روس کا بحری اڈے پر یوکرین کے ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 04 اگست 2023
یوکرین کے فوجی ڈونیٹسک کے علاقے میں  اپنی ہوائی انفنٹری فائٹنگ وہیکل (بی ایم ڈی ون) پر آرام کر رہے ہیں — تصویر: اے ایف پی
یوکرین کے فوجی ڈونیٹسک کے علاقے میں اپنی ہوائی انفنٹری فائٹنگ وہیکل (بی ایم ڈی ون) پر آرام کر رہے ہیں — تصویر: اے ایف پی

روس نے کہا ہے کہ اس نے بحیرہ اسود اور جزیرہ نما کریمیا میں بحری اڈوں پر یوکرین کے سمندری اور فضائی ڈرون حملے ناکام بنا دیے ہیں۔

خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ ’آج رات، یوکرین کی مسلح افواج نے بغیر پائلٹ کے دو کشتیوں کے ذریعے روسی مسلح افواج کے نووروسیسک بحری اڈے پر حملے کی کوشش کی‘۔

بیان میں کہا گیا کہ روسی جہازوں نے ڈرون تباہ کر دیا ہے، یہ اس نوعیت کا پہلا حملہ تھا جس میں ساحلی شہر کو نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ماسکو کی اس معاہدے سے دستبرداری کے بعد دونوں اطراف سے سمندری حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے دوران یوکرین کو شپنگ مرکز کے ذریعے اناج کی برآمدات کی اجازت دی گئی تھی۔

بحیرہ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک میں اس پائپ لائن کا اختتام ہوتا ہے جو روس کے راستے قازق تیل کی زیادہ تر برآمدات کرتی ہے۔

روس کے سرکاری میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایندھن کے آپریٹر کیسپین پائپ لائن کنسورشیم نے کہا کہ وہ ٹرمینل پر ٹینکروں کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن ’انٹرفیکس‘ نیوز ایجنسی کے مطابق کمپنی نے کہا کہ ’بندرگاہ میں جہازوں کی نقل و حرکت پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے‘۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 24 فروری 2022 کو یوکرین پر روس کے فوجی حملے کے بعد بحیرہ اسود کا روسی بحری بیڑہ یوکرین کے نشانے پر ہے، لیکن حالیہ چند ہفتوں میں ان حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

منگل کو روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے بحیرہ اسود میں گشت کرنے والی کشتیوں کو نشانہ بنانے والے یوکرین کے ڈرون حملے ناکام بنا دیے ہیں۔

کریمیا میں روس کے بحیرہ اسود کے بحری بیڑے سواستوپول کے جنوب مغرب میں 340 کلومیٹرز دور سمندر میں بحری جہازوں پر 3 ڈرون کو تربیت دی گئی تھی۔

ایک ہفتہ قبل بھی اسی طرح کے حملے ناکام بنادیے گئے تھے۔

کریمیا پر حملے ناکام

روسی وزارت دفاع نے یہ بھی کہا کہ ممکنہ طور پر کریمیا پر حملہ کرنے والے 13 ڈرون مار گرائے ہیں، دونوں حملوں میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

کریمیا جسے 2014 میں روس نے ضم کیا تھا، ماسکو کے یوکرین پر حملے کے نتیجے میں جوابی وار کرتے ہوئے یوکرین نے اسے نشانہ بنایا تھا اور حالیہ ہفتوں میں کریمیا پر حملوں میں پھر تیزی آئی ہے۔

جولائی میں کریمیا پر یوکرین کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں گولہ بارود کا ایک ڈپو تباہ ہوگیا تھا اور ساتھ ہی روس کی سرزمین کو کریمیا سے ملانے والے اسٹریٹجک اور علامتی پُل کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

یوکرین نے بارہا کہا ہے کہ کریمیا اس کی افواج کا باقاعدہ ہدف ہے اور وہ اسے واپس لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یوکرین کی حکومت کا کہنا تھا کہ روس نے کئی بار اوڈیسا پر حملہ کیا ہے جو کہ بحیرہ اسود کے ساحل پر واقع صدیوں پرانا شہر اور یوکرین کی اہم بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔

روسی حکام نے اتوار کو کریمیا کے بارے میں کہا تھا کہ کریمیا میں یوکرین کے 25 ڈرون تباہ کردیے گئے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں