پی ایس ایل: کاروباری کھیل یا نئے کھلاڑیوں کی آبیاری کا ذریعہ؟

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2018

ای میل

جب پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) شروع ہوئی تو سب یہ سوچ رہے تھے کہ اس سے پاکستان کو نیا ٹیلنٹ تلاش کرنے میں بہت مدد ملے گی اور بہت سارے نوجوان جو ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل اچھا پرفارم کر رہے ہیں انہیں ایک بڑا اسٹیج مل جائے گا جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

اگر ہم حسن علی، شاداب خان، حسین طلعت اور فخر زمان کی ہی مثال لے لیں تو بہت حد تک اس میں سچائی بھی نظر آئے گی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ مندرجہ بالا کھلاڑیوں کے حوالے سے سارا کریڈٹ ان کی فرنچائزز سمیٹ رہی ہیں لیکن ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ یہ سارے ڈومیسٹک پراڈکٹ ہیں اور ایک سسٹم سے نکل کر آئے ہیں۔ ان کے اندر ٹیلنٹ موجود تھا جسے نکھارنے میں پی ایس ایل نے مدد کردی اور آج یہ پاکستان کی ٹیم میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

یہ بحث لمبی ہے کہ کھلاڑیوں کی بہتری میں پی ایس ایل نے درحقیقت کتنا حصہ ڈالا ہے۔ ہم اس میں الجھے بغیر اس نئی بحث کا ذکر کریں گے جو تازہ ترین پلیئر ڈرافٹنگ نے چھیڑ دی ہے۔ یعنی یہ کہ آیا خام ٹیلنٹ کے نکھار کے لیے لیگ کی فرنچائزز پورا حصہ بھی ڈال رہی ہیں یا نہیں؟ کیونکہ بہت سارے نئے لڑکے جو ڈومیسٹک میں بہت عمدہ پرفارم کرچکے ہیں وہ اس بار بھی لیگ کا حصہ نہیں بن سکے۔

کیا لیگ میں کھلاڑیوں کا انتخاب مکمل طور پر کاروباری انداز میں ہوتا ہے یا نئے ٹیلنٹ کی آبیاری بھی اس کا ایک مشن ہے؟ ویسے تو بہت سے کھلاڑیوں کے نام لکھے جا سکتے ہیں تاہم ہم یہاں ان 5 کھلاڑیوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جن کی عدم شمولیت شائقین کرکٹ کے لیے ایک دھچکے سے کسی صورت کم نہیں۔

ذیشان ملک

21 سالہ ذیشان ملک پہلی مرتبہ 2016ء کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں منظرِ عام پر آئے۔ جب پاکستان کی طرف سے ٹاپ 3 بلے بازوں کی فہرست میں ان کا نام آیا۔ ان کے پاس اسٹروکس تھے، اعتماد تھا اور سب سے بڑھ کر نئی گیند کو کھیلنے کی بہترین صلاحیت۔

تاہم یہ کارکردگی کسی کو یاد نہیں رہ سکی اور ذیشان کو فرسٹ کلاس میں محدود موقع ہی مل گیا۔ تاہم انہوں نے محنت جاری رکھی اور 2017ء میں لاہور قلندرز کے جیز رائزنگ اسٹار ٹورنامنٹ میں شرکت کرکے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھائی اور ٹورنامنٹ کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ثابت ہوئے۔

انہوں نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے ’ٹوئن سٹی ٹاکرا‘ میں بھی خوب رنز بنائے۔ اگلے دونوں ٹورنامنٹس میں 3 شاندار سنچریاں بھی بنائیں لیکن اس کے باوجود تمام ہی ٹیموں کے دروازے ان پر ہنوز بند رہے۔

اس بار قائدِ اعظم ون ڈے ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی مزید بہتر ہوئی اور آخری 4 ڈومیسٹک ون ڈے میچز میں انہوں نے 3 شاندار سنچریاں بنا کر فرنچائزز کو متاثر کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ کوشش بھی ناکام ثابت ہوئی اور یوں ذیشان ملک ایک بار پھر پی ایس ایل حسرت بھری نگاہوں سے ٹی وی اسکرین پر دیکھیں گے۔


حسن محسن

2016ء کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان نے ایک زبردست آل راؤنڈر دریافت کیا۔ یہ وہ دن تھے جب پاکستانی ٹیم میں ایک عدد فاسٹ باؤلنگ آل راؤنڈر کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ حسن محسن کی صورت میں ایک اچھا ٹیلنٹ سامنے آیا تاہم باؤلنگ میں ان کی اسپیڈ کم تھی جو بین الاقوامی سطح پر ان کی اچھی کارکردگی میں ایک رکاوٹ ہوسکتی ہے۔

ان کی کم رفتار کی ایک وجہ شاید یہ بھی رہی ہو کہ ایک اسپنر سے فاسٹ باؤلر بننے کا سفر انہوں نے اس وقت شروع ہی کیا تھا۔ تاہم گیند پر اپنے بہترین کنٹرول کی وجہ سے انڈر 19 سطح پر وہ بہت مفید ثابت ہوئے۔ حسن نے اسپیڈ پر کام کیا اور ڈومیسٹک میں اپنی جگہ مستحکم کی۔

اس کارکردگی کی بدولت 2018ء کے پی ایس ایل مقابلوں کے لیے کراچی کنگز کی ٹیم نے اگرچہ انہیں منتخب تو کیا لیکن حسن کی قسمت کہ وہ کسی بھی میچ میں نہ کھیل سکے جو بے قدری کی ایک شاندار مثال ہے۔

حسن کو کراچی کنگز نے اس سال اسکواڈ سے ریلیز کیا اور دوبارہ کسی بھی ٹیم نے انہیں منتخب نہیں کیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں اسی حسن محسن کی کپتانی میں پاکستان ٹیلی ویژن کی ٹیم نے ڈومیسٹک ون ڈے ٹورنامنٹ کے فائنل تک بھی رسائی حاصل کی ہے۔


مختار احمد

اپنے پہلے ہی 3 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز میں دھوم مچا دینے والے مختار احمد نے شائقین کو دیوانہ بنا لیا تھا تاہم جلد باز طبیعت کی بدولت وہ پکڑے گئے اور کچھ میچز میں ناکام ہوگئے۔ مگر یہ سب 2015ء کی باتیں ہیں۔ قومی ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد مختار احمد ڈومیسٹک میں واپس چلے گئے اور خوب محنت کی۔

مختار نے ڈومیسٹک میں ثابت کیا کہ محدود اوورز کے فارمیٹ میں وہ اب بھی سب سے بہترین بلے باز ہیں۔ ثبوت کے طور پر ان کی 3 شاندار سنچریاں ہیں جو احمد شہزاد اور کامران اکمل کے بعد کسی بھی پاکستانی بلے باز کی طرف سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔ حالانکہ مختار نے ان دونوں سے بہت کم تعداد میں میچز کھیلے ہیں، جبکہ اسٹرائیک ریٹ ان کا 152 ہے جو شاہد آفریدی کے بعد سب سے بہترین ہے۔ اس کے باوجود بھی انہیں کسی ٹیم میں جگہ نہیں مل سکی ہے۔

گزشتہ سیزن میں انہیں کراچی کنگز نے منتخب کیا تھا لیکن انہیں کھیلنے کا موقع صرف ایک ہی میچ میں مل سکا۔ اس بار انہیں سرے سے ہی نظر انداز کردیا گیا ہے، حالانکہ گزشتہ ماہ کھیلے گئے ون ڈے ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی قابلِ تعریف رہی تھی۔

آخری 3 ون ڈے میچز کی دو اننگز میں انہوں نے بالترتیب 155 اور 161 رنز بنائے ہیں۔ حالیہ ون ڈے ٹورنامنٹ میں وہ سب سے زیادہ رنز بنانے والے 5 کھلاڑیوں میں سے رہے ہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 112 تھا جبکہ اوسط 62 رنز کی، جس کا مطلب ہے کہ وہ تیز کھیلنے کے ساتھ ساتھ لمبی اننگز بھی کھیل سکتے ہیں۔ اوپنر ہیں چنانچہ اوسط بھی خالص ہے۔ تاہم یہ کارکردگی بھی انہیں پی ایس ایل میں شمولیت کا حقدار نہیں بنا سکی۔


خوشدل شاہ

7 میچز میں 5.91 کے عمدہ اسٹرائیک ریٹ سے 463 رنز، 77 کی شاندار اوسط، 3 سنچریاں اور 17 چھکے۔ یہ ہیں پی ایس ایل ڈرافٹ سے صرف چند دن پہلے ختم ہونے والے ٹورنامنٹ میں خوشدل شاہ کے اعداد و شمار۔ پاکستان کے ڈومیسٹک سرکٹ میں مسلسل اچھا کھیل پیش کرنے والے خوشدل محنت سے کبھی بددل نہیں ہوتے۔

خوشدل محدود اوورز کے میچز میں ہمیشہ سے بڑے شاٹس لگانے کے لیے مشہور رہے ہیں۔ مڈل آرڈر میں بلے بازی کرنے والے خوشدل صرف ہارڈ ہٹنگ بلے باز نہیں بلکہ ایک نہایت مستند بلے باز ہیں جو بوقتِ ضرورت انتہائی سمجھداری سے ٹیم کی کشتی پار لگانے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔

گزشتہ دونوں سیزنز میں وہ پشاور کا حصہ رہے ہیں لیکن انہیں صرف 4 میچز ہی مل سکے ہیں۔ اس سال خوشدل نے سوچا ہوگا کہ ایک شاندار ڈومیسٹک سیزن کھیلنے کے بعد وہ اچھے مواقع حاصل کرسکیں گے تاہم کسی بھی ٹیم نے انہیں منتخب کرنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ یہ حیران کن ہے کیونکہ لوکل بلے بازوں میں سے وہ ایک بہترین آپشن ثابت ہوسکتے تھے۔


سیف بدر

2016ء کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی طرف سے سب سے بہترین بلے باز کے طور پر سامنے آنے والے سیف بدر نے کرکٹ حلقوں میں بہت جلد اپنی پہچان بنا لی تھی تاہم کم عمری کی وجہ سے وہ بہت اوپر نا جاسکے۔

2017ء میں انہیں فرسٹ کلاس میں موقع ملا اور اسی سال ملتان سلطانز نے انہیں اپنی ٹیم میں بھی شامل کیا۔ بہت امید تھی کہ شعیب ملک اور وسیم اکرم کی عقابی نگاہوں نے اس لڑکے کے ٹیلنٹ کو ٹھیک طرح سے پہچان لیا ہے اور وہ چھپے ٹیلنٹ کو نکھار بھی سکیں گے۔

کپتان اور کوچ نے سیف بدر کو مناسب موقع بھی دیا لیکن وہ اسے کیش نہیں کروا سکے۔ تاہم اس کے بعد انہوں نے اس سیزن میں فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک ون ڈے ٹورنامنٹ میں عمدہ بلے بازی کی، اپنی خامیوں پر قابو پایا اور ثابت کیا کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھ رہے ہیں۔

ایمرجنگ کیٹیگری میں ان کی سلیکشن نا ہونا بھی اس پی ایس ایل ڈرافٹ کی چند حیران کن خبروں میں سے ایک ہے، کیونکہ سیف بدر مستقبل میں بڑا کھلاڑی بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور ایسے لڑکوں پر سرمایہ کاری کی جانی چاہیے۔

ان کے علاوہ کامران غلام کا نام لیا جانا بھی بہت ضروری ہے۔ پرانے کھلاڑیوں میں سے عمر گل کی عدم شمولیت حیران کن ہے۔ جبکہ عمران نذیر اور عبالرزاق کی کم بیک کی خواہش بھی پوری نہیں ہوسکی ہے۔