نیا پاکستان تو پیچھے رہ گیا

ای میل

مایوس اور ناامید پاکستانی اپنے سر ٹرین کی پٹڑی پر رکھ دیں اگر انہیں یقین ہو کہ ٹرین وقت پر آئے گی۔ یا وہ زہر کی بوتل پی لیں اگر انہیں یقین ہو کہ یہ ملاوٹ شدہ نہیں ہوگا۔ وہ خود کو بجلی کا جھٹکا تو دے ہی سکتے ہیں اگر انہیں معلوم ہو کہ تاروں میں بجلی آ رہی ہوگی۔ اور وہ خود کو گولی تو مار ہی سکتے ہیں اگر بندوقیں سکیورٹی اہلکاروں یا پھر عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں نہ ہوں۔ اس دوران پاکستانی روزانہ سست روی سے مرنے پر مجبور ہیں۔

ہماری مرتی ہوئی پارلیمنٹ کی مثال لیں۔ یہ آکسیجن کے آخری ذرات پر منحصر ہے، اور تقریباً خالی ایوان میں مشتبہ قراردادیں متفقہ طور پر پاس کر کے اپنی زندگی برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔ تازہ ترین قرارداد ہمارے ذہنوں میں قوانین کی کتابوں سے بھی زیادہ عرصے تک رہے گی، اور یہ قرارداد اسلام آباد کی قائدِ اعظم یونیورسٹی میں پاکستان کے پہلے نوبیل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کا نام مٹانے کی قرارداد ہے۔

کئی سال پہلے کسی نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان سے اتنی محبت کرتے تھے جتنی سقراط کو ایتھنز سے بھی نہیں تھی۔ سقراط کو ایتھنز والوں کے ہاتھوں زہر کا پیالہ صرف ایک بار پینا پڑا تھا مگر ڈاکٹر عبدالسلام یہ پیالہ اپنے ہم وطنوں کے ہاتھوں روز پینے پر مجبور ہیں۔ ان کا نام کاٹ کر پاکستان نے نہ صرف ان کے ساتھ زیادتی کی ہے بلکہ اس نے اپنے مستقبل کے ماہرینِ فزکس کے ذہنوں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

پڑھیے: 2018ء کے انتخابات ’الیکٹیبلز‘ کے لیے مشکل ثابت کیوں ہوسکتے ہیں؟

ہماری مخدوش خارجہ پالیسی دیکھیں۔ امریکا کے ساتھ 70 سالہ تعلقات کے بعد ہم اب جان گئے ہیں کہ ہم نے امریکا کے لیے بہت زیادہ کچھ کیا ہے۔ اب ہم طویل عرصے سے خود پر مہربان امریکا کا سامنا کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ اس دفعہ یہ اسلام آباد میں موجود اس کے ڈیفینس اور ایئر اتاشی کرنل جوزف ہال کے متعلق ہے۔ ان پر قتل کا الزام تھا۔ یہ امریکا کے لیے پریشان کن ہوگا کہ وہ افغانستان سے اسلام آباد تک انہیں لینے کے لیے ایک سی 130 طیارہ بھیجے اور پھر وہ طیارہ خالی ہاتھ واپس لوٹ جائے (اس دوران کرنل جوزف ہال ایک اور طیارے میں ملک سے جا چکے ہیں۔) ٹھیک 7 سال قبل مئی 2011ء میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں نے اسی طرح کا ایک آپریشن زیادہ کامیابی سے انجام دیا تھا۔

وہ بغیر کسی جلدی کے ایبٹ آباد اترے، اور اپنے ساتھ اسامہ بن لادن کو کارگو کے طور پر لے گئے۔ مگر اس نازک موقع پر جب ہم امریکا کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں، تو ہماری حکومت نے امریکا میں ایک ماہر سفارتکار کی جگہ لینے کے لیے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں تربیت پانے والے ایک ناتجربہ کار کاروباری شخصیت کو نامزد کیا ہے۔ ان کی وال اسٹریٹ کے لیے نامزدگی شاید زیادہ بہتر ہوتی۔

ہماری اقتصادی پالیسی پر نظر ڈالیں۔ ہمارا سالانہ بجٹ دیکھے بغیر، اور بحث کے بغیر منظور ہوگیا ہے۔ اب یہ ایک گزر چکا واقعہ ہے اور ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو کچرے کو تول کر خریدتے ہیں۔

ہماری عدلیہ کو دیکھیں۔ ہماری عوام وکلاء کو عدالتوں کے اندر ایک دوسرے کو مکے مارتے ہوئے دیکھنے کی عادت ہے۔ عدلیہ کی کاغذی شہرت بھی تڑ مڑ گئی ہے کیوں کہ جج صاحبان ایک دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں۔ سال در سال ہم نے برطانوی قانونی اصولوں کو اپنایا ہے۔ بس یہ رہ گیا تھا کہ ہم اپنے لیے ایک اور جج جیفریز پیدا کر لیتے۔

کافی عرصے سے عوامی جلسوں کے شور میں معقولیت اور عام فہم کی آوازیں دب سی گئی ہیں۔ بینروں اور پمفلٹس پر کروڑوں روپے تقسیم کیے جاتے ہیں مگر پارٹی منشور پر کچھ بھی نہیں۔ شاید ٹیکنالوجی کے اس دور میں فوری ری پلے زیادہ بہتر ہے۔ منشور کی کیا ضرورت ہے جب ادھورے انتخابی وعدوں کو ایک بٹن دبا کر واپس سنایا جا سکتا ہے؟

پڑھیے: ’وزیرِِاعظم زرداری سننے میں عجیب ضرور، مگر ناممکن نہیں!‘

عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ایک وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان عبوری وزیرِ اعظم کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے۔ نام ابھی تک پوشیدہ رکھا جا رہا ہے اور یہ صحیح بھی ہے۔ عوام کو سب سے آخر میں ہی پتہ چلنا چاہیے۔ انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوگا اور تھکا دینے والے 2 ماہ تک پھر سیاسی گہماگہمی ہوگی، اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟

میں سوچتا ہوں کہ کیا ہوگا اگر انتخابات کے حتمی نتائج کوئی بڑی سیاسی جماعت مسترد کر دے؟ عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف نے 2013ء کے انتخابات کے بعد غیر مؤثر انداز میں یہ کر کے دیکھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پی پی پی نے یہی کام دسمبر 1970ء کے 'آزاد اور منصفانہ' کے بعد کیا۔ کیا ہوگا اگر نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ (نواز) دونوں یہ نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیں؟ کیا وہ انتخابی نتائج سے اپنے عدم اطمینان، اور ان کی منسوخی کے لیے عوامی مظاہروں اور دھرنوں پر اکتفا کرے گی؟

کیا اگلی قومی اسمبلی 10 کروڑ 42 لاکھ 67 ہزار 581 رجسٹرڈ ووٹروں کی توقعات کو پورا کرے گی؟ کیا یہ بات معنی بھی رکھتی ہے؟ یا یہ رچرڈ ہارکنیس کے الفاظ میں ’غیر ضروری کام کے لیے بے ہمت لوگوں کے گروہ میں سے ان فِٹ لوگوں کا انتخاب۔‘

2023ء کا پاکستان کیسا ہوگا؟ ووٹروں کو بتایا گیا ہے کہ وہ ایک 'نئے پاکستان' کی توقع کریں۔ انہیں فرانسس ینگ ہسبینڈ جیسی ہی مایوسی کے لیے تیار رہنا چاہیے جو انہیں 1880ء میں لاہول (انڈیا) کے سفر میں ہوئی تھی: ’چنانچہ میں نے دوبارہ پوچھا کہ داڈھ گاؤں کتنا دور ہے، اور اس شخص نے کہا کہ 2 میل۔ میں نے اس سے پوچھا کہ گاؤں یہاں سے نظر آئے گا تو اس نے کہا، ہاں۔ اور مجھے میرے پیچھے موجود گاؤں دکھا دیا۔‘

ووٹر خبردار رہیں کہ آپ کا 'نیا' پاکستان آپ کے پیچھے ہے۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 17 مئی 2018ء کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔