پاکستان کا عالمی برادری سے افغان معیشت کی بحالی کیلئے مدد کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2022
<p>منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر بھی تشویش ہے — فائل فوٹو: اے پی پی</p>

منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر بھی تشویش ہے — فائل فوٹو: اے پی پی

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کی معیشت کی بحالی میں مدد اور انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری طور پر 4 ارب 20 کروڑ ڈالر فراہم کرے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفیر منیر اکرم نے کہا کہ ہمیں افغان معیشت اور اس کے بینکنگ سسٹم کو بحال کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لیے بیرون ملک رکھے گئے افغانستان کے اثاثوں کو واپس افغانستان کے مالیاتی نظام میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے افغانستان کے لیے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل پر اقدامات کرے۔

واضح رہے کہ افغان اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کی اپیل براہ راست امریکا کو کی گئی ہے جس نے 2021 میں طالبان کے افغانستان کا اقتدار دوبارہ سنبھالنے کے بعد 7 ارب ڈالر مالیت کے افغان اثاثوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

افغانستان سے معاملات کے لیے عملی حکمت عملی کی تجویز دیتے ہوئے منیر اکرم نے کہا کہ عالمی برادری کی پہلی ترجیح افغانستان میں انسانی بحران کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

منیر اکرم نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن پاکستان کے لیے اہم ترین مسئلہ ہے، پاکستان 40 برس سے زائد عرصے سے 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر چکا ہے۔

منیر اکرم نے امریکا کی جانب سے افغانستان کے اثاثے منجمد کرنے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان وسائل کو روکنے کے حق میں تمام قانونی دلائل جانتے ہیں لیکن آپ کو بہرحال افغان معیشت کی تعمیر نو کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنے کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) بھی اس حوالے سے محتاط حکمت عملی مرتب کرنے پر غور کر رہی ہے کہ بیرون ملک رکھے گئے افغان اثاثوں کو واپس افغانستان کے اقتصادی انتظام میں شامل کیسے کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر انسانی بحران ختم نہ ہوا تو مہاجرین کا ایک اور دباؤ آئے گا جس کا بوجھ افغانستان کے پڑوسی ممالک کو اٹھانا پڑے گا، لہٰذا ہمیں انسانی بحران سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ ’پاکستان کو افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر بھی تشویش ہے، ہم اب بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے سرحد پار حملوں کا شکار ہیں جنہیں دیگر ذرائع سے معانت ملتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اصل خطرہ داعش اور ٹی ٹی پی سے ہے، مشترکہ ثقافت اور تاریخ کے ساتھ افغانستان کے ایک قریبی پڑوسی ملک ہونے کے باوجود ہمیں اب بھی ان سے نمٹنے میں دشواری کا سامنا ہے کیونکہ اس کے علاوہ چند دیگر عوامل بھی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں‘۔

منیر اکرم نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں خواتین کے حقوق اور تمام فریقین کی شمولیت پر مبنی حکومت کی تشکیل سے متعلق خدشات پر عالمی برادری کے ساتھ ہے، لیکن افغان معاشرے کی حقیقت کو بھی دیکھنا ہوگا کہ افغانستان کیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں