سینئر اداکارہ حنا بیات خان نے بچوں کے ساتھ بدسلوکی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اکثر والدین بچوں کی حفاظت کے بارے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں، گاڑی میں ڈرائیور کی گود میں چھوٹے بچے بیٹھے ہوتے ہیں اور والدین کو کوئی ہوش نہیں۔‘

سما ٹی وی کے مارننگ شو میں میزبان مدیحہ نقوی سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ حنا بیات خان نے انتہائی حساس موضوع بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات پر گفتگو کی۔

انٹرویو کے دوران حنا بیات خان نے اپنے ذاتی تجربات بھی شیئر کیے کہ کس طرح والدین بچوں کی حفاظت کے بارے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں خاص طور پر جب بچے گھریلو ملازمین کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’چونکہ صبح سویرے بچوں کے اسکول جانے کا وقت ہوتا ہے تو جب میں کام کے سلسلے میں گھر سے باہر نکلتی ہوں تو میں نے کئی بار ایسا دیکھا ہے کہ گاڑی میں ڈرائیور کی گود میں چھوٹے بچے بیٹھے ہوتے ہیں۔‘

اداکارہ نے کہا کہ ’پہلے تو ایسا کرنا قانونی طور پر غلط ہے، ڈرائیونگ کے دوران آپ بچے کو گود میں نہیں بٹھا سکتے، آپ بچے کو گاڑی کے آگے والی سیٹ (ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ) پر بھی نہیں بٹھا سکتے، آپ کو انہیں پیچھے والی سیٹ پر سیٹ بیلٹ باندھ کر بٹھانا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں نے بہت سے ایسے کیسز دیکھے ہیں جہاں بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، کئی لوگ اپنے بچے کو نوکرانی کے ساتھ پارک میں کھیلنے کے لیے بھیج دیتے ہیں، میں جانتی ہوں کہ والدین ہر وقت ہر جگہ نہیں ہو سکتے، لیکن کچھ چیزیں اہم ہوتی ہیں۔‘

حنا بیات خان نے مزید کہا کہ ’آپ کا بچہ آپ کے گھر سے باہر جارہا ہے، وہ ایک یا ڈیڑھ گھنٹے سے کہاں تھا؟ بچوں کے ساتھ بدسلوکی ہورہی ہوتی ہے، میں نے ذاتی طور پر ایسا کیس دیکھا ہے، جہاں چھوٹی بچی کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا، بچی اپنے ساتھ ہونے والا واقعہ بتا نہیں سکتی تھی، ملازمہ اور گارڈ اس کیس میں ایک ساتھ ملوث تھے، وہ دونوں بچی کو کہیں لے کر جاتے تھے، ڈیڑھ گھنٹے تک بچی کسی اور کو دے دیتے تھے، پیسے کماتے اور والدین کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کی بچی کہاں ہے۔‘

حنا بیات خان نے بتایا کہ ’میں زیادہ مذہبی باتیں نہیں کرتی لیکن ہمارا دین ہماری زندگی کا حصہ ہے، ہمارے دین میں حرمت کی حدود ہیں جن میں آپ کے والد، بھائی اور وہ تمام لوگ آتے ہیں جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے۔‘

اداکارہ نے کہا کہ ’اس کے باوجود مجھے یاد کہ جب میں اور میری تمام بہنیں بڑی ہوئیں تو ہمارے گھر میں جب میرے والدین گھر میں موجود نہ ہوتے تو میرے ماموں، چچا، تایا اور یہاں تک کہ کزنز کو بھی گھر میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔‘

حنا بیات خان نے کہا کہ ’اللہ نے آپ کو اس کے بارے میں بتایا کہ تاکہ آپ اس سے بچ سکیں کہ خدا نہ کرے چاہے لاکھ میں سے ایک موقع ہو، وہ موقع بھی زندگی میں نہ آئے، اپنے بچوں کو دوسروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔‘

اداکارہ نے کہا کہ جب آپ اپنے بیٹے یا بھائی یا کسی بھی رشتہ دار کے ساتھ گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ سفر کر رہے ہوں تو سفر کے دوران گانے بھی نہ سنیں، ڈرائیور اور آپ کے درمیان واقفیت کم رکھیں، جس طرح آپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ لحاظ کرتے ہیں ویسے ہی اپنے ملازمین کے ساتھ لحاظ کا پردہ رکھیں، ملازمین کے ساتھ اتنا مذاق نہ کریں کہ آئندہ وہ آپ سے غلط بات کہہ دیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں