چین میں ایک ہفتے کے دوران کورونا سے متاثرہ 13 ہزار افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2023
<p>محکمہ صحت کےعہدیدار کا کہنا ہے کہ چین میں آبادی کی اکثریت کورونا وائرس سے متاثر ہو چکی ہے — فوٹو: اے ایف پی</p>

محکمہ صحت کےعہدیدار کا کہنا ہے کہ چین میں آبادی کی اکثریت کورونا وائرس سے متاثر ہو چکی ہے — فوٹو: اے ایف پی

چین میں 13 سے 19 جنوری کے درمیان ہسپتالوں میں کورونا وائرس کی وبا کے سبب تقریباً 13 ہزار اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

محکمہ صحت کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ چین میں آبادی کی اکثریت کورونا وائرس سے متاثر ہو چکی ہے۔

چین نے ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ 12 جنوری تک ہسپتالوں میں کورونا سے تقریباً 60 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ کورونا وبا کی روک تھام کے لیے عائد سخت پابندیاں ختم کرنے کے بعد سے سرکاری اعدادوشمار کے حوالے سے بڑے پیمانے پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

چین کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہسپتال میں داخل 681 مریض کورونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کے سبب ہلاک ہوئے جبکہ 11 ہزار افراد کورونا سمیت دیگر بیماریوں کے سبب ہلاک ہوئے‘۔

ان اعدادوشمار میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو کورونا وائرس میں مبتلا ہو کر اپنے گھروں میں ہی انتقال کر گئے۔

پیش گوئی کرنے والی ایک آزاد فرم ’ایئرفنِٹی‘ نے تخمینہ لگایا ہے کہ نئے سال کی تعطیلات کے دوران چین میں کورونا سے یومیہ اموات 36 ہزار کے قریب پہنچ جائیں گی۔

اس فرم کا اندازہ ہے کہ دسمبر میں چین کی جانب سے ’زیرو کووڈ پالیسی‘ ختم کرنے کے بعد سے 6 لاکھ سے زائد افراد اس بیماری سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

حالیہ روز میں کئی لاکھ لوگوں نے طویل انتظار کے بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ دوبارہ ملاقات کے لیے ملک بھر کا سفر کیا ہے تاکہ اتوار کو نئے قمری سال کی تعطیل منائی جاسکے، بڑے پیمانے پر لوگوں کے اس سفر سے وبا کے تازہ پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ چین کا سب سے بڑا اور اہم تہوار نئے قمری سال کی آمد ہے جس کا آغاز ہر سال 20 جنوری سے 20 فروری کے درمیان ہوتا ہے۔

تاہم محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ چین میں نئے قمری سال کے موقع پر لاکھوں افراد کے گاؤں واپس آنے کے بعد آئندہ 2 سے 3 ماہ میں کورونا کی دوسری لہر کا امکان نہیں ہے کیونکہ تقریباً 80 فیصد آبادی پہلے ہی وائرس سے متاثر ہو چکی ہے۔

چائنا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن میں ماہر وبائی امراض وو زونیو نے کہا کہ ’اگرچہ موسم بہار کے تہوار کے دوران سفر کرنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس وبا کے پھیلاؤ کو ایک خاص حد تک پھیلا سکتی ہے، تاہم کورونا وبا کی موجودہ لہر پہلے ہی ملک میں تقریباً 80 فیصد لوگوں کو متاثر کر چکی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مستقبل قریب، مثلاً آئندہ 2 سے 3 ماہ میں ملک بھر میں کورونا وبا کی دوسری لہر آنے کا امکان بہت کم ہے‘۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں