'الزام لگانے والی خاتون اس لائق نہیں کہ میں اسے جنسی ہراساں کروں'

ای میل

امریکی صدر نے خود پر لگے الزامات مسترد کردیے —فوٹو/اسکرین شاٹ
امریکی صدر نے خود پر لگے الزامات مسترد کردیے —فوٹو/اسکرین شاٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلے میگزین کی کالم نگار کی جانب سے خود پر لگائے جنسی ہراساں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کی 'ٹائپ' کی نہیں اور نہ ہی انہوں نے انہیں ہراساں کیا۔

ایلے میگزین کی کالم نگار ای جین کیرل نے کئی سال تک ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔

کیرل کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں فٹنگ روم میں زور سے دھکا دیا، جبکہ ان کا سر بھی دیوار سے دے مارا۔

مزید پڑھیں: کالم نگار کا ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی زیادتی کا الزام

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام الزامات کو بےبنیاد ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو کیرل اس لائق ہیں کہ وہ انہیں ہراساں کرنے کا سوچیں اور نہ ہی ایسا کبھی کچھ ہوا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کیرل جھوٹی کہانی بنا کر ان پر الزام لگا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'میں اس خاتون کے بارے میں کچھ نہیں جانتا، مجھے حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ لوگ اس قسم کے جھوٹے الزامات لگا دیتے ہیں'۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر ماضی میں کئی اور خواتین بھی جنسی ہراساں کرنے کے الزامات لگا چکی ہیں۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ 'یقین کریں میں کبھی اس خاتون کا انتخاب بھی نہیں کرتا'۔

دوسری جانب کیرل نے ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا کہ 1995 امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ ایک اسٹور میں چند نامناسب ملبوسات خریدنے کے خواہش مند تھے اور انہوں نے کیرل سے گزارش کی کہ وہ انہیں یہ لباس پہن کر بھی دکھائیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ

کیرل کے مطابق اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی شادی امریکی اداکارہ مارلا میپلز سے ہوئی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس موقع پر ٹرمپ نے دروازہ بند کیا اور انہیں دیوار کی جانب دھکا دیا، تاہم انہوں نے ٹرمپ کا پورا مقابلہ کیا۔

ای جین کیرل نے ایک کتاب 'ہیڈیس مین' بھی تحریر کی جس میں انہوں نے اپنی زندگی میں آئے ان تمام مرد حضرات کا زکر کیا جنہوں نے کسی نہ کسی موقع پر انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔

اس کتاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ کئی اور مردوں پر کیرل نے الزامات لگائے۔

واضح رہے کہ 2016 کی صدارتی مہم کے دوران ایک درجن سے زائد خواتین نے ڈونلڈ ٹرمپ پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تمام خواتین جھوٹ بول رہی ہیں۔

اس سے قبل سامنے آنے والے تمام کیسز میں ہراساں کیے جانے کے الزامات شامل تھے، تاہم اس نئے کیس میں ان پر زیادتی کا الزام عائد کیا گیا۔

خیال رہے کہ 2015 میں ایک متنازع انٹرویو کے دوران ٹی وی میزبان بیلی بس کے ایک سوال پر ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواتین کو ان کے مخصوص اعضا سے پکڑنے سے متعلق بیان دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ کسی خوبصورت خاتون کو دیکھتے ہیں تو 'ان کا جی چاہتا ہے کہ اس کے جسم کو چھوئیں'۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے میزبان کو بتایا تھا کہ 'آپ کا جو جی چاہے کریں' تاہم مذکورہ میزبان کو این بی سی نے اس متنازع انٹرویو کے بعد نوکری سے فارغ کردیا تھا۔