یورپی یونین نے بھی میانمارکے فوجی افسران پر پابندی عائد کردی

اپ ڈیٹ 26 جون 2018

ای میل

یورپی یونین نے 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو جبری طور پر بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور کرنے والے میانمار کے فوجی جنرل سمیت 7 افسران پر بیرونِ ملک سفری پابندی عائد اور ان کے اثاثے منجمد کردیے۔

ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق میانمار کے 7 فوجی افسران میں فوجی جنرل بھی شامل ہیں جن پر یورپی یونین کے ممالک کیلئے سفری پابندی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: بھوک سے نڈھال روہنگیا مسلمان مہاجرین کیمپوں میں اشتعال

علاوہ ازیں میانمار فوج کے ساتھ ہر قسم کا عسکری تعاون بھی ختم کردیا جائے گا جبکہ ان کی فوجی ٹریننگ بھی پابندی کی زد میں آگئی۔

واضح رہے کہ پابندی کا معاملہ اپریل میں منظرعام پر آیا، مذکورہ فیصلہ یورپی یونین کے سفارتی پالیسی میں تبدیلی کی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

یورپی یونین نے 2012 میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو محدود کرنے کا اشارہ دیا تھا جہاں جمہوری نظام کمزور ہے۔

واضح رہے کہ 26 مارچ کو اقوامِ متحدہ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ میانمار میں 'دہشت گردی اور افلاس کی مہم' کے نام پر ریاست رخائن میں فوج مسلمانوں کی نسل کشی کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کو درپیش مشکلات

یاد رہے کہ اگست 2017 میں میانمار کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوج اور مقامی مذہبی انتہاپسندوں کی جانب سے شروع کی گئیں خونریز کارروائیوں کے نتیجے میں مسلمان بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔

گزشتہ برس دسمبر میں امریکا نے رخائن میں روہنگیا اقلیت (مسلمانوں) کے خلاف میانمار فوج کے بہیمانہ کریک ڈاؤن کے بعد ان پرپابندی عائد کی تھی۔

امریکا نے برمی فوج کے مغربی کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل موانگ موانگ سو پر پابندی عائد کی، جن کی سربراہی میں اگست 2017 میں مسلمانوں کے خلاف خونریز کارروائیاں کی گئیں۔

یورپین یونین کے اعلامیے کے مطابق ’میجر جنرل موانگ موانگ سو نے اپنے دور میں رخائن ریاست میں روہنگیا اقلیتوں پر ظلم کیا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی‘۔

یہ بھی پڑھیں: روہنگیا بحران سے متعلق 'غلط معلومات' پر آنگ سان سوچی کی مذمت

علاوہ ازیں سیکیورٹی پولیس بٹالین کے کمانڈر ٹھنڈ زن او پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔

کمانڈر ٹھنڈ زن نے روہنگیا مسلمانوں کے گھروں اوردیگر عمارتوں کو نذر آتش اور منصوبہ بندی کے تحت ان کا قتل عام کیا۔

پابندی کی زد میں آنے والے دیگر 5 فوجی افسران جرنیل کے عہدے پر فائز ہیں۔

خیال رہے کہ رواں برس فروری میں کینیڈا نے بھی میانمار کے فوجی جرنیلوں پر پابندی لگائی تھی۔

کینیڈا نے پابندی اس وقت لگائی جب ان دن نامی گاؤں میں روہنگیا بدمت کے پیروکار اور فوجیوں نے 10 مسلمان مردوں اور لڑکوں کو سفاکی سے قتل کردیا تھا۔


یہ خبر 26 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی