والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے بہت زیادہ محتاط رہتے ہیں، اسی لیے انہیں پُرامن علاقے یا جگہ میں بھی خطرہ رہتا ہے کہ بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

بچے کے ابتدائی کچھ سالوں کے دوران انہیں مختلف قسم کی چوٹ لگنے، کسی جانور کے کاٹنے یا زیادہ سے زیادہ اغوا جیسے واقعات کا خطرہ ہوتا ہے۔

لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے، بچے کو دیگر مختلف خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں ذہنی مسائل، منشیات کا استعمال، دوستوں کی آپس میں لڑائی جھگڑا وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کار اور موٹر سائیکل حادثات بھی ایک بڑا خطرہ ہوتا ہے۔

تاہم ایک وقت میں ہم سب ہی کو ان خطرات سے خود نمٹنا ہوتا ہے، ہمیشہ والدین، دوست، رشتہ دار یا عزیز ہماری حفاظت کے لیے ساتھ نہیں رہ سکتے۔

اس لیے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی اپنی حفاظت خود کرنے کا سبق کیسے سکھایا جائے اور والدین اس سفر میں بچوں کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟

بچوں کو ممکنہ خطرات کے بارے میں سکھانا اور آگاہ کرنے کا مطلب خوف پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ ذمہ داری اور تنقیدی سوچ کے احساس کو فروغ دینا ہے۔

فوٹو: نرسری ورلڈ/ٹوئٹر
فوٹو: نرسری ورلڈ/ٹوئٹر

حفاظت کے بارے میں بات چیت کریں

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بچوں کو خطرے کے بارے میں سکھانے کا عمل چھوٹی عمر میں ہی شروع ہو جاتا ہے، بچپن بچوں کی صلاحیت نکھارنے کا اہم دور تصور کیا جاتا ہے جو انہیں نوجوانی میں خطرے کے ادراک اور فیصلہ سازی میں مدد کرتا ہے۔

والدین بچوں کی عمر کے لحاظ سے حفاظت (سیفٹی) کے بارے میں بات چیت کریں، ایسی کتابیں پڑھ کر سنائیں جن میں خود کی حفاظت کے بارے میں معلومات ہوں، بچوں کے ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیں اور روز مرہ کے خطرات کے بارے میں سادہ گفتگو کریں۔

ان سے یہ بھی بات کریں کہ کس طرح خطرناک رویہ ان کے دوستوں، خاندان اور عزیز کو متاثر کر سکتا ہے، یہ بات چیت انہیں حوصلہ افزائی دے گی کہ وہ نہ صرف اپنی حفاظت پر غور کریں گے بلکہ اپنے آس پاس کے لوگوں کی بھلائی کے لیے بھی سوچیں گے۔

نئی سرگرمیاں کرنے سے نہ روکیں

بچے فطری طور پر تجسس میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی نشوونما کے لیے چیزوں کے بارے میں آگاہی اور معلومات حاصل ہونا ضروری ہے۔

بچوں کواپنے اردگرد مختلف سرگرمیاں کرنے سے نہ روکیں، مثال کے طور پر درخت پر چڑھنا، کھیلوں میں مشغول ہونا، روزمرہ سے ہٹ کر نئی سرگرمیاں آزمانا شامل ہے۔

نئی سرگرمیاں آزمانے سے وقت کے ساتھ ساتھ آنے والے چھوٹے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے، جن میں درخت سے نیچے گرنا، کھیل کے دوران چوٹ لگنا یا دوستوں کے ساتھ کھیل کھیل میں لڑائی ہوجانا شامل ہے۔

ایسے مواقع پر بچوں کو ڈانٹنے کے بجائے ان سے تفصیلی بات کریں، ان سے سوال پوچھیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ انہیں خود فیصلہ کرنے کی ترغیب دیں۔

سڑک پر ہونے والے حادثات کی بات کی جائے تو والدین کو چاہیے کہ آپ جب بھی اپنے بچے کے ساتھ سڑک پار کریں تو سڑک کی پہلے بائیں اور پھر دائیں جانب متعدد بار دیکھیں اور ٹریفک لائٹس کے سرخ ہونے کا انتطار کریں۔

یہ روٹین اگر ہر بار دہرائی جائے تو بچے بھی اپنے والدین کے نقش قدم پر چلیں گے اور سڑک پر اکیلے چلتے ہوئے ان باتوں کا خیال رکھیں گے۔

فوٹو: شٹر اسٹاک
فوٹو: شٹر اسٹاک

بچے غلطیاں کرتے ہیں، وقتاً فوقتاً چیزوں کو سیکھتے ہیں، اس سیکھنے کے عمل میں زخم بھی آتے ہیں اور درد بھی ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ ایسے خطرات کا مقابلہ کرنا سیکھ رہے ہوتے ہیں تو انہیں والدین کی سپورٹ یا حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیکھنے کے عمل کے دوران بچوں کی ذہن سازی جیسی مشقیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، جیسا کہ بچوں کو یہ تصور کروائیں کہ ان کے اعمال کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ اس پر ان کے کیا خیالات ہیں؟

ڈیجیٹل دور میں آن لائن خطرات

آج کے ڈیجیٹل دور میں بچے بھی آن لائن خطرات سے دوچار ہیں، میڈیا کے بارے میں معلومات اور تعلیم ان کی ڈیجیٹل سیفٹی کے لیے بہت ضروری ہے۔

بچے کی عمر کو دیکھتے ہوئے انہیں آن لائن پرائیویسی، سائبر ہراساں، اور آن لائن مواد کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔

والدین انہیں اچھے اور فائدہ مند مواد اور نقصان دہ مواد کے بارے میں فرق سمجھانے میں مدد کریں۔

بچوں سے خطرات کے بارے میں بات چیت کے دوران انہیں دوسروں کے خطرات اور ان کے نتائج کی مثالیں دیں کہ وہ ان سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔

اجنبی افراد کی باتوں میں آکر اغوا ہونے کے واقعات

جہاں تک بچوں کے اغوا ہونے کے واقعات کا تعلق ہے تو بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی ایسے واقعات کے بارے میں آگاہی دے دینی چاہیے۔

مثال کے طور پر والدین کا بچوں کو اجنبی افراد سے متعلق معلومات فراہم کرنا بے حدضروری ہے، انہیں چاہیے کہ بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں یہ سکھا دیں کہ اجنبی افراد سے گھلنا ملنا کسی طور مناسب نہیں خاص طور پر جب وہ اکیلے ہوں۔

دوسری جانب اگر کوئی شخص اس کے باوجود بچے کے ساتھ زبردستی کرے اور ساتھ چلنے کے لیے ڈرائے دھمکائے تو بچوں کو چاہیے کہ وہ وہاں زور زور سے چلانا شروع کردیں اور اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ پاؤں ماریں۔

اپنے بچوں کو عوامی جگہوں اور راستوں سے متعلق ضرور معلومات فراہم کریں، مثال کے طور پر بچوں کو سمجھائیں کہ اگر آپ کسی عوامی جگہ پر ہوں تو خدا نخواستہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں کس سے رابطہ کرنا چاہیے اور کہاں جانا چاہیے، بچوں کو بتائیں کہ اُن مقامات پر کون سی ایسی جگہیں ہیں جہاں وہ آپ کے ساتھ اور آپ کے بغیر جاسکتے ہیں۔

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی

دوسری جانب بچوں کو ہنگامی صورتحال سے متعلق معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے، مثلاً ہاتھ جل جانے، چوٹ لگ جانے، گھر میں اکیلے ہونے، راستہ کھو جانے کی صورت میں انہیں کیا کرنا چاہیے، اس بارے میں بچوں کو پہلے سے ہی آگاہی فراہم کریں۔

بچوں کو خطرے کے بارے میں سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ چیلنجز سے کیسے نمٹا جائے، جب مشکل وقت ہو مضبوط رہنا، سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنا شامل ہے۔

بڑھتی عمر کے بچوں کو محتاط انداز میں رسک لینا سکھائیں تاکہ وہ ان نتائج کے بارے سیکھ سکیں اور آئندہ ایسے خطرات سے بچ سکیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں