حکومت کی مدرسہ تعمیر کرنے کی یقین دہانی، لال مسجد آپریشن کیس نمٹا دیا گیا

اپ ڈیٹ 02 مئ 2019

ای میل

اٹارنی جنرل کے مطابق مدرسہ انتظامی طور پر حکومتی کنٹرول میں رہے گا — فائل فوٹو/ آئی این پی
اٹارنی جنرل کے مطابق مدرسہ انتظامی طور پر حکومتی کنٹرول میں رہے گا — فائل فوٹو/ آئی این پی

سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے مدرسے کے تعمیر کی یقین دہانی پر لال مسجد آپریشن سے متعلق آئینی پٹیشن کے علاوہ از خود نوٹس کیس اور دیگر درخواستیں نمٹادیں۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے لال مسجد از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، اس موقع پر اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو مدرسہ تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرتے ہوئے بتایا کہ مدرسہ انتظامی طور پر حکومتی کنٹرول میں رہے گا۔

حکومت کی یقین دہانی پر عدالت نے معاملہ نمٹا دیا۔

مزید پڑھیں: آپ لال مسجد آپریشن کرنے آئے تھے اور فلیٹس پر قبضہ کرلیا، چیف جسٹس

دوران سماعت لال مسجد کے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ روسٹرم پر آئے اور عدالت سے کہا کہ یہ کیس صرف ایک پلاٹ کا نہیں تھا بلکہ اس میں دیگر معاملات بھی تھے۔

جس پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آپ بتا دیں اور کون سا پہلو ہے جو ہم نے چھوڑ دیا، جس پر طارق اسد عدالت کو جواب دینے میں ناکام رہے۔

دوران سماعت جسٹس گلزار احمد اور وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، وکیل نے عدالت میں کہا کہ میں یہاں پر کوئی جھک مارنے آیا ہوں، جس پر جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مخاطب کیا کہ اوئے، جس پر وکیل نے بھی 'یو اوئے' کا جواب دیا۔

بعد ازاں جسٹس یحییٰ آفریدی نے وکیل طارق اسد ایڈووکیٹ کو بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی بیٹھ جائیں کچھ دیر بعد آپ کو سن لیں گے۔

عدالت عظمیٰ نے لال مسجد پر آئینی پٹیشن کے علاوہ از خود نوٹس سمیت تمام درخواستیں نمٹا دیں۔

یہ بھی پڑھیں: لال مسجد کیس: سپریم کورٹ نے لاپتہ بچوں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی

12 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے لال مسجد آپریشن کیس کی سماعت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کو 4 ہفتوں میں گمشدہ بچوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس سے قبل 8 جنوری 2019 کو انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد محمد عامر ذوالفقار کی جانب سے سرکاری رہائش پر غیر قانونی قبضے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی اسلام آباد کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ آپ لال مسجد آپریشن کروانے کے لیے آئے تھے اور یہاں فلیٹس پر قبضہ کرلیا۔

لال مسجد آپریشن

یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد میں آپریشن 3 جولائی 2007 کو مبینہ طور پر مسجد کی سیکیورٹی پر مامور پاکستان رینجرز کے اہلکار کے قتل کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

چند روز کے محاصرے کے بعد مسجد میں موجود افراد کی تصاویر ڈرون کیمرے کی مدد سے حاصل کی گئی تھیں، جبکہ مسجد میں موجود خواتین نے جامعہ حفصہ کے بینر تلے بچوں کی لائبریری میں خود کو محفوظ کرلیا تھا۔

جس کے بعد آرمی کمانڈوز کی جانب سے مسجد میں آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا جو 11 جولائی کو مکمل ہوا تھا۔

بعد ازاں 24 دسمبر 2014 کو مولانا عبدالعزیز غازی نے لال مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا تھا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’امید ہے کہ حکومت اور وفاقی انتظامیہ خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز کے لال مسجد جانے پر کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کرے گی‘۔

مزید پڑھیں: مولانا عبدالعزیز لال مسجد میں خطبے کا دوبارہ آغاز کریں گے

انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز غازی پر اب کوئی مقدمہ نہیں اور وہ لال مسجد کے آئینی و قانونی خطیب ہیں جبکہ ساڑھے 4 سال تک انہیں لال مسجد جانے سے روکنا خلاف آئین و قانون تھا۔

بعد ازاں 24 مارچ 2017 کو وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے اپنی رِٹ قائم کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز کو لال مسجد میں اجتماع منعقد کرنے سے روک دیا تھا۔

مولانا عبدالعزیز نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اشاعت کے خلاف لال مسجد میں اس دن ایک کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔