’حکومتِ سندھ کی درخواست پھر مسترد‘، کراچی، حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کل ہی ہوں گے، الیکشن کمیشن

مراسلے میں کہا گیا کہ حساس اداروں کی ممکنہ دہشتگردی حملے کے خدشات کو رد نہیں کیا جاسکتا— فائل فوٹو: اے ایف پی
مراسلے میں کہا گیا کہ حساس اداروں کی ممکنہ دہشتگردی حملے کے خدشات کو رد نہیں کیا جاسکتا— فائل فوٹو: اے ایف پی

الیکشن کمیشن نے حکومت سندھ کی جانب سے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی ایک اور درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات 15 جنوری کو ہی منعقد ہوں گے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی صدارت میں اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس کے دوران صوبائی حکومت کے مراسلے پر غور کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’مراسلے میں حکومت سندھ نے سیکشن 34 سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت الیکشن کمیشن کو کراچی اور حیدر آباد ڈویژن میں 15 جنوری کو انتخابات ملتوی کرنے کی استدعا کی تھی‘۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے مذکورہ بالا مراسلے پر غور کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کل 15 جنوری کو ہی ہوں گے۔

الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ پُرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف انتظامات کرائیں۔

صوبائی الیکشن کمشنر اعجاز انور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں میڈیا کے ذریعے تمام ووٹرز کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ووٹ کے لیے ضرور نکلیں، بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کل ہی ہوگی، الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تیار ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ حساس پولنگ اسٹیشنز پر ایف سی اہلکار تعینات کیے جارہے ہیں، 500 کے قریب حساس پولنگ اسٹیشنز پر رینجرز کی اسٹیٹک تعیناتی بھی کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز پر پولیس کی نفری بھی تعینات ہے اور اس حوالے سے بھی پورا پلان موجود ہے۔

’التوا کی ایک اور درخواست‘

قبل ازیں حکومت سندھ نے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر الیکشن کمیشن سے ایک مرتبہ پھر کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

حکومت سندھ کے لوکل گورنمنٹ اینڈ ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا تھا کہ سندھ حکومت نے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پولنگ اسٹیشن میں پاک فوج اور رینجرز کی عدم دستیابی پر خدشات کا اظہار کیا تھا تاہم اس حوالے سے صوبائی حکومت کے خدشات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

سندھ حکومت نے کہا کہ 13 جنوری کو صوبائی چیف سیکریٹری کے دفتر میں اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں سیکریٹری الیکشن کمیشن کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو امن و امان کی صورتحال کے علاوہ مختلف سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو لاحق خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

مراسلے میں حکومت سندھ کے خدشات اور تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پولنگ اسٹیشنز پر پاک فوج اور رینجرز کی دستیابی کی اشد ضرورت ہے اور حکومت سندھ اس حوالے سے پہلے ہی وزارت داخلہ، وفاقی حکومت کو مطلوبہ سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے خط لکھ چکی ہے۔

سندھ حکومت نے خط میں درخواست کی کہ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہونے تک بلدیاتی الیکشن ملتوی کیے جائیں اور اس حوالے سے حکومت سندھ الیکشن کمیشن کے جواب کی منتظر ہے۔

اسی دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ ’سندھ حکومت کراچی کے بلدیاتی انتخابات کو تاخیر کا شکار بنانے کی ایک اور کوشش کررہی ہے‘۔

انہوں نے ٹوئٹ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’امپورٹڈ حکومت‘ نے پاکستان کو ’بنانا ریپبلک‘ میں تبدیل کردیا ہے۔

وزارت داخلہ کی فوج اور رینجرز کی تعیناتی سے معذرت

وزارت داخلہ نے سندھ میں 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران فوج اور رینجرز کی تعیناتی سے معذرت کرنے پر الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کردیا۔

خط میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ نے فوج اور رینجرز کی تعیناتی کا معاملہ جی ایچ کیو کے ساتھ اٹھایا تھا جس پر جی ایچ کیو نے کہا کہ الیکشن کے دوران اتنی بڑی تعداد میں تعیناتی ممکن نہیں ہے۔

خط میں کہا گیا کہ پہلے درجے پر اسٹیٹک تعیناتی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، انتخابی عملے اور مواد کو سیکیورٹی دینا ممکن نہیں اس لیے الیکشن کمیشن صرف 500 حساس پولنگ اسٹیشنز کی نشاندہی کرے۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ 500 حساس پولنگ اسٹیشن کے باہر رینجرز کی اسٹیٹک تعیناتی کی جاسکتی ہے۔

وزارت داخلہ کی پولنگ اسٹیشنز پر فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تعیناتی کی ہدایت

اسی دوران وزرات داخلہ نے حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر فرنٹیر کانسٹیبلری کی تعیناتی کی ہدایت کردی ہے

الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنز پر فرنٹیر کانسٹیبلری کی اسٹیٹک تعیناتی کی درخواست کی تھی۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ تعیناتی کی تاریخ اور علاقہ سندھ حکومت ، الیکشن کمیشن ، فرنٹیر کانسٹیبلری کے ساتھ مشاورت سے طے کریں گی۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 2 ہزار 300 سے زائد پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا ہے جس کے بعد وزارت داخلہ نے فوج اور رینجرز اہلکاروں کی اسٹیٹک تعیناتی سے معذرت کی تھی۔

بلدیاتی انتخابات کےمعاملے پر تصادم کا خدشہ ہے، رانا ثنااللہ

اسی دوران وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کراچی اورحیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پرکشیدگی پرتشویش کا اظہار کیا ہے

راناثنااللہ نے کہا کہ 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پرسیاسی جماعتوں کےدرمیان اختلافات نے تشویشناک صورتحال اختیارکرلی ہے، دو سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات 15 جنوری کو کروانے کے حق میں ہیں اور 2 جماعتیں انتخابات نہیں کروانا چاہتی۔

وفاقی وزیر رانا ثنا اللہ نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کراچی اورحیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات کےمعاملے پرتصادم کا خدشہ ہے، بعض شرپسند عناصر صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، تصادم اورامن وامان کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے

وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئی ایک چھوٹا سا واقعہ کراچی اورحیدرآباد میں کسی بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتاہے، سیاسی جماعتوں اورالیکشن سےمتعلقہ دیگر فریقین کومعاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کی فضا ختم کرنے کی ضرورت ہے

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن اور عدلیہ موجودہ حالات کا نوٹس لیں اور آئین و قانون کی روشنی میں مناسب حل نکالا جائے۔

ایم کیو ایم پاکستان گورنر سندھ کی مداخلت کی خواہاں

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سندھ میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر سیاسی گرما گرمی میں گزشہ روز رات گئے اس وقت ڈرامہ رُخ اختیار کیا جب متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اعلیٰ قیادت نے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سے ملاقات کے بعد انتخابات ملتوی کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کرنے کی افواہیں گردش کررہی تھیں۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ خالد مقبول صدیقی کی زیر قیادت ایم کیو ایم پاکستان نے گورنر سے ملاقات کی اور ان کی شکایات دور کرنے پر زور دیا۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور سابق صدر آصف زرداری نے بھی ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت سے رابطہ کرکے شکایات اور تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

یاد رہے کہ ایم کیوایم کی جانب سےحلقہ بندیوں پر شدید تحفظات کے پیش نظر کراچی، حیدر آباد اور دادو میں 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا پس منظر

خیال رہے کہ بلدیاتی انتخابات کی مدت 30 اگست 2020 کو ختم ہوگئی تھی جبکہ الیکشن کمیشن اس کے بعد 120 دن کے اندر کرانے کا پابند ہوتا ہے۔

انتخابی عمل اصل میں 24 جولائی 2022 کو ہونے تھا لیکن ملک بھر بالخصوص سندھ میں سیلاب کی وجہ سے انتخابی عمل ملتوی کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے 28 اگست 2022 کو بلدیاتی انتخابات کا شیڈول دوبارہ ترتیب دیا، لیکن کراچی میں سیلاب کی صورتحال اور پولیس اہلکاروں کی کمی کی وجہ سے انہیں دوبارہ مؤخر کر دیا گیا تھا۔

تاہم اس کے بعد الیکشن کمیشن نے 15 جنوری کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تھا اور الیکشن ملتوی کرنے کی ایم کیو ایم پاکستان کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

ایم کیوایم کی جانب سےحلقہ بندیوں پر تحفظات کے پیش نظر 13 جنوری کو حکومت سندھ نے رات گئے کراچی، حیدر آباد اور دادو میں 15 جنوری کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد، دادو اور کراچی میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے لیکن 15 جنوری کو ضلع ٹنڈو الہ یار، بدین، سجاول، ٹھٹہ، ٹنڈو محمد خان اور مٹیاری میں حکومت سندھ بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے اور وہاں کے لوگ الیکشن کی مکمل طور پر تیاری کریں اور وہاں الیکشن ملتوی نہیں ہوں گے۔

صوبائی حکومت نے اس کے علاوہ کراچی اور حیدرآباد میں حلقہ بندیاں ختم کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا تھا۔

تاہم گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے سندھ حکومت کی جانب سے کراچی، حیدرآباد اور دادو میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات 15 جنوری کو ہی ہوں گے۔

الیکشن کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ وزارت داخلہ کو کہا جائے گا کہ انتخابات کے دوران انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر فوج/ رینجرز کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے بعد سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے الیکشن کمیشن کے اعلان کے بعد زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن صوبائی حکومت کے دو شہروں میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتی۔

تبصرے (0) بند ہیں