ایران کا یورینیم افزودگی کی حد سے تجاوز کرنے کا نیا اعلان

اپ ڈیٹ 07 جولائ 2019

ای میل

کہ نئی سطح پر یورنیم افزودہ کرنے سے متعلق تکنیکی تیاریاں چند گھنٹوں میں مکمل ہوجائے گیں—  فوٹو: اے پی
کہ نئی سطح پر یورنیم افزودہ کرنے سے متعلق تکنیکی تیاریاں چند گھنٹوں میں مکمل ہوجائے گیں— فوٹو: اے پی

ایران نے ’ چند گھنٹوں ‘ میں 2015 میں عالمی طاقتوں سے کیے گئے معاہدے کے تحت یورینیم افزودہ کرنے کی حد سے تجاوز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی اٹامک ایجنسی کے ترجمان بہروز کمال وندی نے کہا کہ نئی سطح پر یورنیم افزودہ کرنے سے متعلق تکنیکی تیاریاں چند گھنٹوں میں مکمل ہوجائیں گی اور 3.67 فیصد سے زیادہ یورینیم افزودہ کی جائے گی۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’کل علی الصبح جب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نمونے حاصل کرے گی تو ہم 3.67 فیصد سے آگے بڑھ چکے ہوں گے‘۔

بہروز کمال وندی نے کہا کہ ’ہم یورینیم کسی بھی سطح اور مقدار میں افزودہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس اراغچی نے کہا کہ تہران ہر 60 دن بعد معاہدے پر عمل درآمد سے واپسی کو جاری رکھے گا جب تک تمام فریقین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں سے معاہدے کو بچانے کی کوشش نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں: ایران جتنی چاہے یورینیم افزودہ کرے گا، حسن روحانی

عباس اراغچی نے کہا کہ یورپی ممالک اپنے وعدوں پر پورا اترنے میں ناکام ہوگئے اس لیے وہ بھی ذمہ دار ہیں، اس کے باوجود سفارتی تعلقات کے دروازے کھلے ہیں لیکن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپ میں معاہدے کو بچانے کی سیاسی خواہش ہے، انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیوں کے متبادل حل کے لیے تجارتی طریقہ موجود ہے لیکن وہ اس وقت تک کارآمد نہیں جب تک یورپی ممالک اسے ایرانی تیل کی خریداری میں استعمال نہیں کرتے۔

عباس اراغچی نے مزید کہا کہ یہ مذاکرات کا موقع ہے اور اگر ہمارے شراکت دار اس موقع کو استعمال کرنے میں ناکام ہوگئے تو انہیں معاہدے سے دستبرداری کے عزم میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ایران اپنے تمام اقدامات کو واپس لے سکتا ہے اگر یورپی ممالک اپنے وعدوں پر پورا اتریں'۔

یہ بھی پڑھیں: یورینیم افزودگی کا تنازع: ایران آگ سے کھیل رہا ہے، امریکا

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے 3 فریقین کے پاس ٹھوس سیاسی موقف سے گریز، معاہدے کو بچانے اور امریکی یک طرفہ اقدامات کو روکنے کے لیے کوئی عذر موجود نہیں ہے۔

خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر جوہری معاہدے سے دست برداری اختیار کرلی تھی چنانچہ اب لگ رہا ہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے امریکی پابندی کے باجود عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے کے طریقہ کار کی پیش کش نہیں کی جائے گی۔

جوہری معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی کے لیے 3.67 فیصد پر رضامندی کا اظہار کیا تھا جو جوہری توانائی پلانٹ کے لیے کافی ہے لیکن ہتھیاروں کے لیے درکار 90 فیصد سے بہت کم ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے چند روز قبل خبردار کیا تھا کہ تہران یورنیم کو افزودگی اس حد تک بڑھا دے گا جتنی ’مقدار ہم چاہیں‘ گے۔