حدیبیہ پیپرملز ریفرنس: جج کی غیر حاضری پر سماعت ملتوی

اپ ڈیٹ 14 دسمبر 2017

ای میل

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کے حوالے سے سماعت جج کی غیر حاضری کی وجہ سے ملتوی کردی گئی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان میاخیل پر مشتمل عدالتِ عظمیٰ کا تین رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سماعت کے آغاز میں جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ جسٹس مظہر عالم خان میاخیل کے ساتھ نجی مسئلے کے باعث وہ غیر حاضر ہیں جس کے بعد سماعت 15 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

تاہم سماعت کو ملتوی کرنے سے قبل عدالت نے نیب پروسیکیورٹر سے سوال کیا کہ عدالت کو دلائل کے ذریعے اعتماد میں لیا جائے کہ 2000 میں دائر کیے گئے اس کرپشن ریفرنس کو دوبارہ کھولنے کی اجازت کیوں دی جائے؟

مزید پڑھیں: حدیبیہ کیس میں کب کیا ہوا؟ مکمل جائزہ

یاد رہے کہ رواں برس 10 نومبر کو حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق نیب کی اپیل پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا 3 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

تاہم 13 نومبر کو حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت سے قبل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس کیس کی سماعت کے لیے تشکیل کیے گئے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی تھی۔

بعدِ ازاں اس کیس کی سماعت کے لیے بینچ دوبارہ تشکیل کرنے کا معاملہ واپس چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے جسٹس مشیر عالم، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان میاخیل پر مشتمل تین رکنی بینچ تشکیل دیا جس نے 28 نومبر کو اس کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ نے نیب سے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔

بعدِ ازاں نیب کی جانب سے نئے پروسیکیوٹر کی تقرری تک سپریم کورٹ میں کیس کے التواء کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

11 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کو براہِ راست ٹیلی ویژن پروگرامز میں زیر بحث لانے پر پابندی عائد کردی تھی۔

حدیبیہ پیپر ملز کیس

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور اسحٰق ڈار کے خلاف نیب نے ایک ارب 20 کروڑ روپے بد عنوانی کے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس 17 برس قبل سَن 2000 میں دائر کیا تھا، تاہم 2014 میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ ریفرنس خارج کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نیب کے پاس ملزمان کے خلاف ثبوت کا فقدان ہے۔

پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کے دوران سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کیس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو حدیبیہ پیپر ملز کیس کا ریکارڈ جمع کرایا تھا، جس میں 2000 میں اسحٰق ڈار کی جانب سے دیا جانے والا اعترافی بیان بھی شامل تھا۔

اسحٰق ڈار نے اس بیان میں شریف خاندان کے کہنے پر ایک ارب 20 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کرنے اور جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کا مبینہ اعتراف کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ بیان ان سے دباؤ میں لیا گیا۔