ڈالر 200 روپے سے نیچے آئے گا، اسحٰق ڈار کا دعویٰ

03 اکتوبر 2022
<p>—فوٹو: ثنااللہ خان</p>

—فوٹو: ثنااللہ خان

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ ڈالر کی یہ قدر حقیقی نہیں ہے، میں بڑے وثوق سے عرض کررہا ہوں کہ انشا اللہ ڈالر 200 روپے سے نیچے آئے گا۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سٹہ بازوں اور ہنڈی نے خوب کھیل کھیلا ہے، میں نے ساری کیلکوشن کی ہوئی ہیں، ڈالر کی یہ قدر حقیقی نہیں ہے، ڈالر کی اصل قدر 200 روپے سے نیچے ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ جب سے آپ واپس آئے ہیں ڈالر مسلسل نیچے جارہا ہے کیا آپ اس کو 200 روپے سے نیچے لے جائیں گے؟ جس پر وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے تمام ممالک میں ہوتا ہے کہ کچھ سٹہ بازی اور کچھ لوگ نفسیاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ جس طرف چلتا ہے تو پھر ڈالرائزیشن آف اکنامی شروع ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سائفر آڈیو لیکس: ’ناقابل معافی سازش‘ منطقی انجام تک نہیں لے گئے تو آئین سے غداری ہوگی، اسحٰق ڈار

انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر مارکیٹ بیسڈ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سٹہ بازاور اسمگلرز اپنے چند کروڑوں بنانے کے لیے ملک کو ہزاروں اربوں میں ڈبو دیں، میں نے ساری کیلکوشن کی ہوئی ہیں، ڈالر کی یہ قدر حقیقی مؤثر شرح تبادلہ نہیں ہے، سٹہ بازوں اور ہنڈی نے خوب کھیل کھیلا ہے، میں بڑے وثوق سے عرض کررہا ہوں کہ ڈالر کی اصل قدر 200 روپے سے نیچے ہے، اور انشا اللہ ڈالر 200 روپے سے نیچے آئے گا۔

اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ گزشتہ پیر سے ہر روز روپے کی قدر بہتر ہورہی ہے حالانکہ عالمی سطح پر ڈالر بہت زیادہ مضبوط ہے لیکن اپنی پالیسیوں کے تحت اس کو نیچے لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ روپے کی بے قدری سے مہنگائی بڑھی، اس کی وجہ سے عمران خان کی ٹیم کو شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا، کووڈ-19 سے قبل اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 13.75 فیصد تھا، کاروبار کو تقریبا 17 فیصد شرح سود پر قرضے مل رہے تھے، یہ پیدا کردہ آفت تھی، یہ نا تجربہ کار ٹیم تھی، ان کے بلند و بالا دعوے جھوٹے تھے۔

مزید پڑھیں: اسحقٰ ڈار کا پیٹرول کی قیمت 12 روپے 63 پیسے کم کرنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ کہاں آپ دنیا کے پریمیم کلب میں ایک ایٹمی قوت دنیا کی اٹھارہویں بڑی معیشت بن کر بیٹھا ہوتا، میں نے 2013 ار 2014 میں بھی اپوزیشن کا کہا تھا کہ آئیں، میثاق معیشت پر دستخط کرلیں، اگر ہم ایسا کرتے تو شاید 2025 یا 2026 میں پاکستان کو اس پریمیم کلب کا ممبر بنا دیتے جہاں دنیا کی 20 بڑی معیشیتں بیٹھتی ہیں، مالیاتی حوالے سے وہاں دنیا کے فیصلے ہوتے ہیں۔

’مفتاح اسمٰعیل سے پرانا تعلق ہے، ان کا اپنا نقطہ نظر ہے‘

انہیں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کا ویڈیو کلپ سنوایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ اگر آپ کو پیسے مل جائیں گے تو آپ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی نہیں لگائیں گے، ان کو میں نے کہا تھا کہ ہم ضرور بڑھائیں گے، اب پھر حکومت نے ڈیولپمنٹ لیوی نہیں بڑھائی، اللہ خیر کرے، پروگرام کے میزبان حامد میر نے ان سے پوچھا کہ مفتاح اسمٰعیل کہہ رہے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانا تھی لیکن آپ نے کم کردی۔

اس کے جواب میں اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ میرا مفتاح اسمٰعیل سے پرانا تعلق ہے، وہ ہمارے ساتھی ہیں، ظاہر ہے ان کا اپنا نقطہ نظر ہے، میرا اپنا نقطہ نظر ہے، آئی ایم ایف کو ہینڈل کرنا میری ذمہ داری ہے، مفتاح اسمٰعیل یا کسی اور نے ہینڈل نہیں کرنا، انہوں نے امریکا کے دورے پر آئی ایم ایف کو تجویز دی تھی کہ ٹیکسز کو تین ماہ کے لیے منجمد کردیں، انہوں نے انکار نہیں کیا، اور کہا کہ میں اپنے بورڈ میں جا کر بات کروں گی۔

’عوام پر بہت بوجھ ڈال چکے، 5 روپے کی پیٹرولیم لیوی لگانا درست نہیں ہوتا‘

دوسری بات یہ ہے کہ قیمت بڑھانے کی سمری نہیں تھی، تاہم قیمت کو 2 روپے 63 پیسے کم کرنے کی سمری تھی، میں سمجھتا ہوں کہ سیلاب میں ڈوبا ہوا آدھا پاکستان اور عوام کے اوپر جو بوجھ ہم ڈال چکے ہیں یہ درست نہیں ہوتا کہ میں پیٹرول اور ڈیزل پر 5، 5 روپے کی لیوی لگا دوں، میں نے ریلیف عوام کو دیا ہے۔

’کچھ نہیں ہوگا مجھے آئی ایم ایف سے ڈیل کرنا آتا ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ فکر نہ کریں، انشا اللہ کچھ نہیں ہوگا مجھے آئی ایم ایف سے ڈیل کرنا آتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے پاس متبادل حل موجود ہیں، بری بات ہے کہ ہم پبلک میں جا کر بول دیں، مجھے فون کرتے انہیں بتا دیتا کہ اس کا حل نمبر 1 یہ ہے، حل نمبر 2 یہ ہے، میں 25 سال سے ڈیل کررہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: چیلنجز درپیش ہیں، معیشت کی بہتری کے لیے وقت دیں، اسحٰق ڈار

حامد میر نے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحٰق ڈار سے پوچھا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ طاقت ور حلقوں نے آپ کے ساتھ ڈیل کی ہے، آپ کی ڈیل ہوئی ہے یا نہیں ہوئی اور وہ طاقت ور حلقوں پر الزام کیوں لگا رہے ہیں جس پر ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اور مجھے عمران خان کا بہت تجربہ ہے، ان کی جو بہادری اور سچائی ہے وہ سب آپ کو معلوم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے الفاظ اور تقاریر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ فرسٹریشن کا شکار ہیں، ان کو نواز شریف سے خوف ہے اور اس کے بعد مجھ سے تکلیف ہے کیونکہ ان کو پتا ہے کہ شاید ماضی کی طرح معیشت پھر ٹھیک ہوجائے، اور اگر معیشت ٹھیک ہو گئی تو عمران خان کو پالیٹیکل اسپیس نہیں ملے گی۔

’ڈیل اور ڈھیل صرف اور صرف عمران خان کی قسمت میں ہے‘

اسحٰق ڈار نے کہا کہ دوسری بات ڈیل کی ہے، ڈیل اور ڈھیل صرف اور صرف عمران خان کی قسمت میں ہے، انہوں نے ڈیل کرکے الیکشن لڑا، ڈیل کرکے اپنے آپ کو مینار پاکستان میں لانچ کروایا، ٹیکس پیئر کے کروڑوں روپے اس پر لگائے گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تمام ڈیلوں کے باوجود اگر یہ کارکردگی دکھاتے، یقین کریں کہ ان کے خلاف تحریک اعتماد کرنے کے لیے شاید قانونی اور آئینی راستہ اختیار نہ کرتے، تاہم انہوں نے سفارتی تعلقات، معیشت کی تباہی کردی، نئی نسل کے اخلاق کی تباہی کردی۔

ان سے سوال پوچھا گیا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ اسحٰق ڈار کا نیب نے بلا کر پوچھا تھا کہ تمہاری جائیدادیں کہاں سے آئی ہیں، جواب دینے کے بجائے یہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں وزیراعظم کے جہاز میں مفرور ہو جاتا ہے، اور اس کا راستہ عمران خان روکے گا، وہ آپ کا راستہ کیسے روکیں گے؟ اس پر جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان بدترین جھوٹا اور بزدل آدمی ہے، ججوں کی بحالی کے لیے نواز شریف نکلے تو یہ 10 فٹ کا گیٹ پھلانگ کر راولپنڈی سے بھاگ گئے تھے، ایک ایس ایچ او کی مار تھے، یہ تو اٹھانے والوں ان کو ہمت دی، ان کو کھڑا کیا، ان کو لانچ کیا، ان کے دماغ میں گھس گئی کہ شاید میں سچ مچ کا لیڈر ہوں، یہ اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان کو شرم آنا چاہیے کہ جنہوں نے ان کی مدد کی، اب ان کے خلاف کی بھی ان کی باتیں ہیں۔

مزید پڑھیں: اسحٰق ڈار نے وفاقی وزیرِ خزانہ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

ان کا کہنا تھا کہ میں ان (عمران خان) کو چیلنج کرتا ہوں، مجھے ثابت کریں کہ خدانخواستہ میں نے کوئی غلط کام کیا ہے، عمران خان سنو، میں نے زندگی میں کبھی ٹیکس ریٹرن کی 20 منٹ بھی تاخیر نہیں کی، جو تین بار پاکستان کو وزیرخزانہ رہ چکا تھا، اس کے خلاف جے آئی ٹی نے الزام لگایا تھا کہ اسحٰق ڈار نے 20 سال تک ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروائے۔

’انٹرپول نے کلیئرنس سرٹیفیکٹ بھیج دیا کہ آپ کے خلاف ہر چیز سیدھی ہے‘

اسحٰق ڈار نے کہا کہ میرے پاس سارا ریکارڈ موجود تھا، اس وقت انصاف والوں کے پاس وقت نہیں تھا، میرے خلاف کیسز نہیں ایک کیس ہے، اس کا ثبوت ہے کہ وہی کیس انٹرپول میں گیا عمران خان کی حکومت بارہا کہتی رہی کہ دو مہینے میں تین مہینے میں لائیں گے، وہی ثبوت میں نے انٹرپول کو بھیج دیا، انٹرپول نے کلیئرنس سرٹیفیکٹ بھیج دیا کہ آپ کے خلاف ہر چیز سیدھی ہے، اور حکومت کی جانب سے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

’عمران خان خود کو قابو کریں ورنہ ان کی اور میری پبلک میں جنگ شروع ہو گی‘

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تمہارے خلاف سارے کیسز کیلفورنیا، یوکے کی ٹیکس حکام کو فراڈ کرنے سے لے کر پاکستان میں جو کچھ کیا ہے، میں نہیں چاہتا کہ پہلے ٹی وی پروگرام میں آپ کا کٹھا چٹھا کھولوں لیکن اگر آپ خود کو قابو نہیں کریں گے تو قوم کو تمام چیزیں بتاؤں گا کہ یہ اصلیت ہے، میری وراننگ کو سنجیدہ لیں ورنہ ان کی اور میری پبلک میں جنگ شروع ہو گی، میں نہ کیس ڈیل کا حصہ ہوں اور نہ کسی سے این آر او مانگا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان خدا کا خوف کریں، سچ بولیں، اگر سچ بولنے کی توفیق نہیں ہے تو منہ بند رکھیں، ورنہ جواب دینا سب کو آتا ہے، میں نے آپ کا بہت لحاظ کیا ہے، آپ وہی ہیں جو 1993 سے پہلے مجھ سے ملنے کے لیے آدھا، آدھا گھنٹہ انتظار کیا کرتے تھے۔

نواز شریف کے پاکستان واپس آنے سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے علاج میں کورونا وبا کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے، اور ہمیں انصاف کی توقع ہے جیسا کہ مریم نواز کو ملا ہے، اسی طرح نواز شریف کو بھی انصاف ملے گا، وہ مستقبل قریب میں پاکستان واپس آئیں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں