’نفیس و ذہین شخص بہت جلدی دنیا چھوڑگئے‘، عامر لیاقت کی برسی پر شوبزشخصیات افسردہ

اپ ڈیٹ 09 جون 2023
نامور ٹی وی میزبان عامر لیاقت کا انتقال 9 جون 2022 کو ہوا تھا—فوٹو: انسٹاگرام
نامور ٹی وی میزبان عامر لیاقت کا انتقال 9 جون 2022 کو ہوا تھا—فوٹو: انسٹاگرام

پاکستان کے نامور ٹی وی میزبان، رکن قومی اسمبلی، اسکالر عامر لیاقت کی پہلی برسی کے موقع پر پاکستان شوبز فنکاروں نے ان کے لئے دعائے مغفرت کی اور ان کے لواحقین اور چاہنے والوں کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

عامر لیاقت کی سابقہ اہلیہ ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے چند فنکاروں کے خیالات کو ریکارڈ کرکے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب پر ویڈیو شئیر کی۔

اداکارہ یمنیٰ زیدی، اینکر پرسن مایا خان، اداکار ساجد حسن اور اداکارہ بشریٰ انصاری نے عامر لیاقت کی پہلی برسی کے موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اداکار ساجد حسن نے کہا کہ عامر لیاقت انتہائی نفیس شخص تھے، وہ بہت جلدی ہمیں چھوڑ کر چلےگئے۔

—فوٹو: عالم آن لائن
—فوٹو: عالم آن لائن

اداکارہ یمنیٰ زیدی نے کہا کہ میرے کرئیر کے ابتدائی دنوں میں عامر لیاقت نے میرا انٹرویو کیا جہاں میں نے انہیں عامر لیاقت کو انتہائی ذہین، حاضر جواب اور بہترین میزبان پایا، اللہ ان کے درجات بلند فرمائے، وہ ہمیشہ ایک بیترین میزبان کے طور پر ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے کہا کہ افسوس ہے کہ لوگ عامر لیاقت کو یاد کرتے ہوئے ان کی وہ تمام خصوصیات بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے کافی شہرت پائی۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم کسی کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ان کی اچھی باتوں کو یاد رکھیں،ان کا زبان پر عبور، وسیع علم تھا۔

ٹی وی میزبان ندا یاسر نے کہاکہ عامر لیاقت کو ہم سے بچھڑے ایک سال ہوگیا ہے، آج بھی یقین نہیں آتا، عامر لیاقت کے ساتھ کام کرکے اندازہ ہوا کہ وہ انتہائی ذہین تھے، ہر موضوع پر روانی سے بولتے، ہر کسی کو عزت دیتے، وہ ہمیشہ ہمارے دل میں زندہ رہیں گے’۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 9 جون 2022 کی دوپہر کو کراچی کی ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے تھے، انہیں انتہائی تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کی تھی۔

عامر لیاقت اپنی موت سے قبل کچھ عرصے سے نجی زندگی میں شدید مسائل سے دوچار تھے۔

عامر لیاقت حسین نے اپنی زندگی میں تین شادیاں کی تھیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام
عامر لیاقت حسین نے اپنی زندگی میں تین شادیاں کی تھیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام

عامر لیاقت نے پہلی شادی ڈاکٹر بشریٰ سے کی تھیں، جن سے انہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں، جن کی عمریں 20 سال سے زائد ہیں۔

ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے دسمبر 2020 میں تصدیق کی تھی کہ شوہر نے انہیں طلاق دے دی۔

عامر لیاقت نے دوسری شادی ماڈل و اداکارہ طوبیٰ انور سے جولائی 2018 میں کی تھی جو ان سے کئی سال کم عمر تھیں اور دونوں کی شادی 4 سال سے بھی کم عرصے تک چلی۔

گزشہ سال فروری میں طوبیٰ انور نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے عامر لیاقت سے خلع لے لی ہے تاہم عامر لیاقت مسلسل اس کی تردید کرتے رہے۔

عامر لیاقت نے تیسری شادی فروری 2022 میں بہاولپور کی 18 سالہ لڑکی دانیہ شاہ سے کی تھی، جنہوں نے گزشتہ سال مئی کے آغاز میں خلع کے لیے مقامی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

عامر لیاقت انتقال سے قبل کئی برسوں سے میڈیا انڈسٹری میں کام کر رہے تھے، 2001 میں انہوں نے جیو ٹی وی میں شمولیت اختیار کی تھی جہاں انہوں نے ایک مذہبی پروگرام عالم آن لائن کی میزبانی کی تھی جس نے انہیں بڑی پیمانے پر مقبولیت بخشی تھی۔

عامر لیاقت کو نامور ٹی وی میزبان کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی
عامر لیاقت کو نامور ٹی وی میزبان کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی

انتقال سے قبل گزشتہ کچھ برسوں میں عامر لیاقت نے جیو ٹی وی اور بول نیوز دونوں پر رمضان ٹرانسمیشنز کی میزبانی کی تھی، انہوں نے ٹی وی پر جو آخری شو کیا تھا وہ ’بول ہاؤس ود عامر لیاقت ’ تھا۔

ٹیلی ویژن میزبان کے طور پر اپنے کیریئر میں انہیں متعدد تنازعات کا سامنا رہا۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نفرت انگیز تقاریر پر ان کے متعدد شوز پر بھی عارضی طور پر پابندی عائد کی تھی، 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں الیکٹرانک میڈیا پر آنے سے روک دیا تھا۔

عامر لیاقت نے سیاست میں بھی اپنا نام بنانے کی کوشش کی، 2002 میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی اور وزیر مملکت برائے مذہبی امور کا منصب بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

تاہم 22 اگست 2016 میں ایم کیو ایم سے اپنی راہیں جدا کرنے کے بعد مارچ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کردیا تھا

عامر لیاقت نے مارچ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی—فوٹو: ڈان نیوز
عامر لیاقت نے مارچ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی—فوٹو: ڈان نیوز

تبصرے (0) بند ہیں