتدائی 3 پروازیں پہلے ہی پہنچ چکی ہیں جب کہ باقی 5 پروازیں جلد ملک میں پہنچنے والی ہیں۔

اس ایئر لفٹ آپریشن کے تحت آنے والے امدادی سامان میں 40 ہزار سلیپنگ میٹ، تقریباً 15 ہزار کچن سیٹ اور تقریباً 5 ہزار ایسی ترپال ہیں جو مختلف مقاصد کےلیے استعمال کیے جاسکتی ہیں، آپریشن کے تحت دبئی سے آج بروز بدھ اور کل بروز جمعرات کے لیے مزید 6 پروازیں بھی شیڈول ہیں جن میں 4 ہزار 500 سلیپنگ میٹ، 400 ترپال اور تقریباً 5 ہزار کچن سیٹ شامل ہیں۔

سیلاب سے نمٹنے کے لیے عالمی ردعمل

دوسری جانب رواں ہفتے عالمی وفود کی اسلام آباد آنے کی توقع ہے جب کہ کچھ سینئر پاکستانی رہنما جن میں ممکنہ طور پر وزیر اعظم شہباز شریف بھی شامل ہیں، رواں ماہ کے آخر میں مشاورت کے لیے مختلف ممالک کا دورہ بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دادو کے قریب دباؤ سے بند ٹوٹنے پر مین نارا ویلی ڈرین سے پانی کا اخراج

اسلام آباد آنے والے عالمی رہنماؤں میں سب سے نمایاں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس ہیں جو سیلاب سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لینے 9 ستمبر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

اس کے بعد وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا دورہ متوقع ہے، بعد ازاں وہ امریکی حکام سے بات چیت کے لیے واشنگٹن جائیں گے۔

ادھر سویڈن کی ماحولیات کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ نے ’رائٹرز‘ کو انٹرویو میں شکایت کی کہ مغرب کے سیاستدانوں اور میڈیا کا پاکستان میں سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی جیسی آفات سے متعلق بات نہ کرنے کے رویے کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔

فاطمہ بھٹو نے ’دی نیوز یارک ٹائمز‘ کے لیے لکھی ایک تحریر میں زور دیا کہ پاکستان میں ہونے والی شدید بارشوں میں موسمیاتی تبدیلی کا بہت زیادہ کردار ہے، لہذا آپ متاثرین سیلاب کو موسمیاتی پناہ گزین کہہ سکتے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں