بلوچستان میں بارش کا سلسلہ جاری، کوئٹہ کو سبی سے ملانے والے راستے منقطع

بلوچستان کا سندھ سے رابطہ منقطع ہوا—فوٹو: اے پی پی
بلوچستان کا سندھ سے رابطہ منقطع ہوا—فوٹو: اے پی پی

بلوچستان میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے جہاں سیلابی صورت حال کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں کوئٹہ-سکھر این-65 ہائی وے سمیت مختلف علاقوں میں راستے بدستور معطل ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق سکھر-کوئٹہ این-65 ہائی وے پر سبی-کوئٹہ سیکشن بلاک ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان کا سندھ سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب کے باعث ہرنائی سے سنجاوی، گندھاوا سے نوٹل، سبی سے کوہلو، بولان میں پنجرہ پل روڈ بھی بلاک ہوگیا ہے۔

ضلع کچھی میں دریائے بولان پر پنجرہ پل گزشتہ برس کے سیلاب میں بہہ گیا تھا اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے ایک سال گزرنے کے بعد تاحال اس کی دوبارہ تعمیر نہین کی گئی تھی۔

پی ڈی ایم اے اور بولان کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والے راستے بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

مذکورہ صورت حال کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔

پشین کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) قاصر بازئی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ سیلاب میں 14 سالہ لڑکا ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

پی ڈی ایم اے کی دستاویز کے مطابق پشین میں ہونے والے جانی نقصان کے علاوہ صوبے میں 19 جون سے اب تک سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے واقعات میں 10 افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہوچکے ہیں تاہم دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 112 گھر مکمل طور پر اور 223 گھر جزوی طور پر تباہ ہوئے۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر فیصل نسیم نے بتایا کہ مختلف اضلاع میں ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن کا سلسلہ جاری ہے اور تمام متاثرہ علاقوں میں اشیائے خورد و نوش اور ضروری اشیا کی ترسیل کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر دوسرے مرحلے میں نقصانات کا تعین کرے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی ہدایت پر وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے کنٹرول روم صوبے میں ہونے والی غیر معمولی سیلاب اور بارشوں سے پیدا ہونے والی صورت حال، امداد اور بحالی کے کاموں کی مؤثر نگرانی کرے گا۔

محکمہ خزانہ بلوچستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلڈ مینجمنٹ فنڈز کا اجرا بھی کر دیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے میں جاری بارشوں سے پیدا صورت حال سے مؤثر طور پر نمٹنے اور متاثرین کی فوری امداد کے لیے صوبے کے 36 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور چئیرمین ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے کا اجرا کیا گیا ہے۔

پنجاب میں یکم اگست تک مزید بارشوں کا امکان ہے، پی ڈی ایم اے

ادھر پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صوبے میں مون سون کی بارشوں کو سلسلہ یکم اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے کہا کہ مون سون بارشوں سے صوبے میں سیلاب کا خطرہ ہے اور بارش کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ تمام ڈویژنل انتظامیہ کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

پی ڈی ایم نے دریاؤں کے مختلف پوائنٹس پر پانی کی سطح اور سیلاب کی صورت حال سے بھی آگاہ کر دیا۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں