جعلی اکاؤنٹس کیس: سندھ بینک کے صدر سمیت 3 افسران راہداری ریمانڈ منظور

11 جولائ 2019

ای میل

جعلی اکاؤنٹس کیس میں کئی بڑے نام گرفتار اور ریمانڈ پر ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
جعلی اکاؤنٹس کیس میں کئی بڑے نام گرفتار اور ریمانڈ پر ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سندھ بینک کے صدر سمیت 3 ملزمان کو 5 روزہ راہداری ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

شہر قائد کی عدالت کے منتظم جج نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی جہاں سندھ بینک کے گرفتار صدر طارق احسن، ایگزیکٹو نائب صد سید ندیم الطاف اور سابق صدر بلال شیخ شامل ہیں۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان کا جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں 5 دن کا راہداری ریمانڈ دیا جائے، اس پر ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ہم آج اپنے موکل کی ٹکٹ کروا دیتے ہیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پیر تک راہداری ریمانڈ دیا جائے کیونکہ ہفتے کو تعطیل ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: سندھ بینک کے صدر سمیت 3 افسران گرفتار

نیب پراسیکیوٹر کے جواب پر ملزمان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ بلال شیخ کو ادویات اور دیگر اشیا دینے کی اجازت دی جائے، جس کے بعد عدالت نے ملزمان کے گھر والوں سے ان کی بات کروانے کی ہدایت کردی۔

ساتھ ہی عدالت نے ملزمان کو 5 روزہ راہداری ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا، جس کے بعد ان تمام ملزمان کو اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 10 جولائی کو احتساب کے قومی ادارے نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کے بزنس پارٹنر اور سندھ بینک کے صدر سمیت 3 افسران کو کراچی سے گرفتار کیا تھا۔

اس بارے میں نیب اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ نیب راولپنڈی نے نیب کراچی کی مدد سے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سندھ بینک کے صدر طاہر احسن کو گرفتار کیا جبکہ بینک کے ایگزیکٹو نائب صدر سید ندیم الطاف اور سابق صدر بلال شیخ کو بھی حراست میں لے لیا۔

بیان میں بتایا گیا تھا کہ چیئرمین نیب کی ہدایت کے مطابق نیب راولپنڈی نے نیب کراچی کے تعاون سے ملزمان کو گرفتار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کا مزید سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ

خیال رہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور گرفتار ہیں جبکہ ان کے علاوہ دیگر افراد کو بھی نیب حراست میں لے چکا ہے۔

کیس کا پس منظر

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی گئیں۔

ابتدائی طور پر یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت 35 ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔

مزید پڑھیں: نیب کا پرویز خٹک، سراج درانی، وسیم اختر کے خلاف تحقیقات کا حکم

اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے نیب کے سامنے بیانات قلمبند کرادیے

بعد ازاں نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سیکریٹری آفتاب میمن، شبیر بمباٹ، حسن میمن اور جبار میمن کو گرفتار کر کے 14 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا، ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد ان ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

تمام معاملے کے بعد سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ تحقیقات ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی اور ساتھ ہی آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور و دیگر ملزمان کی ضمانتیں واپس لیتے ہوئے زر ضمانت خارج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا تھا.