خاتون صحافی کا گارمنٹ اسٹور پرخفیہ کیمرے کے ذریعے ریکارڈنگ کرنے کا الزام

ای میل

خاتون نے اسٹور ملازمین کے خلاف مقدمہ دائر کروادیا—فوٹو: انڈیا ٹوڈے
خاتون نے اسٹور ملازمین کے خلاف مقدمہ دائر کروادیا—فوٹو: انڈیا ٹوڈے

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی نوجوان خاتون صحافی نے زیر جامہ کے ایک اسٹور ملازمین پر خفیہ کیمروں کے ذریعے ریکارڈنگ کرنے اور ان کی برہنہ تصاویر براہ راست دیکھنے کا الزام عائد کیا ہے۔

خاتون صحافی نے دعویٰ کیا کہ زیر جامہ (انڈر گارمنٹ) اسٹور ملازمین نے انہیں اس وقت برہنہ حالت میں دیکھا جب وہ اسٹور میں کپڑے تبدیل کرنے گئیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق 27 سالہ خاتون غلطی سے کپڑے تبدیل کرنے والے کمرے کے بجائے اسٹور کے دوسرے کمرے میں چلی گئی تھیں، جہاں متعدد خفیہ کیمرے لگے ہوئے تھے اور ان کیمروں کے ذریعے اسٹور ملازمین آنے جانے والوں پر نظر رکھتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ خاتون کو کپڑے تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ کمرے میں جانے کو کہا گیا تھا، تاہم وہ غلطی سے دوسرے کمرےمیں چلی گئیں اور جاتے ہی کپڑے بدل کر چیک کرنے لگ گئیں۔

خاتون کے مطابق جب انہوں نے کپڑے بدل کر دیکھے تو ان کے پاس ایک خاتون ملازم آئیں اور انہیں اس کمرے سے فوری نکل کر دوسرے کمرے میں جانے کا کہا، جس پر انہیں احساس ہوا کہ انہیں غلط کمرے میں بھیجا گیا ہے۔

خاتون کے مطابق انہوں نے دیکھا کہ وہ جہاں کپڑے بدل رہی تھیں، وہاں متعدد سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے۔

خاتون صحافی کے مطابق وہ بعد ازاں اسٹور ملازمین کے پاس گئیں اور ان سے فوری طور پر نامناسب تصاویر ڈیلیٹ کرنے کے لیے کہا، تاہم ملازمین نے ایسا کرنے سے انکار کیا لیکن بعد ازاں ملازمین تصاویر ڈیلیٹ کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔

خاتون نے دعویٰ کیا کہ انہیں شک ہے کہ ملازمین نے ان کی برہنہ تصاویر ڈیلیٹ نہیں کی ہیں اور یہ کہ اسٹور ملازمین کافی دیر تک انہیں کپڑے بدلتے ہوئے براہ راست دیکھ رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ واقعہ 31 اگست کو پیش آیا، تاہم اس کا مقدمہ 3 دن قبل دائر کیا گیا اور پولیس نے تاحال کوئی گرفتاری نہیں کی۔

پولیس کے مطابق وہ معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں، کیوں کہ بظاہر یہ سب کچھ خاتون کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔

اسٹور ملازمین کے مطابق انہوں نے خاتون کو درست کمرے میں بھیجا تھا مگر وہ خود غلط کمرے میں گئیں اور یہ کہ اسٹور میں ہر جگہ نوٹس چسپاں ہیں، جن کی مدد سے ہر بات سمجھی جا سکتی ہے۔

ملازمین نے اعتراف کیا کہ جیسے ہی انہوں نے کیمروں میں خاتون کو غلط کمرے میں کپڑے تبدیل کرتے ہوئے دیکھا تو ان کے پاس خاتون ملازم کو بھیج کر انہیں درست کمرے میں جانے کے لیے کہا گیا۔

متاثرہ خاتون صحافی نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ان کی تصاویر لیک کردی جائیں گی۔