لاہور: داتا دربار کے باہر پولیس وین کے قریب خودکش دھماکا،10 افراد جاں بحق، 30 زخمی

ای میل

دھماکا پولیس وین کے قریب ہوا، جس کے بعد علاقے کو گھیرے 
 میں لے لیا—اسکرین شاٹ
دھماکا پولیس وین کے قریب ہوا، جس کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا—اسکرین شاٹ

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں داتا دربار کے باہر خود کش دھماکے میں 4 پولیس اہلکاروں اور ایک سیکیورٹی گارڈ سمیت 10 افراد جاں بحق جبکہ 30 افراد زخمی ہوگئے۔

ڈان نیوز ٹی وی کے مطابق دھماکا صبح 8 بجکر 45 منٹ کے قریب داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 کے قریب کھڑی پولیس موبائل کے پاس ہوا۔

مزیدپڑھیں: لاہور: ڈیفنس میں دھماکا، 10 افراد جاں بحق

ابتدائی طور پر پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ دھماکا داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب ہوا جس میں پولیس وین کو نشانہ بنایا گیا۔

دھماکے سے ایلیٹ فورس کی گاڑی تباہ ہوگئی—فوٹو: پولیس
دھماکے سے ایلیٹ فورس کی گاڑی تباہ ہوگئی—فوٹو: پولیس

دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھا کرنا شروع کردیے جبکہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو میو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز محمد اشفاق احمد خان نے بتایا کہ دھماکے میں 4 پولیس اہلکار اور ایک سیکیورٹی گارڈ سمیت 10 افراد جاں بحق ہوئے۔

ادھر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے واقعے میں 10 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی، جس میں 2 پولیس اہلکار، ایک کانسٹیبل، ایک گارڈ اور باقی شہری جبکہ جاں بحق افراد میں ایک 15 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رائےونڈ بم دھماکا: پنجاب اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع، قرارداد بھی منظور

ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ کل 36 لوگوں کو لایا گیا، جس میں سے 4 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ جاں افراد میں سے 8 کی لاشیں میو اور 2 کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل ہسپتال میں موجود ہیں۔

دھماکے میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت ہیڈ کانسٹیبل محمد سہیل، ہیڈ کانسٹیبل شاہد نذیر اور کانسٹیبل محمد سلیم کے نام سے ہوئی۔

پولیس ترجمان کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس لائئنز قلعہ گجر سنگھ میں داتا دربار خودکش حملے کے شہدا پولیس جوانوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ جس میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور صوبائی وزرا نے شرکت کی۔

مزیدپڑھیں: لاہور میں دو بم دھماکے، کم ازکم بیس زخمی

اس موقع پر آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز، دیگر اعلٰی سول اور پولیس افسران بھی موجود تھے۔

پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہدا کے جسد خاکی کو سلامی پیش کی۔

7 کلو دھماکا خیز مواد استعمال ہوا، آئی جی پنجاب

قبل ازیں دھماکے سے متعلق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس عارف نواز خان نے بتایا کہ 5 پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد شہید جبکہ 25 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 7 کلو کے قریب دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا اور اس میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ دھماکا خود کش تھا اور حملہ آور کی باقیات بھی مل گئی ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں۔

داتا دربار پر دھماکے کی اطلاع نہیں تھی، ڈی آئی جی آپریشنز

اس سے قبل دھماکے کے فوری بعد ابتدائی طور پر ڈی آئی جی آپریشن محمد اشفاق نے بتایا تھا کہ دھماکے میں 5 افراد شہید ہوئے، جس میں 3 پولیس اہلکار، ایک سیکیورٹی گارڈ اور شہری شامل ہیں جبکہ کل23 افراد زخمی ہوئے ہیں، جس میں 4 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ کسی کو بھی داتا دربار کے اندر داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی، جو لوگ داتا دربار میں موجود تھے انہیں بھی باہر نکال دیا گیا۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے—اسکرین شاٹ
سیکیورٹی اہلکاروں نے جائے وقوع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے—اسکرین شاٹ

ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ دھماکا خود کش تھا یا نہیں یہ ابھی معلوم کیا جارہا ہے اور صورتحال ابھی واضح نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کی اطلاعات تھیں لیکن داتا دربار پر اس طرح کے واقعے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

محمد اشفاق کا کہنا تھا کہ پولیس کا محکمہ قربانیاں دے رہا ہے، شہریوں کی حفاظت ہمارا فرض ہے اور ہم اسے پورا کریں گے۔

مزیدپڑھیں: کوئٹہ: سبزی منڈی میں بم دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

داتا دربار پاکستان کے ان مزاروں میں سے ایک ہے جہاں زائرین کی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔

پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق داتا دربار کے باہر دوسرا حملہ ہے، اس سے قبل جولائی 2010 میں پہلا حملہ ہوا تھا، جس میں 50 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے تھے۔

صدر، وزیر اعظم و سیاسی شخصیات کا اظہار مذمت

ادھر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگر شخصیات نے لاہور دھماکے پر اظہار افسوس کیا۔

صدر مملکت نے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ماہ مقدس رمضان میں اس طرح کے عمل میں ملوث عناصر گمراہ کن ہیں۔

داتا دربار کے باہر دھماکے پر وزیر اعظم عمران خان نے سخت مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: سبزی منڈی میں خودکش حملہ، 20 افراد جاں بحق

وزیر اعظم نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت کہ کہ وہ دھماکے میں زخمی افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کریں، ساتھ ہی انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔

ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی داتا دربار کے باہر پولیس موبائل کے قریب دھماکے پر اظہار مذمت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ نے واقعے کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا جبکہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

داتا دربار کے باہر دھماکے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس فوری طلب کرلیا اور اپنے بھکر، سرگودھا اور شیخوپورہ کے دورے منسوخ کردیے۔

مزیدپڑھیں: بلوچستان میں 2 دھماکے، سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی

دھماکے پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بھی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ماہ صیام میں معصوم اور بے گناہ شہریوں کو دہشت گردی کانشانا بنانا اسلام دشمن عناصر کا شاخسانہ ہے، ہمارا ملکی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور پاکستان کے دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لیے ملک میں بد امنی پھیلانا چاہتے ہیں۔

علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بھی داتا دربار خودکش حملے پر مذمت کا اظہار کیا۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی قیادت میں گزشتہ 5 سال میں سیاسی جماعتوں، تمام صوبوں، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے دہشت گردی پر قابو پایا گیا تھا، تاہم اس کا واپس آنا افسوسناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: ڈیرہ مراد جمالی میں بم دھماکا، ایک شخص جاں بحق

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر بریفنگ کو یکسر فراموش کرنا غفلت، لاپروائی ہے، امن وامان کی بگڑتی صورتحال تشویشناک ہے، اس پر غور کرنا ہوگا کہ یہ واقعات دوبارہ کیوں ہورہے ہیں۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بھی داتا در بار کے باہر ہونیوالے دہشت گردی کے واقعے کی شدید مذمت کی اور میو اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی۔

میڈیا سے گفتگو میں چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے مقد س مہینے میں دہشت گردی کرنیوالے وحشی در ندے ہیں, پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے امن دشمنوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے.

انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کے خاندانوں کے غم میں ہم سب برابر کے شر یک ہیں۔

مزیدپڑھیں: بلوچستان میں 2 دھماکے، سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے میو ہسپتال میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ داتا دربار واقعہ کے 40 مریضوں کو میو ہسپتال لایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کی تکلیف میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔