پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کے دور حکومت میں 10 سال کے دوران ابتدائی تعلیم کی صورت حال میں بہتری آئی، دوسری جانب دیکھا جائے تو ثانوی یا اعلیٰ ثانوی تعلیم کی صورتحال میں بہتری نظر نہیں آتی ہے۔

شہباز شریف کے مطابق 2008 سے 2018 کے درمیان 10 سال میں پرائمری سطح پر بچوں کے اسکول میں داخلے کی شرح 68فیصد سے بڑھ کر 86فیصد ہو گئی ہے۔

پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کے دعوے میں کسی حد تک حقیقت بھی موجود ہے، تاہم پرائمری کے بعد بچوں کے لیے اسکول موجود نہیں۔

تعلیم کے فروغ اور اصلاحات کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے الف اعلان کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پرائمری تک تعلیم کی ترویج کے لیے اسکول بڑی تعداد میں موجود ہیں، لیکن اگر اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ثانوی یا اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں کی تعداد انتہائی کم ہے۔

الف اعلان کے مطابق ثانوی سطح پر بچوں کی اسکولز میں رجسٹریشن میں بہت معمولی اضافہ ہوا۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2013 کے مقابلے میں 2018 تک ثانوی تعلیمی اداروں میں بچوں کی رجسٹریشن فقط 37فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد ہوئی جبکہ اعلیٰ ثانوی تک 25 سے 29 فیصد بچے پہنچ پاتے ہیں۔