کھلے نالے میں گرنے سے بیوی، بچے کو کھونے والے شخص کا کے ایم سی پر ہرجانے کا دعویٰ

01 اکتوبر 2022
<p>مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ کے ایم سی سیوریج اور برساتی نالے کی صفائی کی ذمہ دار تھی- فائل فوٹو:ڈان</p>

مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ کے ایم سی سیوریج اور برساتی نالے کی صفائی کی ذمہ دار تھی- فائل فوٹو:ڈان

ایک شخص نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن(کے ایم سی) کے خلاف غفلت برتنے پر 5 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے جس کا شیر خوار بیٹا اور بیوی طوفانی بارش کے دوران شادمان ٹاؤن میں نالے میں ڈوب گئے تھے۔

ڈآن اخبار کی رپورٹ کے مطابق 17 جولائی کی رات محمد دانش اپنی 24 سالہ بیوی ثمن اور دو کم سن بچوں کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوار ہو کر جارہا تھا کہ شہر میں شدید بارش کے دوران قلندریہ چوک کے قریب کھلے شادمان نالے میں گر گیا تھا۔

اورنگی ٹاؤن سیکٹر ایل-10 کے رہائشی دانش نے اپنے بچے اور بیوی کی موت پر کے ایم سی اور ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن (ڈی ایم سی-سینٹرل) سے فیٹل ایکسیڈنٹ ایکٹ 1855 کے تحت 5 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: شادمان میں کھلے نالے میں گرنے سے ماں اور شیرخوار بیٹا جاں بحق

مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعا علیہ کے ایم سی سیوریج اور برساتی نالے کی صفائی کی ذمہ دار تھی لیکن وہ نالے کی صفائی، دیکھ بھال اور اسے ڈھانپنے میں ناکام رہی جس کی غفلت اس کی بیوی کی موت کا سبب بنی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح مدعا علیہ ڈی ایم سی-سینٹرل بھی کراچی میں نالوں کی تعمیر، صفائی اور مناسب دیکھ بھال اور ان کے نتیجے میں خطرے کا ذمہ دار تھا۔

درخواست گزار نے کہا کہ سال بھر میں مون سون کے موسم اور دیگر بارشوں کے موسم میں گلیوں اور سڑکوں پر پانی بہنے سے کراچی میں سیلابی صورتحال ہوجاتی ہے اور مدعا علیہان متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق اس کے ذمہ دار ہیں۔

درخواست میں بتایا گیا کہ تیز بارش کی وجہ سے مدعی کھلے نالے کو نہ دیکھ سکا اور اس میں گر گیا۔

مزید پڑھیں: کراچی: محمود آباد نالے میں گیس بھر جانے کے باعث دھماکا، 3 افراد زخمی

ان کے وکیل نے کہا کہ ’مدعا علیہان کی غفلت کے سبب ان کے مؤکل نے اپنی بیوی کو کھو دیا، جنہوں نے کھلے نالوں کو ڈھانپنے کے لیے اقدامات نہیں کیے تھے‘۔

واقعے کے بعد علاقہ مکین اکٹھے ہو ئے اور فوری طور پر ایمبولینس کو بلا کر زخمیوں کو فوری علاج کے لیے ہسپتال لے گئے تھے۔

درخواست کے مطابق مدعی کے اہل خانہ اور اہل علاقہ نے قریبی شکایتی دفتر کو اس اندوہناک واقعہ سے آگاہ کیا اور مدعی کی بیوی کی جان بچانے کے لیے ضروری کارروائی کرنے کی درخواست کی لیکن مدعا علیہان کی جانب سے نہ تو کوئی انہیں بچانے آیا اور نہ ہی کوئی ضروری قدم اٹھایا گیا۔

وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ متوفیہ ثمن کی عمر 24 سال تھی جو تندرست اور چاک و چوبند تھی اور مدعی اور اس کے بچوں کا بہت خیال رکھتی تھی اور انہیں خوشحال دیکھنا چاہتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کیا کراچی کی قسمت میں ڈوبنا ہی لکھا ہے؟

انہوں نے دلیل دی کہ متوفی خاتون تھی اس کے خاندانی نسب میں طویل عمر، طبی سہولیات میں ترقی، علاج معالجے کی دستیابی اور اس علاقے کی اچھی آب و ہوا کی وجہ سے جہاں اس کا تعلق تھا 70 سال کی عمر تک زندہ رہ سکتی تھی۔

درخواست گزار نے کہا کہ بیوی کے انتقال کے بعد مدعی اور اس کی بیٹی زویا اکیلے رہ گئے ہیں اور ان کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مدعا علیہان کے خلاف 5 کروڑ 73 لاکھ 52 ہزار روپے کی رقم مدعی کو بطور ہرجانہ/ معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ مدعی کو21 فیصد سالانہ کی شرح سے منافع/مارک اپ بھی ادا کیا جائے۔

تبصرے (0) بند ہیں