بچوں کے منہ کی صفائی کرنے کے 4 آسان طریقے

20 اگست 2019

ای میل

اس تحریر میں ہم آپ کو 4 ایسے طریقے بتا رہے ہیں جن کی مدد سے آپ اپنے چھوٹے بچوں کو دانتوں کی سڑن سے بچاسکتے ہیں—شٹر اسٹاک
اس تحریر میں ہم آپ کو 4 ایسے طریقے بتا رہے ہیں جن کی مدد سے آپ اپنے چھوٹے بچوں کو دانتوں کی سڑن سے بچاسکتے ہیں—شٹر اسٹاک

بچوں اور بڑوں دونوں کو اپنے منہ کی صفائی کا لازمی خیال رکھنا چاہیے۔ دانتوں کی سڑن، مسوڑوں کی بیماریاں اور سانس کی بُو دانتوں سے متعلق چند عام مسائل ہیں۔

منہ کی مناسب صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان مسائل کا سامنا کرتی ہے۔

منہ کے مختلف مسائل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ابتدائی عمر سے ہی منہ کی صفائی کا خیال رکھا جائے۔ لہٰذا بطورِ والدین آپ کو اپنے بچے کے دانتوں کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ انہیں زندگی میں آگے چل کر کسی قسم کی منہ کی صحت کے حوالے سے پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید پڑھیے: بچوں کو ٹھوس غذائیں کب متعارف کروانی چاہیئں؟

اس تحریر میں ہم آپ کو 4 ایسے طریقے بتا رہے ہیں جن کی مدد سے آپ اپنے چھوٹے بچوں کو دانتوں کی سڑن سے بچاسکتے ہیں۔

دانتوں کا چیک اپ معمول بنائیے

تواتر کے ساتھ دانتوں کا چیک اپ بچوں کے دانتوں کو سڑن سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ بچوں میں دانتوں کی سڑن کی شکایت کا انتظار مت کیجیے بلکہ چیک اپ کو معمول بنائیے۔ بچے کے پہلے دانت نکلنے کے ساتھ ہی اسے دندان سازوں کے پاس لے جانا شروع کردیجیے۔ احتیاط برتنے سے مستقبل میں پیچیدہ مسائل اور زیادہ پیسوں کے ضیاع سے بھی بچا جاسکتا ہے۔

روزانہ منہ کی صفائی

روزانہ اپنے بچے کے منہ کی صفائی کیجیے، چاہے اسے ایک دانت بھی نہ آیا ہو۔ بچوں کو دودھ پلانے کے بعد ان کے مسوڑوں کی صفائی کیجیے۔ اس مقصد کے لیے آپ انگلی پر گیلا کپڑا لپیٹ کر مسوڑوں پر نفاست کے ساتھ بھی پھیر سکتے ہیں، بس اس دوران یہ دھیان رکھیے کہ بچوں کے مسوڑوں پر زیادہ دباؤ نہ ڈالا جا رہا ہو۔

آپ انگلی پر گیلا کپڑا لپیٹ کر مسوڑوں پر نفاست کے ساتھ بھی پھیر سکتے ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک
آپ انگلی پر گیلا کپڑا لپیٹ کر مسوڑوں پر نفاست کے ساتھ بھی پھیر سکتے ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک

جیسے ہی بچوں کے دانت نکل آئیں تو روزانہ دن میں 2 بار نونہالوں کے لیے دستیاب خصوصی ٹوتھ برش اور ہلکے (Miled) ٹوتھ پیسٹ سے ان کے دانت صاف کریں، اور جب آپ کے بچے کے 2 دانت ایک دوسرے کو چھونا شروع کردیں تو ان کی دھاگے سے فلاسنگ بھی شروع کردیجیے۔

سوتے وقت فیڈر نہ دیں

جب بچوں کے سونے کا وقت ہو تو انہیں جوس اور فارمولہ دودھ سے بھری فیڈر نہ دیجیے۔ کیونکہ ان میں شکر شامل ہوتی ہے جو ان کے دانتوں پر چپک جاتی ہے اور پھر دانتوں کی سڑن کا سبب بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: آئیڈیل والدین کی 7 عادات

آپ اپنے بچوں کو بستر پر پانی سے بھری فیڈر دے سکتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اپنے بچے کو چوسنی دینے سے بھی گریز کریں۔ بچوں کو چوسنی کے استعمال کی عادت نہیں ہونے دیں کیونکہ اس سے دانتوں کی شکل و صورت تبدیل ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔

میٹھی دوائیوں کا استعمال

بچوں کی دوائیوں میں عام طور پر شکر اور فلیور شامل ہوتے ہیں۔ جب یہ ان کے دانتوں پر چپک جاتے ہیں تو دانتوں کی سڑن کا خدشہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ جو بچے استھما جیسے امراض اور مسائلِ قلب کے لیے ادویات کا استعمال کرتے ہیں ان میں اکثر دانتوں کی سڑن کی شرح زیادہ پائی گئی ہے۔ اگر آپ کا بچہ ایک طویل عرصے سے ادویات استعمال کر رہا ہے تو آپ اس حوالے سے اپنے ڈینٹسٹ سے مشورہ بھی لے سکتے ہیں۔