پشاور ہائی کورٹ: مشال قتل کیس کا فیصلہ معطل، ملزمان کو رہا کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 27 فروری 2018

ای میل

پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے مشال قتل کیس سے متعلق ہری پور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) سے سزائیں پانے والے 25 ملزمان کی سزاؤں کو معطل کرکے ملزمان کو رہا کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے مردان کی عبدالولی خان میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالبِ علم مشال خان قتل کیس میں اے ٹی سی کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران ملزمان کے وکیل سید اختر نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مشال خان قتل کیس میں کل 31 ملزمان کو سزائیں ہوئیں جب میں ایک ملزم کو سزائے موت، 5 ملزمان کو عمر قید جبکہ 25 ملزمان کو 4، 4 سال قید کی سزائیں دی گئیں تھیں۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ قانون میں یہ سہولت موجود ہے کہ جس شخص کو پانچ سال سے کم کی سزا دی جاتی ہے انہیں ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مشال قتل کیس: ملزمان کو سزاؤں کے خلاف مذہبی جماعتوں کا احتجاج

پشاور ہائی کورٹ نے ملزمان کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد اے ٹی سی کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے سزا پانے والے ملزمان کو رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

واضح رہے کہ مشال خان قتل کیس میں اے ٹی سی سے سزا پانے والے ملزمان نے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کی ایبٹ آباد بینچ میں اپیل دائر کی تھی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ لوگ بے قصور ہیں۔

مشال قتل کیس میں دیگر 25 ملزمان واجد ملنگ، ذیشان، حنیف، نصراللہ الیاس، عمران احمد، خیال سید، حسن اختر، انس، ملک توقیر، عامر، سدیس، حمزہ، عارف خوڑ، شہاب علی شاہ، اشرف علی، عمران، ولید، علی خان، شعیب، نواب علی، سید عباس، صاحبزادہ، فرحان، ریاض شانگلہ اور وجاہت اللہ کو 4، 4 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ملزمان کے وکیل سید اختر نے پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ کا فیصلے سامنے آنے کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے عدالت نے ابھی مختصر فیصلہ سنایا ہے تاہم تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد ملزمان کو جیس سے رہا کردیا جائے گا۔

تاہم امکان ظاہر کیا جارہا ہے ملزمان کو 27 فروری کی شام کو ہری پور جیل سے رہا کر دیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے مشال خان قتل کیس پر ازخود نوٹس نمٹادیا

ادھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالبِ علم مشال خان کیس کا ازخود نوٹس نمٹادیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مشال خان قتل کیس کے سلسلے میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مشال خان قتل کیس میں ملزمان کو ایبٹ آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے سزائیں سنادی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت اور مشال خان کے گھروالوں کی جانب سے ملزمان کی بریت اور دیگر ملزمان کی سزاؤں کو پشاور ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس کو نمٹاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ملزمان کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں جس کے بعد عدالتِ عظمٰی میں یہ کیس غیر مؤثر ہوچکا ہے۔

مشال خان قتل کیس — کب کیا ہوا؟

یاد رہے کہ 23 سالہ مشال خان کو 13 اپریل 2017 کو خیبر پختونخوا (کے پی) میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین رسالت کے الزام پر ہجوم نے تشدد کانشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

مشال کی قتل کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر جاری ہوئی تو پورے ملک میں غم و غصہ پیدا ہوا جس کے بعد پاکستان میں توہین کے قانون کے حوالے سے نئی بحث کا بھی آغاز ہوگیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے مشال خان کے والد کی جانب سے درخواست پر مقدمے کو مردان سے اے ٹی سی ایبٹ آباد منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

اے ٹی سی نے مقدمے کی سماعت کا آغاز ستمبر میں کیا تھا جبکہ یونیورسٹی کے طلبا اور اسٹاف کے اراکین سمیت گرفتار 57 مشتبہ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی تھی اور گرفتار ملزمان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مشال قتل کیس کے فیصلے کے خلاف جے یوآئی (ف) کا احتجاج

مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے سامنے 50 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے اور وکلا کی جانب سے ویڈیو ریکارڈ بھی پیش کیا گیا جس میں گرفتار ملزمان کو مشال خان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔

مشال خان کے والد قیوم خان، ان کے دوست اور اساتذہ نے بھی اے ٹی سی کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔

یاد رہے کہ مشال خان قتل کیس کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ قتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔

اے ٹی سی نے پانچ ماہ اور 10 دن کی سماعت کے بعد مقدمے کی کارروائی مکمل کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ 7 فروری کو ایبٹ آباد کی اے ٹی سی عدالت نے عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک مجرم کو سزائے موت، 5 مجرموں کو 25 سال قید اور 25 مجرموں کو 3 سال قید جبکہ 26 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

مشال خان کے اہلخانہ نے اے ٹی سی کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور 13 فروری کو مشال خان کے بھائی ایمل خان نے اپنی وکلا ٹیم سے مشاورت کے بعد کہا تھا کہ وہ ایبٹ آباد کی اے ٹی سی کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

مشال خان کے بھائی ایمل خان نے 14 فروری کو مشال خان قتل کیس میں اے ٹی سی ہری پور کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

یاد رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے مشال خان قتل کیس میں ایبٹ آباد کی اے ٹی سی سے 26 افراد کی بریت کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

مشال خان کے والد نے 24 فروری کو اپنے بیٹے کے قتل کیس میں اے ٹی سی کے فیصلے کے خلاف 6 اپیلیں پشاور ہائی کورٹ میں دائر کردیں تھیں.