گزشتہ روز ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف اہم میچ میں پاکستانی بلے باز فخر زمان کی جارحانہ اننگز کی سابق بھارتی کرکٹرز نے خوب تعریف کرتے ہوئے ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیمی فائنل مقابلے کی امید ظاہر کی۔

4 نومبر کو ورلڈ کپ کے اہم میچ میں پاکستان نے فخر زمان کی جارحانہ سنچری کی بدولت نیوزی لینڈ کو بارش سے متاثرہ میچ میں شکست دے کر اہم کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات برقرار رکھے۔

پاکستان نے جب ٹاس جیت کر باؤلنگ کا فیصلہ کیا تو نیوزی لینڈ کی بیٹنگ دیکھ کر شائقین کو اندازہ ہوگیا تھا کہ پاکستان 402 رنز کا پہاڑ جیسے ہدف کا تعاقب نہیں کرپائے گا۔

پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو اسے جلد ہی پہلا نقصان اٹھانا پڑا، جب دوسرے ہی اوور میں عبداللہ شفیق صرف 4 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

دو اوورز میں 6 رنز پر اہم وکٹ گرنے کے بعد 402 رنز کے ہدف کا حصول اور فتح ایک خواب نظر آرہی تھی لیکن جارحانہ موڈ میں میدان میں اترنے والے فخر زمان نے خواب کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔

فخر زمان کا ساتھ دینے کپتان بابر اعظم کریز پر پہنچے اور دونوں نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے اسکور آگے بڑھانا شروع کیا اور یوں پاکستان کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے امکانات روشن ہوگئے۔

فخر زمان نے 81 گیندوں پر 126 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جن میں 11 چھکے اور 8 چوکے شامل ہیں۔

فخر زمان کی جارحانہ بیٹنگ پر بھارت کے سابق کرکٹر نے پاکستانی بلے باز کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سیمی فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان ہی ہوگا۔

بھارت کے سابق کرکٹر ہرشا بھوگلے نے لکھا کہ ’واہ! پاکستان نے زبردست طریقے سے ہدف کا تعاقب کیا، فخر زمان میدان میں اتر کر یہی کر سکتے ہیں، وہ مشکل میچز کا رُخ اپنی طرف موڑ سکتے ہیں۔‘

سابق بھارتی کرکٹر نے کہا کہ آج اس نے اپنی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں واپس لانے میں مدد کی ہے۔

انہوں نے انگلینڈ کے خلاف پاکستان کے اگلے میچ کے بارے میں لکھا کہ ’پاکستان کا انگلینڈ کے ساتھ اگلا میچ دلچسپ ہوگا کیونکہ پاکستان، سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے بڑے مارجن سے جیتنے کی کوشش کرے گا اور انگلینڈ چیمپئنز ٹرافی کے لیے کوالیفائی کرنے کی کوشش کرے گا۔

سابق کرکٹر عرفان پٹھان نے پاکستان کی باؤلنگ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ پورے ٹورنامنٹ میں قومی ٹیم کی باؤلنگ متاثر کن نہیں تھی۔

دوسری جانب انہوں نے بھی فخر زمان کی شاندار اننگز کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے میچ کے دوران کہا تھا کہ اگر پاکستان یہ میچ جیتنے کی قریب پہنچا تو اس کی وجہ فخر زمان کی اننگز ہو گی، ان کا بے خوف انداز مخالف ٹیم کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ سابق بھارتی کرکٹر سورو گنگولی کو امید ہے کہ ورلڈ کپ کا سیمی فائنل بھارت اور پاکستان کے درمیان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ پاکستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرے، کیونکہ بھارت بمقابلہ پاکستان سے بڑا سیمی فائنل نہیں ہوسکتا‘۔

سابق بھارتی کرکٹر وریندر سہواگ نے بھی پاکستانی بلے باز کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’فخر زمان پاکستان کے ٹاپ بلے باز ہیں، فخر زمان کو ٹورنامنٹ کے کئی میچوں میں نہ کھیلنے دینے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

بھارتی اسپورٹس جرنلسٹ وکرانت گپتا نے بھی فخر زمان کی تعریف کرتے ہوئے ٹوئٹ کی۔

انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ سے پاکستان کی جیت بڑی جیت ہے جو کہ پاکستان کو بہت خطرناک بناتی ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں