مشیر خزانہ سے اختلافات، سیکریٹری خزانہ کو عہدے سے ہٹادیا گیا

اپ ڈیٹ 23 مئ 2019

ای میل

ڈاکٹر حفیظ شیخ کی سفارش پر یونس ڈھاگا کو عہدے سے ہٹایا گیا، ذرائع— فوٹو: بشکریہ وزات خزانہ
ڈاکٹر حفیظ شیخ کی سفارش پر یونس ڈھاگا کو عہدے سے ہٹایا گیا، ذرائع— فوٹو: بشکریہ وزات خزانہ

وفاقی حکومت نے یونس ڈھاگا کو سیکریٹری خزانہ کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے سیکریٹری کابینہ ڈویژن نوید کامران بلوچ کو نیا سیکریٹری تعینات کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی سفارش پر یونس ڈھاگا کو عہدے سے ہٹایا گیا اور انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ یونس ڈھاگا اور مشیر خزانہ کے مابین بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام سمیت مختلف امور پر اختلافات تھے۔

مزید پڑھیں: چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ کے استعفے کے بعد سیکریٹری خزانہ کی تبدیلی کا امکان

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تبادلوں اور تقرریوں کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے نوید کامران بلوچ سے سیکریٹری کابینہ ڈویژن کا عہدہ واپس لے کر سیکریٹری خزانہ تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نوید کامران بلوچ خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری کے طور پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں، انہوں نے 22 اکتوبر 1985 کو سول سروس میں ملازمت اختیار کی تھی۔

وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس ) میں 22 گریڈ افسر بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے سیکریٹری نینشنل ہیلتھ سروسز، سیکریٹری ریگولیشن کوآرڈینشین ڈویژن کی خدمات بھی سرانجام دی ہیں۔

دوسری جانب معروف افضل جو سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن ہیں انہیں نوید کامران بلوچ کی جگہ سیکریٹری کابینہ ڈویژن تعینات کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مارچ میں عارف احمد خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یونس ڈھاگا سیکریٹری خزانہ کے عہدے پر تعینات ہوں گے۔

یونس ڈھاگا کو ایک ایسے وقت میں عہدے سے ہٹایا گیا ہے جب گزشتہ روز سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین نے 8 ماہ بعد ہی عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

اس سے قبل ڈان اخبار کی رپورٹ میں یونس ڈھاگا کی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ یونس ڈھاگا کا ماننا ہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے پاکستان کے لیے نامناسب معاہدے پر مذاکرات کیے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف مستعفی

مشیر خزانہ اور سیکریٹری خزانہ کے درمیان اختلافات آئی ایم ایف سے مذاکرات کے آخری مرحلے میں پیدا ہوئے تھے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ 'سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی زیرِ صدارت ٹیم، جس میں یونس ڈھاگا بھی شامل تھے، اس میں آئی ایم ایف پروگرام کو آسان بنایا گیا تھا'۔

دوسری جانب حفیظ شیخ پروگرام کو ' فرنٹ لوڈڈ ' چاہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے مشکل اصلاحات کو طویل عرصے کے بجائے پہلے مکمل کرنا چاہتے ہیں۔

اسی وجہ سے مشیر خزانہ اور سیکریٹری خزانہ میں اختلافات پیدا ہوئے اور آئی ایم پروگرام طے ہونے سے قبل آخری چند مراحل میں یونس ڈھاگا نے کوئی کردار بھی ادا نہیں کیا تھا۔