توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رہے گی، پی ٹی آئی قیادت کےخلاف درخواست نمٹادی گئی

اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2022
<p>— فائل/فوٹو: ڈان نیوز/ اے پی پی</p>

— فائل/فوٹو: ڈان نیوز/ اے پی پی

توہین الیکشن کمیشن اور توہین الیکشن کمشنر کیس میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی مختلف ہائی کورٹس میں جاری کیسز کو یکجا کرنے کے لیے درخواست کو نمٹاتے ہوئے اسے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پارٹی رہنماؤں اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، الیکشن کمیشن نے درخواست میں توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی کے خلاف ہائی کورٹس کے حکم امتناع خارج کرنے کی استدعا کی تھی۔

آج توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللّٰہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف الیکشن کمیشن کے نوٹسز لاہور ہائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، تمام ہائیکورٹس میں الیکشن کمیشن کے خلاف پی ٹی آئی رہنماؤں کی درخواستوں کو یکجا کردیا جائے۔

پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ صرف فریقین کی سہولت کے لیے تمام مقدمات یکجا نہیں کیے جاسکتے، جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے کارروائی پر حکم امتناع کیسے دیا جاسکتا ہے ؟ پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی پر حکم امتناع نہیں ہے جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے جواب جمع کرادیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا مختلف ہائی کورٹس میں زیر سماعت مقدمات یکجا ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ عدالتی فیصلوں سے بتائیں، اس دوران الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے پڑھنے تک مہلت کی استدعا کی جس پر سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا جس کے بعد سماعت کا آغاز کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درخواستیں نمٹا دیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ توہین الیکشن کمیشن کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں پر جلد فیصلہ کریں، الیکشن کمیشن کے مطابق اس کو لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی قیادت کے خلاف حکم دینے سے روک رکھا ہے جب کہ پی ٹی آئی قیادت کے خلاف حکم، توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جاری کیا جائے گا۔

عدالت عظمیٰ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا لاہور ہائی کورٹ نے توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی سے نہیں بلکہ ان کے خلاف حتمی فیصلے سے روکا ہے، قانون کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رہے گی۔

اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کے خلاف تادیبی کارروائی سے روکا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ تادیبی کارروائی تب ہوگی جب توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی مکمل ہو جائے۔

وکیل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 10 کمیشن کو توہین کی کارروائی کی اجازت دیتا ہے، عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہو رہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کسی ہائی کورٹ نے کارروائی سے نہیں روکا، الیکشن کمیشن نے اکتوبر کے بعد سے توہین کی کارروائی ازخود بند کر رکھی ہے، اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ہائی کورٹ کے احکامات نے روک رکھا ہے، جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن بتائے کہ توہین کمیشن کی کارروائی کیسے کی گئی ہے؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ بظاہر ہائی کورٹ کے حکم سے ایک آئینی ادارے کو غیر فعال کردیا گیا، چیف جسٹس الیکشن کمیشن کو آئین کے تحت کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے، اس دوران وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو الیکشن کمیشن میں پیش ہونے کا حکم دیا جائے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم قبل از وقت ہوگا، لاہور ہائی کورٹ کا حکم الیکشن کمیشن کو توہین کمیشن کی کارروائی سے نہیں روک رہا، ہائی کورٹ میں زیر التوا کیسز کو یکجا کرنے کی الیکشن کمیشن کی استدعا بھی قبل از وقت ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹس کو حکم دیا جائے کہ توہین الیکشن کمیشن کے خلاف درخواستوں پر جلد فیصلہ کرے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن سے متاثر ہوا ہوں، یہ جلد کیسز پر فیصلہ چاہتے ہیں۔

پس منظر

رواں سال اگست میں الیکشن کمیش نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور متعدد انٹرویوز کے دوران الزمات عائد کرنے پر الیکشن کمیشن کی توہین اور ساتھ ہی عمران خان کو توہین چیف الیکشن کمشنر کا نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے نوٹس میں عمران خان کے مختلف بیانات، تقاریر، پریس کانفرنسز کے دوران اپنے خلاف عائد ہونے والے بے بنیاد الزامات اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف استعمال ہونے والے الفاظ، غلط بیانات و من گھڑت الزامات کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان کو 30 اگست کو اپنے جواب کے ساتھ کمیشن میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو توہین الیکشن کمیشن کے نوٹسز جاری کیے ہیں اور کہا گیا ہے کہ 30 اگست کو ذاتی حیثیت یا بذریعہ وکیل پیش ہوں۔

الیکشن کمیشن پر الزامات

رواں سال 11 مئی کو سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا الیکشن کمیشن پر اعتماد صفر ہوچکا، سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر مسلم لیگ (ن) میں کوئی عہدہ لے لیں، عزت دار طریقہ یہی تھا کہ الیکشن کمشنر خود استعفیٰ دے دیتے لیکن بدقسمتی سے اس کے برعکس ہوا، الیکشن کمیشن مسلسل پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی قوت کے خلاف ایک پارٹی بنا ہوا ہے۔

اس کے بعد 16 مئی کو صوابی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سارے پاکستان کو پتا ہے کہ لوٹے کون ہیں لیکن الیکشن کمیشن ان کو بچانے کے لیے نکتے ڈھونڈ رہا ہے۔

پھر 29 جون کو فواد چوہدری، اسد عمر اور شیریں مزاری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو فوری اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہیے کیونکہ وہ اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں، شیریں مزاری نے کہا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ جس طرح انہوں نے مخصوص نشستوں پر نوٹیفکیشن روکا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

عمران خان نے 18 جولائی کو عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس الیکشن کمشنر پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں، انہوں نے سینیٹ کا الیکشن کروایا، سپریم کورٹ نے اجازت دی کہ آپ سینیٹ کے ووٹ کی تصدیق کریں، الیکشن کمیشن اور تمام سیاسی جماعتوں کو معلوم ہے کہ سینیٹ کی خفیہ رائے شماری میں پیسہ چلتا ہے، اس الیکشن کمشنر نے اس پر عمل نہیں کیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ جتنا پیسہ پچھلے سینیٹ کے انتخابات میں چلا اتنی تاریخ میں کبھی نہیں چلا، یوسف رضا گیلانی کا بیٹا پیسے دیتے ہوئے پکڑا گیا، اسی الیکشن کمشنر نے اس کی تحقیقات کی، سوا سال ہوگیا ہے اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ میں اب بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ اس ملک کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن کروائیں، اس الیکشن کمشنر کی موجودگی میں صاف اور شفاف انتخابات کبھی نہیں ہوسکتے، ملک کی سب سے بڑی جماعت کو اس الیکشن کمشنر پر اعتماد ہی نہیں ہے، الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے، وہ جانب دار آدمی ہیں۔

28 جولائی کو عمران خان نے کہا ہم نے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات صرف ان جماعتوں کے خلاف نہیں بلکہ انتظامیہ، ریاستی مشینری اور الیکشن کمیشن کے خلاف لڑے ہیں، الیکشن کمیشن نے جس طرح یہ الیکشن کروایا ہے اس پر انہیں سزا دینی چاہیے، اس نے ہمیں ہرانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ایک پارٹی فیورٹ ہوتی ہے اور ان کے لیے کام بھی کرتے ہیں لیکن میں نے کبھی اس طرح کا الیکشن کمیشن نہیں دیکھا، ’یہ سکندر سلطان کی طرح کا بددیانت الیکشن کمشنر کبھی نہیں دیکھا اور یہ ڈسکہ کے ضمنی الیکشن سے شروع ہوا جہاں تقریباً 400 میں سے 20 پر ریٹرننگ افسر نے بے ضابطگی بتائیں، اس نے سارا الیکشن پھر سے کروایا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں