مقبوضہ کشمیر میں کرفیو برقرار، کچھ مقامات پر مواصلاتی نظام جزوی بحال

اپ ڈیٹ 17 اگست 2019

ای میل

کچھ مقامات پر نقل و حرکت میں نمی دیکھنے میں آئی—فوٹو: اے ایف پی
کچھ مقامات پر نقل و حرکت میں نمی دیکھنے میں آئی—فوٹو: اے ایف پی

بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا سلسلہ 13ویں روز بھی جاری ہے، تاہم کچھ مقامات پر پابندیوں میں نرمی کرنے اور مواصلاتی رابطے جزوی طور پر بحال ہونے کی اطلاعات ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ وادی کی ختم کی گئی خصوصی حیثیت کے بعد سے یہ سب سے بڑی نرمی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کشمیریوں کی جانب سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ سری نگر میں گزشتہ شب کشمیریوں نے 5 دہائیوں میں مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہونے پر خوشی کا اظہار بھی کیا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی

اس بارے میں 2 پولیس عہدیداروں اور کئی عینی شاہدین نے رائٹرز کو بتایا کہ سری نگر کے مختلف حصوں میں احتجاج اور تقریبات دیکھی گئیں۔

تاہم سری نگر کا دورہ کرنے والے ایک سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں مقامی رہائشیوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے کے واقعات میں کمی دیکھی گئی۔

عینی شاہد کے کا کہنا تھا کہ سیکڑوں افراد نے سری نگر کے راجوری کدل علاقے میں مارچ کیا اور ان کے پاس کچھ پٹاخے بھی تھے جبکہ 2 عینی شاہدین کے مطابق یہ افراد اپنی خوشی کے دوران پاکستان کی حمایت جبکہ بھارت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی حکومت گزشتہ 2 ہفتوں سے کرفیو کے نفاذ سے انکار کرتی نظر آئی لیکن کئی مواقع پر لوگوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات دیے گئے۔

مقبوضہ کشمیر میں حکومت کا کہنا تھا کہ وادی میں 100 یا اس سے زائد پولیس اسٹیشن میں سے 35 پر سے پابندیاں اٹھالی گئی تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فکسڈ لائن فونز کے لیے زیادہ تر ٹیلی فون ایکسچینجز اتوار کی رات تک کام کرنے لگیں گی جبکہ جموں کے کچھ اضلاع میں موبائل سروسز بحال کردی گئی ہے۔

تاہم ان تمام دعووں کے باوجود 2 عینی شاہدین نے رائٹرز کو بتایا کہ نرمی کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں صورتحال معمول پر آنے میں کافی وقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سری نگر کے کچھ حصوں اور حساس علاقوں سمیت وادی کے زیادہ تر حصوں میں اب بھی لاک ڈاؤن ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کب پورے علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کا نظام بحال ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: 'سلامتی کونسل کے اراکین نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا'

علاوہ ازیں 500 سے زائد زیادہ یا مقامی رہنماؤں اور کارکنان اب بھی حراست میں ہیں جبکہ ان میں سے کچھ کو مقبوضہ کشمیر سے باہر جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ 5 اگست کو بھارت نے ایک صدارتی فرمان کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا اور وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے وادی میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں موبائل، انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل کردیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کیا ہے؟

واضح رہے کہ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

اس خصوصی دفعہ کے تحت دفاعی، مالیات، خارجہ امور وغیرہ کو چھوڑ کر کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت، مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر بھارتی قوانین کا نفاذ ریاست جموں و کشمیر میں نہیں کر سکتی۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی ریاست یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے، تاہم آرٹیکل 370 کے تحت بھارتی حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی۔

مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 35 'اے' اسی آرٹیکل کا حصہ ہے جو ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو ریاست کے مستقل شہریوں کے خصوصی حقوق اور استحقاق کی تعریف کے اختیارات دیتا ہے۔

1954 کے صدارتی حکم نامے کے تحت آرٹیکل 35 'اے' آئین میں شامل کیا گیا جو مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو خصوصی حقوق اور استحقاق فراہم کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا سیکیورٹی کونسل سے مسئلہ کشمیر پر ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ

اس آرٹیکل کے مطابق صرف مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والا شخص ہی وہاں کا شہری ہو سکتا ہے۔

آرٹیکل 35 'اے' کے تحت مقبوضہ وادی کے باہر کے کسی شہری سے شادی کرنے والی خواتین جائیداد کے حقوق سے محروم رہتی ہیں، جبکہ آئین کے تحت بھارت کی کسی اور ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش اختیار کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

آئین کے آرٹیکل 35 'اے' کے تحت مقبوضہ کشمیر کی حکومت کسی اور ریاست کے شہری کو اپنی ریاست میں ملازمت بھی نہیں دے سکتی۔