کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی سے 289 افراد کی ہلاکت کے خوف ناک واقع کو 6 سال مکمل ہوگئے۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں کراچی کی کئی معروف سیاسی شخصیات کو ملزم قرار دیا گیا جبکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے متعدد پر فرد جرم بھی عائد کی اور اس خوف ناک واقعہ کا مقدمہ انسداد دہشت گردی میں تاحال زیر سماعت ہے۔

رینجرز کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کی گئی رپورٹ میں مخصوص سیاسی جماعت کے ایک گروہ کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:رینجرز رپورٹ: سانحہ بلدیہ ٹاﺅن میں ایم کیو ایم ملوث قرار

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور موجودہ وفاقی وزیر علی زیدی نے 2017 میں سندھ ہائی کورٹ میں چیف سیکریٹری کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ انہیں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں لگنے والی آگ کے حوالے سے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ فراہم نہیں کی جا رہی۔

سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے 13 دسمبر 2017 کو علی زیدی کی درخواست پر سماعت کی تھی جہاں پی ٹی آئی رہنما نے کہا تھا کہ انہوں نے کئی مرتبہ چیف سیکریٹری سے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں لگنے والی آگ، لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے مبینہ جرائم اور فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے چیئرمین نثار مورائی کے خلاف کیسز کے حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ کی نقول فراہم کرنے کی استدعا کی جو انہیں اب تک موصول نہیں ہوسکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مجرم انصاف سے مبرا نہ ہو سکے جس کے لیے جے آئی ٹی رپورٹ کی اشاعت انتہائی ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ بلدیہ کے ملزم رؤف صدیقی، عبدالرحٰمن، زبیر پر فردِ جرم عائد

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما روف صدیقی، کارکن زبیر عرف چریا اور عبدالرحمٰن بھولا پر فرد جرم عائد کی تھی اور علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا تھا۔

ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارج عبدالرحمٰن عرف بھولا نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے ایک اعترافی بیان میں کہا تھا کہ اس نے زبیر عرف چریا اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر حماد صدیقی کے کہنے پر بلدیہ میں قائم گارمنٹس فیکٹری کو آگ لگائی تھی، کیونکہ فیکٹری کے مالکان نے بھتے کی رقم اور فیکٹری میں شراکت داری دینے سے انکار کردیا تھا۔

بعد ازاں 27 اکتوبر 2017 کو ملنے والی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کی کراچی تنظیمی کمیٹی کے سابق سربراہ اور سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزم حماد صدیقی کو دبئی میں گرفتار کرلیا گیا۔

یاد رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 250 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:صوبائی حکومت عزیر بلوچ، بلدیہ فیکٹری رپورٹس منظر عام پر لانے کی مخالف

فیکٹری میں آگ لگنے پر مزدوروں نے باہر نکلنے کی کوشش کی جس پر منیجر نے فیکٹری کا واحد دروازہ ہی بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔

سائٹ کے گنجان آباد علاقے میں واقع اس غیر قانونی فیکٹری میں ہنگامی حالات کی صورت میں اخراج کے محدود راستوں کو ہلاکتوں کی بڑی وجہ قرار دیا گیا تھا۔

اس واقعے کو شہر میں آگ لگنے کے خوف ناک ترین واقعات میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔