’مضر صحت چکنائی کے استعمال سے پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ خطرے میں ہے‘

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2023
<p>سنہ 2018 میں عالمی ادارہ صحت نے مضرصحت  ٹرانس فیٹی ایسڈ کا 2023 تک خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا— فوٹو: رائٹرز</p>

سنہ 2018 میں عالمی ادارہ صحت نے مضرصحت ٹرانس فیٹی ایسڈ کا 2023 تک خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا— فوٹو: رائٹرز

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں صنعتی سطح پر تیار شدہ چربی یا مضر صحت چکنائی کے استعمال سے ملکی آبادی کا بڑا حصہ خطرے میں ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق عام طور پر صنعتی سطح پر تیار کردہ اس چکنائی کو کوکنگ آئل، بیکری مصنوعات اور پیک شدہ غذاؤں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

سنہ 2018 میں عالمی ادارہ صحت نے مضرصحت ٹرانس فیٹی ایسڈ کا 2023 تک خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان فیٹی ایسڈ سے دل کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں جس سے مرنے والوں کی تعداد سالانہ 5 لاکھ ہوگئی ہے۔

16 میں 9 ممالک میں ٹرانس فیٹی ایسڈ سے دل کی بیماری کے باعث اموات کی شرح زیادہ ہے ، یہ ممالک بہترین احتیاطی پالیسیوں پر عمل نہیں کررہے۔

ان ممالک میں آسٹریلیا، آذربائیجان، بھوٹان، ایکواڈور، مصر، ایران، نیپال، پاکستان اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے ان ممالک سے بہترین احتیاطی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم 43 ممالک جن کی مجموعی آبادی 2 ارب 80؍کروڑ ہے ان ممالک نے موٹاپے پر قابو پانے کے لیے بہترین احتیاطی پالیسیاں اختیار کی ہیں تاہم دنیا کا زیادہ تر حصہ اب بھی غیر محفوظ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا مزید کہنا تھا کہ ٹرانس فیٹس زہریلا کیمیکل ہے جو انسان کو موت کے منہ میں لے جاتا ہے اور اس کی کھانوں میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، اس زہریلے کیمیکل سے ایک ہی بار میں ہمیشہ کے لئے چھٹکارا حاصل کرنے کا وقت ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تسلیم کیا کہ ٹرانس فیٹس سے خاتمے کا ہدف مستقبل قریب میں حاصل کرنا مشکل ہے، عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا کہ ٹرانس فیٹس کا کوئی تسلی بخش فائدہ نہیں ہے اور اس سے صحت پر بُرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جس کے نظام پر اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے مقابلے ٹرانس فیٹ کے خاتمے سے اخراجات میں کمی اور صحت پر بے شمار فائدے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے غذائی اور خوراک کے تحفظ فرانسسکو برانکا کا کہنا تھا کہ 60 ممالک جن کی مجموعی آبادی 3 ارب 40 کروڑ یا 43 فیصد آبادی میں موٹاپے پر قابو پانے کی پالیسی موجود ہے۔

60 میں 43 ممالک موٹاپے پر قابو پانے کے لیے بہترین احتیاطی پالیسیاں اختیار کررہی ہیں۔

بہترین احتیاطی پالیسیوں کا مطلب تمام کھانوں میں کُل چکنائی کا فی 100 گرام صنعتی سطح پر تیار شدہ ٹرانس فیٹ کا 2 گرام ہونا چاہیے یا ٹرانس فیٹ کا سب سے بڑا ذریعہ ہائیڈرو جنیٹڈ تیل کی پیداوار یا اس کے استعمال پر پابندی عائدکرنا ہے۔

اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت نے ملک بھر میں متعدد ایمرجنسیاں نافذ کی ہیں جن میں یوکرین میں جنگی صورتحال، یمن، افغانستان، شام، اتھوپیا میں جھڑپوں یا تصادم کے دوران انسانی صحت پر اثرات اور پاکستان میں سیلاب شامل ہے، ادارہ نے کام جاری رکھنے کے لیے مزید فنڈ کی اپیل کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے سال 2023 کے دوران دنیا بھر میں ہنگامی صحت کا سامنا کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے 2 ارب 54 کروڑ ڈالر کی اپیل کی ہے۔

ان تمام ہنگامی حالات کے درمیان کووڈ 19 کی وجہ سے صحت کے بہت بڑے نظام میں خلل اور خسرہ اور ہیضہ جیسے وبائی امراض کا پھوٹ پڑنا شامل ہے، عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم بہت بڑے بحران کا سامنا کررہے ہیں جس سے نکلنے کے لیے فوری کارروائی کرنا ضروری ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں