بھارت میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے پر پاکستان کا اظہار مذمت، سخت کارروائی کا مطالبہ

08 اکتوبر 2022
—فائل فوٹو: ٹوئٹر
—فائل فوٹو: ٹوئٹر

پاکستان نے بھارت میں حالیہ دنوں میں ہونے والے مذہبی تہواروں نوراتری اور دسہرہ کے دوران انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں مسلمان لڑکوں کو کھمبوں سے باندھ کر تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت سے فوری طور پر درآمدات زیر غور نہیں، دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جس طرح ہندوتوا انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس کے حامیوں نے مسلمان لڑکوں کو مذہبی تہوار کے مقام پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں کھمبوں سے باندھ کر بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا یہ عمل انتہائی خوفناک ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ اسی طرح کا پریشان کن واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں مسلمان خاندانوں کے مکانات کو مسمار کرنے کی صورت میں پیش آیا ہے جن پر ہندوؤں کے مقدس مقامات پر مبینہ طور پر پتھراؤ کرنے کا بے بنیاد الزام عائد کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات قابل غور ہے کہ جہاں آج کے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد ایک معمول بن چکا ہے وہاں مذہبی تہواروں کے دوران صورتحال انتہائی تشویشناک ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گستاخانہ بیان پر بھارتی ناظم الامور دفتر خارجہ طلب، مسلح افواج کا بھی اظہار مذمت

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں اسلامو فوبیا میں خوفناک حد تک اضافہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس حکومت کی اکثریتی ’ہندوتوا‘ ایجنڈے کی اندھی تقلید اور اسلام اور مسلمان مخالف بیانیے کی واضح حمایت کا خوفناک نتیجہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت سے نام نہاد سیکولرزم کا لبادہ مکمل طور پر اٹھ گیا ہے جس نے اپنا غیر اعلانیہ ہندو راشٹرا کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے جہاں مسلمانوں کو ہمیشہ تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اذیتیں دے کر پسماندہ کیا جاتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ بنیادپرست ہندو انتہاپسند عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے جو مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ نفرت اور تشدد کو اکسا رہے ہیں ۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بیان میں مزید کہا کہ انتہاپسند عناصر کو مکمل استثنیٰ دینے کے بجائے بھارتی حکومت کو ملک میں بڑھتی ہوئی اسلامو فوبیا کی لہر کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مسلمان ان کے عقیدے کا شکار نہ ہوں۔

مزید پڑھیں: دفترخارجہ نے کالعدم جماعت کی امدادی کارروائیوں کے حوالے سے بھارتی خبر مسترد کر دی

بیان کے مطابق پاکستان نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور اس کی انسانی حقوق کونسل سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت میں اسلامو فوبیا کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کا نوٹس لیں اور مسلمان شہریوں کی سلامتی اور بہبود کو یقینی نہ بنانے پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔

تبصرے (0) بند ہیں