انتخابات 2018ء کتنے شفاف؟ الیکشن کمیشن کا خط حقیقت سامنے لے آیا

اپ ڈیٹ 30 ستمبر 2018

ای میل

الیکشن کمیشن آف پاکستان، یعنی ہم، پوری قوم کو ملک کی تاریخ کے آزاد ترین، منصفانہ ترین اور ہردلعزیز انتخابات مکمل ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ انتخابات بالکل ایک دولتمند سیٹھ کی جانب سے رمضان میں بانٹی جانے والی بریانی جتنے 'فری' تھے۔ انتخابات اتنے 'فیئر' تھے کہ گندمی رنگت والے تمام لوگوں کو احساسِ کمتری ہوگیا۔ اگر اس سے زیادہ فیئر ہوتے تو پاکستانیوں کو لگتا کہ یہ انتخابات نہیں بلکہ جیریمی میک لیلن ہیں اور ان کو پوجنا شروع کر دیا جاتا۔ یورپی یونین نے بھی الیکشن کمیشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ: "انتخابات فیئر تھے، رنگت بالکل بھی سیاہ نہیں تھی۔"

اس کے علاوہ یہ اب تک کے محفوظ ترین انتخابات بھی تھے، اس ویب سائٹ جتنے ہی محفوظ جسے پراکسی سرور لگا کر محفوظ بنایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ الیکشن کمیشن کی توجہ بڑے صوبوں اور بڑے امیدواروں کو زیادہ محفوظ رکھنے پر تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ نیوز میڈیا کیسے کام کرتا ہے۔ خبر صرف تب بنتی ہے جب بڑے شہر میں کسی بڑی سیاسی جماعت کے لوگ مریں۔ اچھی بات ہے کہ عمران خان اس دفعہ اپنے ابتدائی حامیوں کی بڑی تعداد کی نظروں کے علاوہ اور کہیں نہیں گرے۔

ہمیں 2013 کے انتخابات میں پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی، ڈبے بھرنے اور بے ضابطگیوں کی بنائی گئی ویڈیوز کے بارے میں علم تھا۔ دیکھیں تو ہم نے اس مسئلے سے کیسے نمٹا؟ ہم نے ووٹنگ کے مرحلے کے دوران لوگوں کے ویڈیو بنانے پر پابندی لگا دی، کیوں کہ کپڑوں کی طرح بیلٹ پیپرز پر بھی لگے ہوئے داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔

پڑھیے: عمران خان کے نام وزیرِاعظم ہاؤس کی بھینسوں کا خط

ہم نے ری سائیکلنگ اور ماحول دوستی کے اپنے عزم کو برقرار رکھتے ہوئے بیلٹ پیپرز کی ری سائیکلنگ بھی کی۔ بیلٹ پیپر کی صرف ایک سائیڈ ہی ووٹنگ کے لیے استعمال ہونی تھی اس لیے ہم نے کئی اسکولوں میں اسے آنے والے طلباء کے لیے تحفے کے طور پر چھوڑ دیا۔ اب وہ بیلٹ پیپر کی خالی سائیڈ کو عظیم رہنما عمران خان کی ترقی کی جانب سفید گھوڑے پر سفر کے خاکے بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ بہترین خاکہ الیکشن کمیشن کا نیا پرچم بنے گا۔

ہم نے نتائج ڈیلیور کرنے کے لیے ٹیکسی کمپنیوں اور کھانا ڈیلیور کرنے والی کمپنیوں کے زیرِ استعمال سافٹ ویئر کا استعمال بھی کیا۔ ان ایپس کی طرح ہمارے ڈیلیوری ٹائم بھی خیالی جبکہ ڈیلیوری کا وعدہ اندازوں پر مبنی تھا۔ آپ نے کبھی میک ڈونلڈ سے نگٹس منگوائے ہیں؟ ہمارا دل چاہ رہا ہے کہ آپ کو انگلش بوٹ ہاؤس سے جوتے ڈیلیور کریں، تو سوچیں آپ کو آج لنچ میں کیا ملنے والا ہے؟

— خاکہ بشکریہ روحیل صفدر
— خاکہ بشکریہ روحیل صفدر

بعد میں ہم نے اپنی ایپ کے لیے ٹِنڈر کی ایپ جیسا ہی طریقہ اپنا لیا۔ ہم نے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو دائیں جانب پلٹایا، انہیں پھانسنے کے لیے ایک ہی لائن سب کو کاپی پیسٹ کی اور پھر انہیں اپنے انتخابی مرحلے کی ایک نہایت نامناسب تصویر بھیج دی۔ یہ فاتح کے ہمارے انتخاب کی تصویر تھی۔ ہمیں لگتا ہے کہ ٹین ایجرز آج کل اسے پِک پِک کہتے ہیں۔

ایک تو ہمیں نتائج میں تاخیر پر شکایات کی سمجھ نہیں آتی۔ آج تک کبھی نتائج میں تاخیر کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا ہے۔ دیکھیں لوگوں کو کسی چیز کی حقیقی قدر تب ہوتی ہے جب انہیں وہ چیز دیر سے ملے۔ ہم اپنی قوم کو صبر کا میٹھا پھل دینا چاہتے تھے۔

گنتی میں دیر ہوئی مگر یہ مرحلہ جامع بھی تو تھا۔ ہم نے سیسمی اسٹریٹ سے کاؤنٹ کی خدمات حاصل کیں۔ وہ انہیں، 1، 2، 3، 4 کر کے گنتا جاتا مگر پھر گنتی بھول جاتا اور شروع سے شروع کرتا۔ مسٹر کاؤنٹ کو ہزار سے اوپر گنتی نہیں آتی تھی تو آگے کے نمبرز ہمیں خود بنانے پڑے۔ اگر آپ کی پارٹی قریبی پولنگ اسٹیشن پر جیت گئی ہے تو امکان یہی ہے کہ وہ اگلا پولنگ اسٹیشن بھی جیت گئی ہوگی۔ تو کیوں نہ انہیں جیت دے کر گھر جایا جائے؟ ہمیں یہ اس لیے کرنا پڑا کیوں کہ مسٹر کاؤنٹ بے شمار ووٹوں میں الجھے ہوئے تھے۔ مسٹر کاؤنٹ صرف تھوڑے سے ہی ووٹ گن سکتے تھے، اس لیے وہ صرف جبران ناصر کے ووٹ ہی صحیح صحیح گن پائے۔

پڑھیے: گر مولانا فضل الرحمٰن صدر بن گئے تو؟

ہم نے نتائج کا اعلان اس بااعتماد 13 سالہ لڑکے کی طرح کیا جو یہ دکھاتا ہے کہ اس کی گرل فرینڈ ہے، مگر اس سے کوئی مل اس لیے نہیں سکتا کیوں کہ وہ اسلام آباد میں رہتی ہے۔ ہم نتائج کا اعلان پہلے بھی کر سکتے تھے مگر سسپنس کیوں خراب کریں؟ نتائج میں تاخیر کی وجہ سے ہمیں مزید ایک دو دن تک میڈیا کی توجہ ملی اور 'اہم' رہنے کا موقع ملا۔

ہم نتائج کا اعلان اگلے دن بھی کر سکتے تھے۔ ہم پولنگ کے ایک گھنٹے بعد بھی نتائج کا اعلان کر سکتے تھے۔ اور ایک ہفتے پہلے بھی۔

ایسا نہیں ہے کہ فیصلے ہم کر رہے تھے۔ ہم تو صرف پیغام پہنچانے والے ہیں، ہم پر غصہ نہ کریں۔

آپ کا مخلص

الیکشن کمیشن آف پاکستان


انگلش میں پڑھیں۔ یہ مضمون ہیرالڈ کی طنزیہ سیریز 'نیوز بائٹ' کا حصہ ہے اور ابتدائی طور پر ستمبر 2018 کے شمارے میں شائع ہوا۔ مزید پڑھنے کے لیے سبسکرائب کریں۔