حکومت پنجاب کا اسموگ پر قابو پانے کیلئے ’مصنوعی بارش‘ برسانے پر غور

اپ ڈیٹ 17 نومبر 2023
صوبائی وزیر ماحولیات نے کہا کہ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 400 کی خطرناک شرح پر چلے جانے کی صورت میں واحد مختصر مدتی حل مصنوعی بارش ہے — فوٹو: ڈان نیوز
صوبائی وزیر ماحولیات نے کہا کہ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 400 کی خطرناک شرح پر چلے جانے کی صورت میں واحد مختصر مدتی حل مصنوعی بارش ہے — فوٹو: ڈان نیوز

لاہور کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید اسموگ سے نمٹنے کے لیے کوشاں حکومت پنجاب صوبائی دارالحکومت میں اسموگ کو کم کرنے کے اقدام کے طور پر رواں ماہ کے آخر میں ’مصنوعی بارش‘ برسانے پر غور کر رہی ہے۔

مصنوعی بارش جسے ’کلاؤڈ سیڈنگ‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ موسم میں تبدیلی کی ایک تکنیک ہے، اس میں عام طور پر مختلف کیمیکلز کو بادلوں پر ڈالا جاتا ہے جس سے بارش ہوتی ہے۔

نگران صوبائی وزیر ماحولیات بلال افضل کی زیر صدارت اسموگ کے تدارک کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں لاہور میں اسموگ کو ختم کرنے کے لیے مصنوعی بارش برسانے پر مشاورت کی گئی۔

اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم منصور قادر، سیکریٹری ماحولیات راشد کمال الرحمٰن، سپارکو اور مختلف یونیورسٹیوں کے نمائندوں بھی موجود تھے، اجلاس میں لاہور شہر میں اسموگ کے تدارک کے لیے مختصر، درمیانی اور طویل المدتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر ماحولیات بلال افضل نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اسموگ کو ختم کرنے کے لیے مصنوعی بارش برسانے کے حوالے سے شرکا سے مشاورت اور تبادلہ خیال کیا۔

صوبائی وزیر نے 28 یا 29 نومبر کو لاہور شہر میں مصنوعی بارش کے حوالے سے تیاری کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی بارش برسانے کے لیے ایک ٹیم اور ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے، ورکنگ گروپ مصنوعی طریقے سے بارش برسانے کے لیے طیارے کی فراہمی کرنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لے گا اور اس ضمن میں تمام ترجیحات کو سامنے رکھے گا۔

بلال افضل نے کہا کہ مصنوعی بارش کےلیے بادل کا ہونا ضروری ہے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم منصور قادر نے کہا کہ ورکنگ گروپ مصنوعی بارش کے بارے میں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھے گا، ورکنگ گروپ کی حتمی تجاویز منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ کو بھیجی جائیں گی۔

اس کے علاوہ صوبائی وزیر ماحولیات نے چینی قونصل جنرل زہو شائرن سے ان کے آفس میں ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ پنجاب خصوصاً لاہور میں اسموگ کے تدارک کے لیے چین کے ماہرین ماحولیات کی خدمات سے استفادہ کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر چیئرمین پی اینڈ ڈی بورڈ افتخار علی سہو اور سیکریٹری ماحولیات راشد کمال الرحمٰن بھی موجود تھے۔

صوبائی وزیر ماحولیات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب، اسموگ کے ایشو کے دیرپا حل کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، محسن نقوی نے اسموگ کے خاتمے کے لیے مختصر، درمیانی اور طویل المدت حکمت عملی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

بلال افضل نے کہا کہ اسموگ پر قابو پانے کے لیے ہمیں چین کی حکومت کا تعاون درکار ہے، لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 400 کی خطرناک شرح پر چلے جانے کی صورت میں اس کا واحد مختصر مدتی حل مصنوعی بارش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب، چینی قونصل جنرل کے تعاون سے چینی یونیورسٹیوں و ماحولیات کے اداروں کے ماہرین اور پنجاب کے محکمہ تحفظ ماحول کے درمیان قریبی رابطہ استوار کرنے کے خواہاں ہیں، اگلے ایک ماہ تک اسموگ ختم ہو جائے گی لیکن ہم اس مسئلے کے مستقل حل اور آنے والی حکومت کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

بلال افضل نے کہا کہ لاہور میں ہونے والی اسموگ کی حالیہ شدت کی 30 فیصد شرح بھارت سے چلنے والی ہوائیں ہیں جب کہ 70 فیصد شرح مقامی ٹرانسپورٹ، انڈسٹریز اور گرد و غبار ہے۔

اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے چینی قونصل جنرل زہو شائرن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے اسموگ کے تدارک کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں، چین کی حکومت کو اس بات کا علم ہے کہ پنجاب کے لوگ اسموگ کی شدت کے باعث مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

چینی قونصل جنرل نے کہا کہ ہماری حکومت پنجاب میں اسموگ کے فوری سدباب کےلیے تکنیکی و فنی اعانت کے لیے تیار ہے، اسموگ کے بروقت کنٹرول کے لیے چین کے ماہرین ماحولیات کے وفود جلد از جلد پنجاب کا دورہ کریں گے، اسموگ کے خاتمے کے لیے جامع اسٹریٹجی بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں ایئر پیورفکیشن ٹاور بنانے کی تجویز پیش کی ہے، ایئر پیورفکیشن ٹاور فضائی آلودگی پر قابو پانے میں معاون ثابت ہو گا۔

چیئرمین پی اینڈ ڈی بورڈ افتخار علی سہو نے کہا کہ اسموگ کے ایشو کے تدارک کے لیے دونوں حکومتوں، چین کی وزارت ماحولیات کے متعلقہ نمائندے اور پنجاب کے سیکریٹری تحفظ ماحول کو فوکل پرسن نامزد کیا جائے، جسمانی دوروں اور روزانہ کی بنیاد پر ویڈیو کانفرنسز کا انعقاد کا انتظام کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسموگ کے فوری سدباب کے لیے دونوں حکومتوں کے درمیان قریبی رابطہ استوار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ساتھ ہی اربن ایئر کوالٹی کے لیے 5 سالہ طویل مدتی منصوبہ بنانے کی تجویز دی، انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب اسموگ پر تحقیق کے لیے لاہور میں ایک ریسرچ سینٹر قائم کرنا چاہتی ہے۔

مصنوعی بارش کیسے کی جاتی ہے ؟

دراصل بادلوں پر کمیائی مادے ڈالے جاتے ہیں، اس عمل کو ’کلاؤڈ سیڈنگ‘ کہا جاتا ہے جس سے بارش ہوتی ہے جبکہ اولے اور دھند سے بچنے کے لیے بھی مختلف علاقوں میں اسی طریقہ کار کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ طریقہ کار چین میں بہت عام ہے جہاں خطرناک فضائی آلودگی کی وجہ سے شہریوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں اور اسی وجہ سے حکومت اس آلودگی میں بارش کے ذریعے کمی کے لیے اکثر اسی طریقہ کار کا استعمال کرتی ہے۔

واضح رہے کہ لاہور ان دنوں شدید اسموگ اور فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہے، رواں ہفتے کے شروع میں بھی شہر خطرناک فضائی آلودگی میں گھرا ہوا تھا جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) خطرناک سطح پر پہنچ گیا تھا، منگل کی صبح 9 بجے ایئر کوالٹی انڈیکس 401 پر ریکارڈ کیا گیا تھا جو سانس لینے کے لیے انتہائی غیر محفوظ قرار دی گئی سطح ہے۔

شام 7 بجے تک اے کیو آئی 188 تک آگیا اور رات 9 بجے یہ 236 ریکارڈ کیا گیا، 50 سے کم اے کیو آئی سانس لینے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے اور لاہور کا موجودہ انڈیکس صحت عامہ کے لیے شدید خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔

لاہور میں روایتی طور پر سردیوں کے موسم خصوصاً اکتوبر سے فروری تک ہوا کے معیار میں کمی ہوتی ہے، اس عرصے کے دوران پنجاب کے وسیع تر صوبے میں کسان فصلوں کی باقیات کو جلاتے ہیں جس کی وجہ سے اسموگ میں اضافہ ہوتا ہے۔

لاہور میں فضائی آلودگی کا بنیادی سبب گاڑیوں، صنعتی اخراج، اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والا دھواں، فصلوں کی باقیات، کچرے کو جلانا اور تعمیراتی مقامات کی دھول مٹی شامل ہیں، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے جنگلات کی کٹائی بھی اس میں اپنا بڑا حصہ ڈالتی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے پنجاب کی نگران حکومت نے صوبے میں اسموگ سے نمٹنے کے لیے ایک ماہ کے لیے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں طلبہ و طالبات کے لیے ماسک لازمی قرار دیتے ہوئے صوبے بھر میں اسموگ ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

اس کے علاوہ دو روز قبل لاہور ہائی کورٹ نے اسموگ پر قابو پانے کے لیے صوبائی دارالحکومت کے تمام اسکولوں اور کالجز کو 18 نومبر کو بند رکھنے کا حکم دینے کے ساتھ دفاتر میں ہفتے میں 2 روز ’گھر سے کام کرنے‘ کی پالیسی اپنانے کی تجویز دی تھی۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں