امریکا کے قرضے بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، ڈیفالٹ کا خطرہ

20 جنوری 2023
<p>ملک کے ڈیفالٹ اور مالی بحران کا شکار ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے— فوٹو: اے ایف پی</p>

ملک کے ڈیفالٹ اور مالی بحران کا شکار ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے— فوٹو: اے ایف پی

امریکا کے قرضے 31.1ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں جس کے بعد ریپبلیکنز کی اکثریت کے حامل ایوان نمائندگان اور صدر بائیڈن کے درمیان جاری محاذ آرائی کے نتیجے میں ملک کے ڈیفالٹ کرنے اور مالی بحران کا شکار ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سیکریٹری خزانہ جینٹ یلن نے ایوان کی اسپیکر کیون میک کارتھی سمیت کانگریس کے رہنماؤں کو بتایا کہ ان کا محکمہ خصوصی کیش مینجمنٹ کے ذریعے ڈیفالٹ کے خطرے کو پانچ جون تک ٹال سکتا ہے۔

کارپوریٹ رہنماؤں اور کم از کم ایک کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ بائیڈن اور ریپبلیکن رہنماؤں میں اگر یہ محاذ آرائی کی کیفیت زیادہ عرصے تک برقرار رہی تو اس سے مارکیٹ شدید عدم استحکام کا شکار ہو گی اور پہلے سے بحران سے دوچار عالمی معیشت مزید سنگین صورتحال سے دوچار ہو جائے گی۔

سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ میں کانگریس سے درخواست کرتی ہوں کہ امریکا کے مفادات کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کرے البتہ ان کی اس درخواست کے باوجود ریپبلیکنز اور بائیڈن کے درمیان معاملات جلد حل ہونے کی کوئی خاص امید نہیں۔

ریپبلیکنز ایوان میں اپنی معمولی اکثریت اور بڑھتے ہوئے قرضوں کی بنیاد پر حکومتی پروگرام سے کٹوتی چاہتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ قرض کی ادائیگیوں کو ترجیح دے کر موجودہ صورتحال میں بھی ڈیفالٹ سے بچا جا سکتا ہے لیکن وائٹ ہاؤس نے اس تجویز کو یکسر مسترد کردیا۔

وائٹ ہاؤس کی ڈپٹی پریس سیکریٹری اولیویا ڈیلٹن نے کہا کہ قرضوں کے معاملے پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، کانگریس کو گزشتہ تین مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی اس معاملے کو غیرمشروط طور پر حل کرنا چاہیے۔

ادھر موڈی انویسٹرز سروس نے اس حوالے سے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے کانگریس تک رسائی میں کامیاب رہے گی۔

کنزرویٹو کے سرفہرست نمائندگان چپ روئے نے کہا کہ ہم قرضوں پر ڈیفالٹ نہیں کریں گے کیونکہ ہم اپنے پر سود کی ادائیگیوں کی صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے ہمیں اندھا دھند قرض کی حد بڑھانے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے مارکیٹ میں عدم استحکام اور کساد بازاری کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے ہی کساد بازاری کی جانب جا رہے ہیں لہٰذا ہمیں یہ اتنی زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ سراسر بے وقوفی ہو گی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں