بُری یادیں مٹانے کا کامیاب تجربہ

11 ستمبر 2013

ای میل

امریکی ماہرین نے چوہوں میں نشے سے وابستہ یادوں کو مٹانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ فائل تصویر
امریکی ماہرین نے چوہوں میں نشے سے وابستہ یادوں کو مٹانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ فائل تصویر

اردو ادب میں ماضی کی تلخ یادوں سے مجبور ہوکر شاعروں نے یہاں تک کہا ہے کہ یادِ ماضی عذاب ہے یارب، چھین لے مجھ سے حافظہ میرا۔

 لیکن سائنسدانوں نے بہت کامیابی سے یادداشت متاثر کئے بغیر مخصوص اور نقصاندہ یادداشت مٹانے کامیاب تجربہ کیا ہے۔

 یادیں نئی ہوں یا پرانی، اچھی ہوں یا بُری، ایک ساتھ ہی انسانی دماغ میں پیوست ہوتی ہیں۔ ان سے مختلف احساسات، اچھے یا بڑے جڑے ہوتے ہیں۔  مثلاً کسی نشے یا بری لت میں مبتلا افراد جو پوسٹ ٹراماٹک سٹریس ڈس آرڈر ( پی ٹی ایس ڈی) کا بھی شکار ہوں ان میں غیرضروری یادوں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً ایک طرح کے نشے، میتھ میں مبتلا افراد میں جب سگریٹ کو دیکھتے یا اس کا خیال کرتے ہیں تو ان میں نشے کی شدید طلب پیدا ہوتی ہے یہاں تک کہ پیسے اور چیونگ گم ( منہ کی خشکی کو دور کرنے کیلئے) سے وہ دوبارہ نشے کی جانب لوٹنے لگتے ہیں۔

 لیکن اب انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ علمائے سائنس نے چوہوں پر تجربات کرکے ان میں نشے سے وابستہ یادیں مٹانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جبکہ چوہوں کی باقی یادوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

 یہ انوکھا کام دی سکرپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( ٹی ایس آر آئی) ، فلوریڈا کیمپس میں کیا گیا ہے ۔

اس کی تفصیلات بایولوجیکل سائیکائٹری نامی جرنل میں شائع ہوئی ہیں جس میں بقیہ یادداشتوں کو جوں کا توں رکھتے ہوئے غیر ضروری یادوں سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔

 تحقیق کرنے والے ماہر کورٹنی ملر کے مطابق ہم جو کچھ بھی ہیں اپنی یاد داشتوں کی وجہ سے ہی ہیں لیکن بعض یادیں زندگی کو بہت مشکل بنادیتی ہیں۔ ہم فلموں کی طرح بری یادیں کھرچنے کے قابل تو نہیں ہوئے لیکن ہم ایسے طریقوں پر کام کررہے جن کے ذریعے کسی حادثے یا نشے کی لت سے وابستہ یادوں کو ضرور مٹاسکیں اور ہم نے چوہوں کی گہرے شعور میں موجود نشہ آور اشیا سے وابستہ یادوں کو ختم کیا ہے۔

 نئی یادوں کا مجموعہ

 اگرچہ یادداشت کا عمل بہت پیچیدہ ہوتا ہے لیکن دماغی سیل ( خلیہ) میں تبدیلی سے یادوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اور اس کیلئے ڈینڈریٹک سپائن یا اعصابی خلیات ( نرو سیلز) کے کنارے بلب نما سٹرکچرکو تبدیل کرنا ہوتا ہے۔

 عموماً یہ تبدیلی ایکٹین نامی پروٹین کی تبدیلی سے ہوتی ہے جو دماغ کے تمام سیلز کا ڈھانچہ بناتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں چوہوں کے دماغ میں میوسن نامی مالیکیولر موٹرکو تبدیل کیا گیا ۔ یہ تبدیلی یادیں بدلنے کے عمل کے دوران کی گئیں جب چوہوں میں ایک نشے میتھ سے وابستہ یادوں کو ختم کیا جارہا تھا۔

 .اس عمل کو احتیاط سے انجام دینے کے بعد ٹیسٹ نے ثابت کیا کہ چوہوں میں وہ یادیں غائب ہوگئیں جو میتھ سے وابستہ تھیں جبکہ باقی یادداشت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

 واضح رہے کہ ان چوہوں کو پہلے میتھ کا عادی بنایا گیا تھا ۔ پھر ان کی میموری صاف کرنے کے بعد انہیں تصاویر، اشاروں اور دیگر طریقوں سے اسی نشے کی جانب راغب کیا گیا تو انہوں نے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

 ماہرین کے مطابق اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یادداشت بدلنے کے اس تجربے کو بہتر انداز میں سمجھا جاسکے۔