کم جونگ ان، ڈونلڈ ٹرمپ ملاقات کیلئے ویت نام پہنچ گئے

اپ ڈیٹ 26 فروری 2019

ای میل

امریکی صدر خصوصی طیارے اور شمالی کوریا کے سربراہ ٹرین سے ہنوئی پہنچے — فوٹو: اے ایف پی
امریکی صدر خصوصی طیارے اور شمالی کوریا کے سربراہ ٹرین سے ہنوئی پہنچے — فوٹو: اے ایف پی

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے مرحلے کی ملاقات کے لیے ویت نام پہنچ گئے جس میں پیانگ یانگ کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے سے متعلق اہم اقدامات لیے جانے کے امکانات ہیں۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق دونوں رہنما 27 فروری کو شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان بذریعہ خصوصی ٹرین 4 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے ڈھائی روز میں ویت نام پہنچے جہاں انہیں فوج کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

مقامی عہدیدار ہوانگ تھی نے کہا کہ انہوں نے 1964 کے بعد ویت نام کا دورہ کرنے والے شمالی کوریا کے پہلے سربراہ کم جونگ کی آمد کا انتظار کیا۔

مزید پڑھیں: کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ تاریخی ملاقات کے لیے سنگاپور پہنچ گئے

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جب ہمیں ٹرین کی آمد سے متعلق بتایا گیا تو میں بہت زیادہ پرجوش تھی ‘۔

ہوانگ تھی نے کہا کہ ’ہم نے انہیں بہت دور سے دیکھا، مجھے بہت خوشی ہوئی جس کو بیان کرنا مشکل ہے‘۔

خیال رہے کہ اس سے قبل شمالی کوریا کے موجودہ سربراہ کے دادا کم ٹو سنگ نے 1964 میں ویت نام کا دورہ کیا تھا۔

ویت نام آمد پر ہنوئی اوپیرا ہاؤس کے قریب عوام کی ایک بڑی تعداد نے کم جونگ ان کا پرجوش استقبال کیا جس کے بعد وہ میلیا ہوٹل روانہ ہوگئے جہاں وہ قیام کریں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج شب خصوصی طیارے ایئر فورس ون سے ہنوئی پہنچے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہنوئی پہنچ کر صحافیوں سے کوئی بات چیت نہیں کی تاہم ویت نام آمد سے قبل ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ ’وہ دوسرے اور بہت تخلیقی اجلاس کا انتظار کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں مزید کہا تھا کہ ’جوہری ہتھیاروں کا استعمال مکمل طور پر ترک کرکے شمالی کوریا بہت تیزی سے معاشی طاقت بن جائے گا‘۔

امریکی صدر نے لکھا تھا کہ ’چیئرمین کم جونگ ان عقل مندانہ فیصلہ لیں گے‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں سنگاپور میں ابتدائی ملاقات کے بعد جوہری ہتھیاروں کا استعمال ترک کرنے سے متعلق صرف بیان آنے کے بعد تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ دوسری ملاقات میں پیانگ یانگ کے ہتھیار ترک کرنے سے متعلق ٹھوس اقدامات سامنے آنے چاہئیں۔

تاہم اکثر افراد نے سنگاپور میں ہوئے اجلاس کو سیاسی ڈرامہ قرار دیا تھا جہاں جوہری ہتھیاروں کا استعمال ترک کرنے میں کسی قسم کے ٹھوس اقدامات لینے میں ناکامی ہوئی تھی اور ہنوئی اجلاس میں لازمی طور پر کچھ بہتر اقدامات لینے پر اصرار بھی کیا جا رہا ہے۔

امریکی آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے کیلسے ڈیون پورٹ نے کہا کہ ’ شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی پیش رفت کے دروازے غیریقینی طور پر کھلے نہیں رہیں گے، اس لیے دوسرے اجلاس میں ڈرامائی صورت حال پر توجہ مرکوز کی جائے‘۔

ہنوئی میں منعقد ہونے والے اجلاس سے متعلق ٹھوس تفصیلات تاحال موجود نہیں لیکن وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے بتایا کہ دونوں رہنما قریبی مشیروں کے ساتھ 27 فروری کو ایک ساتھ رات کا کھانا کھائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا کی امریکی پابندیوں کی مذمت،جوہری ہتھیار تخفیف نہ کرنے کی دھمکی

خیال رہے کہ گزشتہ برس 12 جون کو سنگاپور کے ایک شاندار ہوٹل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات کے بعد شمالی کوریا کے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر جوہری تنصیبات کی نمائش سے گریز کیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان، جنہوں نے 2017 ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری اور دھمکیاں دے کر گزارا تھا، کے درمیان دوسری ملاقات کا امکان آئندہ برس ظاہر کیا جارہا ہے۔

تاہم شمالی کوریا کی جانب سے جوہری اور بیلسٹک میزائل کی تخفیف کے کے چند واضح اقدامات کے بعد امریکی صدر کو تنقید کا سامنا ہے۔

بعد ازاں گزشتہ برس دسمبر میں شمالی کوریا نے امریکی کی جانب سے عائد کی گئی حالیہ پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ واشنگٹن کے اقدامات سے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔