پرویز الہٰی اڈیالہ جیل سے گرفتار، ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور

وکیل عبدالرزاق نے بتایا کہ چوہدری پرویز الہٰی کو 12 ویں مرتبہ گرفتار کیا گیا ہے—فوٹو: عمر برنی
وکیل عبدالرزاق نے بتایا کہ چوہدری پرویز الہٰی کو 12 ویں مرتبہ گرفتار کیا گیا ہے—فوٹو: عمر برنی

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کو راولپنڈی جیل سے رہائی سے قبل لاہور ماسٹر پلان کرپشن کیس میں ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کردیا، یہ ان کی یکم جون کے بعد 12 ویں مرتبہ گرفتاری ہے۔

ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی کو لاہور ماسٹر پلان کرپشن کیس میں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ چوہدری پرویز الہیٰ نے لاہور ماسٹر پلان منصوبہ میں مالی فوائد کے لیے جعل سازی کی اور لاہور ماسٹر پلان میں ردوبدل کرکے اپنی زمینیں لاہور میں شامل کرنے کی کوشش کی، ماسٹر پلان میں ردوبدل کے لیے کنسلٹنٹ فرم کی جعلی مہریں اور مونوگرام استعمال ہوا۔

ترجمان اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مزید کہا کہ چوہدری پرویز الہیٰ نے دارلہندسہ/کنسلٹنٹ کی طرف سے جمع کروائے گئے لاہور ماسٹر پلان میں جعل سازی کی، کنسلٹنٹ کے ترتیب دیے گئے ماسٹر پلان میں جعلی کاغذات کا اضافہ کیا گیا۔

بیان کے مطابق زرعی زمین کو کمرشل اور رہائشی میں تبدیل کرکے اربوں روپے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الٰہی نے مالی مفاد کے لئے عہدے اور دفتر کا ناجائز استعمال کیا، انہوں نےاختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے متعلقہ افسران سے منصوبے کی منظوری کروائی۔

بیان میں بتایا گیا کہ چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف لاہور ماسٹر پلان میں جعلسازی پر اینٹی کرپشن لاہور میں مقدمہ درج ہے، لاہور ماسٹر پلان کرپشن کیس میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا، اینٹی کرپشن کرپٹ اور بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کاروائیاں کر رہا ہے۔

چوہدری پرویز الہیٰ کو 12ویں مرتبہ گرفتار کرلیا گیا، وکیل

چوہدری پرویز الہٰی کے وکیل سردار عبدالرازق نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں اینٹی کرپشن کا کوئی مقدمہ درج کیا گیا ہے، لاہور میں درج مقدمہ میں اُن کو راہداری ریمانڈ کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، اسلام آباد پولیس انہیں راہداری ریمانڈ کے لیے جوڈیشل کمپلکس میں واقع ایف آئی اے کورٹ میں پیش کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرویز الہٰی کے ضمانتی مچلکے ہی جمع نہیں ہوئے تھے، اُن کو ابھی رہائی ملی ہی نہیں تھی کہ دوبارہ گرفتار کرلیا گیا، وہ جیل میں تھے، انہیں وہاں سے مقامی عدالت لایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے گزشتہ روز جاری حکم کے تحت انہیں بری ہوجانا تھا، ان کی رہائی کو روکنے کے لیے ایک نیا مقدمہ بنا کر انہیں 12ویں مرتبہ گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سردار عبدالرازق نے کہا کہ چوہدری پرویز الہیٰ کی 77 برس عمر ہے، وہ بزرگ اور دل کے مریض ہیں، 4 ماہ سے ان پر مسلسل ایک کے بعد ایک مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی جس طرح دھجیاں بکھیری جارہی ہیں اور عدالتی حکم کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے اُس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پرویز الہیٰ ڈٹے ہوئے ہیں، جو بھی ان کا سیاسی مؤقف ہے وہ اس پر قائم رہیں گے، وہ کسی طرح کی بھی پریس کانفرنس کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اگر وہ پریس کانفرنس کرنے کے لیے تیار ہوتے تو شاید آج 12ویں مرتبہ انہیں گرفتار نہ کیا جاتا، وہ پُرعزم ہیں اور بار بار گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اینٹی کرپشن نے چوہدری پرویز الہیٰ کا 5 روزہ ریمانڈ مانگا تھا لیکن عدالت نے صرف ایک روز کا راہداری ریمانڈ دیا ہے کہ آج انہیں یہاں سے لے کر جائیں اور کل لاہور میں اینٹی کرپشن کی متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

پرویز الہیٰ کے ایک اور وکیل عامر سعید نے کہا کہ پرویز الہیٰ کو اینٹی کرپشن نے ایک اور کیس میں گرفتار کر لیا ہے، اُن کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرویز الہیٰ کو صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، عدالت نے پرویز الہیٰ کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے بھی روک رکھا ہے۔

دریں اثنا پرویز الہیٰ کو راہداری ریمانڈ کے لیے جوڈیشل کمپلیکس پہنچا دیا گیا، اس ،موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی اور پولیس نے میڈیا کو مرکزی گیٹ پر روک دیا۔

جوڈیشل کمپلیکس حکام یہ بتانے سے قاصر نظر آئے کہ صحافیوں کے داخلے پر پابندی کس نے اور کیوں لگائی؟ وہاں موجود پولیس حکام نے کہا کہ اوپر سے آرڈر ہے کسی کو جوڈیشل کمپلیکس کے اندر جانے کی اجازت نہیں۔

اس دوران پرویز الہیٰ کو ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں پیش کردیا گیا جہاں پرویز الہیٰ کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرلیا گیا، عدالت نے پرویز الہیٰ کا طبی معائنہ کروانے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز جوڈیشل کمپلکس میں توڑ پھوڑ سے متعلق مقدمہ میں انسداد دہشتگردی عدالت نے چوہدری پرویز الہیٰ کی ضمانت 20 ہزار مچلکوں کے عوض منظور کرلی تھی، تاہم ان کی لیگل ٹیم کی جانب سے ضمانتی مچلکے جمع نہ کروانے کی صورت میں تاحال ان کی رہائی کا روبکار جاری نہ ہو سکا۔

پرویز الہٰی کی گرفتاری اور مقدمات

پرویز الہٰی پی ٹی آئی کے ان متعدد رہنماؤں اور کارکنوں میں شامل ہیں جنہیں 9 مئی کو ہونے والے ہنگاموں کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

انہیں پہلی بار یکم جون کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) نے ان کی لاہور رہائش گاہ کے باہر سے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ طور پر رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

اگلے ہی روز لاہور کی ایک عدالت نے انہیں مقدمے سے ڈسچارج کر دیا تھا لیکن اے سی ای نے انہیں گوجرانوالہ کے علاقے میں درج اسی طرح کے ایک مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے بعد گوجرانوالہ کی ایک عدالت نے انہیں 3 جون کو فنڈز کے غبن سے متعلق بدعنوانی کے دو مقدمات میں بری کر دیا تھا۔

مقدمے سے ڈسچارج ہونے کے باوجود اینٹی کرپشن اسٹیبلمشنٹ نے پھر پرویز الہٰی کو پنجاب اسمبلی میں ’غیر قانونی بھرتیوں‘ کے الزام میں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔

9 جون کو ایک خصوصی انسداد بدعنوانی عدالت نے اے سی ای کو غیر قانونی تعیناتیوں کے کیس کا ریکارڈ پیش کرنے کا ’آخری موقع‘ دیا تھا۔

اسی روز قومی احتساب بیورو حرکت میں آیا اور گجرات اور منڈی بہاالدین میں ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ طور پر غبن میں ملوث ہونے پر صدر پی ٹی آئی کے خلاف ایک اور انکوائری شروع کردی گئی۔

12 جون کو سیشن عدالت نے غبن کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے پرویز الہٰی کی بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے اگلے روز لاہور ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کے مذکورہ حکم کو معطل کردیا اور جوڈیشل مجسٹریٹ نے انہیں دوبارہ جوڈیشل لاک اپ بھیج دیا۔

20 جون کو پرویز الہٰی نے بالآخر لاہور کی انسداد بدعنوانی عدالت سے ریلیف حاصل کر لیا لیکن جیل سے رہا نہ ہو سکےکیونکہ ان کی رہائی کے احکامات جیل انتظامیہ کو نہیں پہنچائے گئے تھے۔

اسی روز ایف آئی اے نے ان پر، ان کے بیٹے مونس الہٰی اور تین دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں مقدمہ درج کیا۔

جس کے اگلے روز ایف آئی اے نے انہیں جیل سے حراست میں لے لیا اور منی لانڈرنگ کیس میں انہیں روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

24 جون کو لاہور کی اسپیشل کورٹ سینٹرل نے سابق وزیراعلیٰ کی منی لانڈرنگ کیس ضمانت منظورکی تھی۔

تاہم 26 جون کو لاہور کی ایک ضلعی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں انہیں دوبارہ 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، جس کے فوراً بعد ایف آئی اے نے انہیں کیمپ جیل کے باہر سے گرفتار کیا۔

12 جولائی کو لاہور کی سیشن عدالت نے غیر وضاحتی بینکنگ ٹرانزیکشنز کے کیس میں پرویز الہٰی کے جسمانی ریمانڈ سے انکار کے خلاف ایف آئی اے کی درخواست خارج کردی تھی۔

اس کے دو روز بعد لاہور ہائی کورٹ نے پولیس اور اے سی ای کو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کو کسی بھی نامعلوم کیس میں گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔

بعد ازاں 15 جولائی کو بینکنگ جرائم کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں چوہدری پرویز الہٰی کی کیمپ جیل سے رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

تاہم انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا اور پولیس نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما کے خلاف غالب مارکیٹ تھانے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

یکم ستمبر کو چوہدری پرویز الہٰی کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے رہا کیے جانے کے بعد گھر جاتے ہوئے پولیس نے دوبارہ گرفتار کرلیا تھا، بعدازاں 2 ستمبر کو پرویز الہٰی کو اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

5 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے چوہدری پرویز الہٰی کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا، تاہم رہائی کے بعد انہیں وفاقی دارالحکومت سے ایک مرتبہ پھر جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

8 ستمبر کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں چوہدری پرویز الہٰی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

گزشتہ روز 15 ستمبر کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلکس توڑ پھوڑ کیس میں چوہدری پرویز الہٰی کی ضمانت منظور کر لی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں