بھارت کی مودی کی پرواز کیلئے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست

اپ ڈیٹ 13 جون 2019

ای میل

21 اور 22 مئی کو بھی پاکستان نے بشکک جانے کے لیے بھارتی وزیر خارجہ کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی تھی — فائل فوٹو/اے ایف پی
21 اور 22 مئی کو بھی پاکستان نے بشکک جانے کے لیے بھارتی وزیر خارجہ کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی تھی — فائل فوٹو/اے ایف پی

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ کی پروازوں کے لئے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست کی ہے۔

نئی دہلی کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کرغزستان میں ہونے والی کانفرنس کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کے بیان پر دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’اب بھارت کون سا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے، یہ اس ہی پر منحصر ہے‘۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ضابطے کی مطلوبہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد آج ان پروازوں سے متعلق اجازت دی گئی ہے‘۔

مزید پڑھیں: ’مودی کا طیارہ اجازت ملنے کے باوجود پاکستان سے نہیں گزرے گا‘

انہوں نے کہا کہ ’قبل ازیں 21 اور 22 مئی کو بشکک جانے کے لیے بھی پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کی پرواز کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی تھی‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ 'بھارتی حکومت نے وی وی آئی پی طیارے کے لیے 2 راستے بتائے تھے جن میں سے اومان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک سے بشکک جانے کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے'۔

یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا تھا کہ ایوی ایشن ڈویژن کو اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے مودی کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی درخواست موصول ہوئی تھی جس کے بعد وزیر اعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نریندر مودی کے لیے فضائی حدود کھولنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بھارتی وزیراعظم کو فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ

سرکاری ذرائع نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بشکک جانے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ بھارتی طیارے کو پاکستانی فضائی حدود سے گزرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے جو جنوبی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ ان میں سے ایک ہے جسے پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم کے طیارے کے لیے کھولا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں کراچی اور ہنگول سے گزرتے ہوئے اومان میں داخل ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے 26 فروری کو بھارتی فضائیہ کی در اندازی اور بالاکوٹ کے قریب پے لوڈ گرانے کے واقعے کے بعد سے بھارت کے لیے مکمل طور پر اپنی فضائی حدود بند کررکھی ہے تاہم حکومت نے گزشتہ ماہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو ایس سی او اجلاس کے لیے بشکک جانے کے لیے اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔