لاہور کی اینٹی کرپشن عدالت نے صحافی عمران ریاض خان کے خلاف تھرابی جھیل کا ٹھیکہ اونے پونے داموں لینے کے کیس میں ڈی جی اینٹی کرپشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

عمران ریاض کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے اینٹی کرپشن کی جانب سے متعلقہ افسر کے پیش نہ ہونے پر ڈی جی کو طلب کیا اور سماعت 12 بج کر 30 منٹ تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ 24 فروری کو صحافی عمران ریاض خان نے اپنے خلاف تھرابی جھیل کا ٹھیکہ اونے پونے داموں لینے کے کیس میں ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی تھی۔

درخواست میاں علی اشفاق ایڈوکیٹ اظہر صدیق اور رانا معروف کی وساطت سے دائر کی گئی۔

جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ عمران ریاض خان کے خلاف جھوٹا، بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا، عمران ریاض خان کو سیاسی اور ذاتی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ عمران ریاض کے خلاف اینٹی کرپشن کے پاس ایک بھی ثبوت نہیں ہے۔

استدعا کی گئی کہ عدالت عمران ریاض خان کی درخواست ضمانت منظور کر کے رہا کرنے کا حکم دے۔

درخواست ضمانت اینٹی کرپشن کی خصوصی عدالت میں دائر کی گئی ہے۔

اس سے ایک روز قبل 23 فروری کو لاہور کی ضلع کچہری نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے صحافی عمران ریاض کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جنہیں عمران ریاض کو 22 اور 23 فروری کی درمیانی شب سادہ کپڑوں میں ملوث اہلکاروں نے گھر سے گرفتار کیا تھا۔

صحافی کے بھائی یوسف نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران ریاض کو لاہور ڈیفنس روڈ پر واقع سوسائٹی میں گھر سے نامعلوم مسلح افراد نے حراست میں لیا اور اپنے ہمراہ لے کر روانہ ہوگئے۔

عمران ریاض نے عدالت کے روبرو مؤقف اپنایا تھا کہ تھرابی جھیل کا گزشتہ ٹھیکہ ایک کروڑ 10 لاکھ کا تھا، ہم نے یہ ٹھیکہ 4 کروڑ روپے سے زائد کا لیا۔

اینٹی کرپشن حکام نے عمران ریاض کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں