ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دیں گے، امریکا

جنوری 23 2018

ای میل

بیت المقدس/برسلز: امریکا کے نائب صدر مائیک پینس نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران قسم اٹھائی ہے کہ واشنگٹن امریکا کو جوہری طاقت بننے نہیں دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں اسرائیل، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے سامنے حلفیہ قسم کھاتا ہوں کہ امریکا، ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے گا‘۔

واضح رہے امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا تھا، جسے 2015 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے منسوخ کردیا تھا۔

یہ پڑھیں: ایران جوہری پروگرام: امریکا دوبارہ پابندی نہ لگانے پر قائم

غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ تہران کو جوہری طاقت بننے نہیں دیں گے جو اسرائیل کے دشمنوں کی مدد کرتا ہو۔

نائب صدر مائیک پینس نے کہا کہ ‘ایران کے جوہری پروگرام کا معاہدہ تباہی لائے گا اور امریکا کسی بھی صورت میں سابق معاہدے کی توثیق نہیں کر سکتا’۔

اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے یورپی اتحادیوں سے کہا تھا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ مل کر تہران جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کے نکات کو مزید بہتر بنائیں۔

ایران کے ساتھ معاہدے میں دیگر ممالک برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور یورپین ممالک نے کہا ہے کہ ایران تمام امور کی پاسداری کررہا ہے دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘جب تک ایران جوہری معاہدہ طے نہیں ہوجاتا تب تک امریکا جوہری معاہدے سے فوری طور پر دستبردار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا طویل فاصلے کے جوہری میزائل کا تجربہ

فرانس کے وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی پاسداری کرنے میں ناکام ہے تاہم وہ بلیسٹک میزائل بنانے سے پسپائی اختیار کرلے۔

واضح رہے کہ بلیسٹک میزائل میں جوہری ہتھیار کو مطلوبہ ہدف تک لے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

برسلز میں یورپی یونین میں شامل ممالک کے وزرا خارجہ کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ایران، یمن کے علاوہ لبنان اور شام میں جاری سورش میں ملوث ہے اور خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی قرار داد میں 2015 کا جوہری معاہدہ محفوظ ہے جس کے تحت ایران گزشتہ 8 برسوں سے بیلسٹک میزائل بنانے سے گریزاں ہے، معاہدے میں شامل بعض ریاستوں کا کہنا ہے کہ معاہدے کی بعض شق سے ایران کو بیلسٹک میزائل بنانے سے نہیں روکا جا سکا۔

مزید پڑھیں: ’شمالی کوریا کے پاس پاکستان سے بہتر جوہری ٹیکنالوجی موجود ہے‘

دوسری جانب ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل کی تیاری دفاعی مقاصد کے لیے ہے لیکن ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

انہوں نے کا کہا تھا کہ ‘خطے میں ایرانی اثرو رسوخ پر بات کرنے کی ضرورت ہے، جو مبثت ہے اور ہر ریاست کو اس کا فائدہ ہوگا، ایران کی عدم موجودگی سے دہشت گرد بغداد اور شام پر قبضہ کرلیں گے۔

ایرانی میڈیا نے ایران کے جوہری وفد کے چیف عباس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ایران یورپین حکمت عملی کو یکسر مسترد کرتا ہے’۔


یہ خبر 23 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی