سوڈان میں مظاہرین کا فوج کے خلاف ’سول نافرمانی‘ کا اعلان

اپ ڈیٹ 09 جون 2019

ای میل

سول نافرمانی کی پرامن مہم کسی بھی طاقتور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتی ہے، مظاہرین—فوٹو: اےایف پی
سول نافرمانی کی پرامن مہم کسی بھی طاقتور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتی ہے، مظاہرین—فوٹو: اےایف پی

سوڈان میں مظاہرین کے گروہ نے فوجی جنرل کی جانب سے اقتدار سول حکومت کو منتقل نہ کرنے تک قومی سطح پر ’سول نافرمانی‘ مہم کا اعلان کردیا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے ’اےایف پی‘ کے مطابق دارالحکومت خرطوم میں مسلح افواج اور احتجاجی مظاہرین کی جھڑپوں میں 100 سے زائد ہلاکتوں کے بعد احتجاجی گروپ سوڈانی پروفیشنل ایسوسی ایشن (ایس پی اے) نے سول نافرمانی کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان: عوام نے فوجی حکومت کو بھی مسترد کردیا

خیال رہے کہ 11 اپریل کو سوڈان کی فوج نے ملک میں جاری مظاہروں کے باعث 30 سال سے برسر اقتدار صدر عمر البشیر کو برطرف کرکے گرفتار کرلیا تھا اور اقتدار بھی سنبھال لیا تھا۔

ایس پی اے نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ سول نافرمانی مہم کا آغاز اتوار (آج) سے ہوگا اور سول حکومت کی جانب سے ریاستی ٹی وی پر اقتدار حاصل کرنے تک مہم جاری رہے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ’سول نافرمانی کی پرامن مہم دنیا میں کسی بھی طاقتور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتی ہے‘۔

واضح رہے کہ خرطوم میں مسلح افواج اور احتجاجی مظاہرین کی جھڑپوں سے پورے شہر کی مرکزی شاہراہیں اور چوک تباہ کردی گئی تھیں۔

مزیدپڑھیں: سوڈان میں 29 سال سے قائم صدارت کو خطرہ، ہزاروں افراد کا احتجاج

سوڈانی حکام نے اعتراف کیا کہ 'جھڑپ میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے مگر تعداد 100 سے تجاوز نہیں کی'۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مشین گن اور راکٹ لانچر سے لیس ریپڈ سپورٹ فورسز کے اہلکار خرطوم کی سڑکوں پر موجود ہیں۔

اس کے علاوہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آرمی ہیڈ کوارٹرز کے باہر طویل عرصے سے چلنے والے دھرنے پر چھاپے مارے گئے جس میں حقوق کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین اور شہریوں پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔

سوڈان میں ہو کیا رہا ہے؟

11 اپریل کو سوڈان کی فوج نے ملک میں جاری مظاہروں کے باعث 30 سال سے برسر اقتدار صدر عمر البشیر کو برطرف کرکے گرفتار کرلیا تھا اور اقتدار بھی سنبھال لیا تھا۔

وزیر دفاع نے ملک میں 2 سال کے لیے فوجی حکمرانی کا اعلان کرتے ہوئے سول جمہوری تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو مشتعل ہونے سے روکنے کے لیے ایمرجنسی بھی نافذ کردی تھی۔

تاہم سوڈان کے وزیر دفاع جنرل عود ابن عوف نے 12 اپریل کو ملٹری کونسل کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھایا تھا تاہم وہ اگلے ہی دن عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے جس کے بعد 13 اپریل کو جنرل عبدالفتح برہان نے حلف اٹھایا۔

فوج کی جانب سے صدر عمر البشیر کا تختہ الٹنے پر ہزاروں مظاہروں نے دارالحکومت خرطوم کے وسط کی طرف مارچ کیا تھا اور صدر کی برطرفی کی خوشیاں منائی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان: عوام نے فوجی حکومت کو بھی مسترد کردیا

عود محمد ابن عوف نے کہا تھا کہ فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بنائی جانے والی ملٹری کونسل آئندہ 2 سال تک حکومت کرے گی جس کے بعد ’ شفاف اور منصفانہ انتخابات کروائے جائیں گے‘۔

انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ فوج نے آئین معطل کردیا، حکومت تحلیل کردی اور 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی بھی نافد کردی، تاہم صدر عمرالبشیر کی برطرفی کے بعد فوجی نظام سنبھالنے پر بھی مظاہرین نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔

احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے صدر کی برطرفی کے بعد تشکیل دی گئی ملٹری کونسل کو بھی مسترد کردیا تھا۔

مظاہرین نے ملک میں جمہوری نظام کے نفاذ کے لیے سول قیادت اور سوڈان میں جاری تنازعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا جن کی وجہ سے ملک بدترین غربت کا شکار ہے۔

تاہم 4 جون کو سیکیورٹی فورسز نے ملٹری ہیڈکوارٹرز کے باہر جمع مظاہرین پر فائر کھول دیئے تھے، جس میں ابتدائی طور پر 30 افراد ہلاک ہوئے۔

گزشتہ روز سوڈان کے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دارالحکومت خرطوم میں دریائے نیل سے 40 لاشیں نکالی گئیں جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کے مظاہرین پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100 بتائی گئی۔