سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے متعلق محفوظ فیصلہ سنادیا جس میں بتایا گیا ہے کہ استعفیٰ دینے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی نہیں رکے گی۔

ڈان نیوز کے مطابق جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی، سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان نے دلائل دیے تھے کہ جج کے دوران سروس کیے گئے مس کنڈکٹ پر کارروائی کرنا سپریم جوڈیشل کونسل کا ہی اختیار ہے، عدلیہ، عوام اور حکومت کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتی ہے، عدلیہ بنیادی حقوق کی ضامن ہے اس لیے اسے آزاد ہونا چاہیے، عدلیہ کی آزادی کے لیے ججز کا احتساب لازم ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر احتساب سے اعتراض برتا جائے تو اس سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہو گی، عدلیہ کی آزادی کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کو خود متحرک ہونا چاہیے، آرٹیکل 209 کے تحت ججز کے خلاف انکوائری کا اختیار صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو ہے، ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کریں تو ضروری نہیں کہ ان کی برطرفی کی سفارش کی جائے، اگر کوئی جج ذہنی بیماری میں مبتلا ہو تو اس کا علاج ممکن ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کعو بتایا کہ جن بیماریوں کا علاج ممکن ہے ان کی بنیاد پر کونسل جج کو کچھ عرصے کی رخصت دے سکتی ہے، ضروری نہیں ہے کہ انہیں برطرف یا جائے، وقت کی پابندی نہ کرنے پر جج کے خلاف شکایت ہو تو کونسل برطرفی کے بجائے تنبیہ کر سکتی ہے، کونسل کے سامنے شکایت آ جائے تو اس پر کوئی نہ کوئی رائے دینا لازم ہے، جج ریٹائرمنٹ کے بعد چیف الیکشن کمشنر ،شریعت کورٹ کے ججز یا ٹربیونلز جیسے آئینی عہدوں پر مقرر ہوتے ہیں۔

منسور عثمان نے کہا کہ ضروری ہے کہ جج کے اوپر لگے الزام پر کونسل اپنی رائے دے تاکہ آئینی عہدوں پر ان کی تعیناتی ہو سکے، ججز کا احتساب ہونا چاہیے لیکن اس احتساب سے سپریم کورٹ کا وقار کم نہیں ہونا چاہیے، ججز کے خلاف کارروائی کوئی اور ادارہ نہیں کر سکتا، عوامی اعتماد کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کو شفافیت سے کام کرنا چاہیے،

اس موقع پر جسٹس ورفان سعادت نے کہا کہ مثال موجود ہے کہ ایک جج کے خلاف آرٹیکل 209 کی کارروائی شروع کی گئی اور ان کے استعفیٰ پر ختم کر دی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ 2019 کا ہے تو اٹارنی جنرل آفس نے 5 سال تک کیوں کوئی ایکشن نہیں لیا؟

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کسی جج کے خلاف کارروائی دوبارہ کرنی ہے یا نہیں یہ فیصلہ کونسل کا ہوگا۔

بعد ازاں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، سپریم کورٹ نے 4-1 سے اکثریتی فیصلہ سنا دیا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے اکثریتی فیصلے سے مخالفت کی ہے۔

فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ اگر جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوران جج استعفی دے تو جوڈیشل کونسل کارروائی جاری رکھ سکتی ہے۔

فیصلے کے مطابق جب سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کردے تو استعفیٰ یا ریٹائرمنٹ پر کارروائی ختم نہیں ہو سکتی ہے، ایسے میں کارروائی ختم کرنے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کا ہے۔

16 فروری کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ) مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاتھا کہ آئین، قانون اور عدالتی فیصلوں کے مطابق ریٹائرڈ ججز کے خلاف کارروائی سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں جسٹس (ریٹائرڈ) مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میرے استعفے کے باوجود جاری ہے، میں 10 جنوری کو مستعفی ہو چکا ہوں جب کہ صدر مملک نے میرا استعفیٰ منظوربھی کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ مظاہر نقوی نے 10 جنوری کو استعفیٰ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اسی روز سپریم جوڈیشل کونسل کے جاری شوکاز نوٹس کا تفصیلی جواب جمع کراتے ہوئے خود پر عائد الزامات کی تردید کی تھی جب کہ اس سے ایک روز قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان کی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

یاد رہے کہ 31 جنوری کو سپریم کورٹ نے اعلٰی عدلیہ کے سابق ججز کے خلاف کارروائی نا کرنے کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے۔

24 جنوری کو وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سامنے ایک انٹرا کورٹ اپیل دائر کی جس میں عافیہ شہربانو ضیا کے 2023 کے فیصلے کو اس بنیاد پر چیلنج کیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کو ریٹائرڈ یا مستعفی جج پر ناقابل عمل بنا کر سپریم جوڈیشل کونسل کو عملی طور پر بے کار کردیا گیا ہے۔

اپیل میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ جن ججوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی شروع کی گئی ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان کے استعفوں کی وجہ سے ایسی کارروائی کو روکا نا جائے۔

تبصرے (0) بند ہیں